Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

پنجاب پولیس یونیورسٹی کا امن تباہ کرنے والوں مجرموں کو پکڑے اور جمعیت کے بے قصور طلبہ کو فی الفور رہا کرے


لاہور24جنوری 2018ء: امیر جماعت اسلامی لاہور ذکراللہ مجاہد نے کہاہے کہ جامعہ پنجاب میں جمعیت کے مثبت اور پرامن پروگرام پر لسانی شرپسندوں کا حملہ اور ان کی منفی سرگرمیاں قابل مذمت ہے ۔ حکومتی اور انتظامی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے گروہ تعلیمی اداروں کیلئے نقصان دہ ہوتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار گذشتہ روز انہوں نے پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طلبہ کے پروگرام پر غنڈہ گرد عناصر کے حملے اورجمعیت کے طلبہ کی گرفتاریوں و ناجائز مقدمات پر اپنے رد عمل دیتے ہوئے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومتی اور انتظامی سرپرستی میں پروان چڑھنے والے ایسے گروہ تعلیمی اداروں کیلئے نقصان زدہ ہیں ۔ پنجاب یونیورسٹی تعلیم و تربیت کا شاندار ادارہ ہے جس نے اس ملک کو ہر شعبہ زندگی میں لیڈر شپ مہیا کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ پنجاب میں فسادات حکومتی سازش ہے جس کا مقصداہم ملکی ایشوز سے عوامی کی توجہ ہٹانا ہے۔ ہم اس کی مذمت کرتے ہیں ۔پنجاب پولیس یونیورسٹی کا امن تباہ کرنے والے لسانی غنڈوں اور مجرموں کو پکڑنے کی بجائے الٹا جمعیت کے نوجوانوں کو پکڑ رہی ہے اور ان پر جھوٹے مقدمات بنائے جا رہے ہیں جو غیر منصفانہ رویہ ہے ۔ پنجاب یونیورسٹی کے امن کو تباہ کرنے کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے ؟ کہ حکومتی من مانیوں اور مفاد پرستی کی تکمیل نہ کرنے کی پاداش میں ایک انتہائی قابل و ائس چانسلر استعفیٰ دے کر جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کو اس معاملے میں جانبدارانہ کردار ادا کرنے کی بجائے غنڈوں کی سرکوبی کیلئے اپنے کردار ادا کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تعلیمی اداروں میں امن اور تعلیمی ماحول چاہتی ہے تاکہ آج کے طالب علم کل کے قومی لیڈر بن سکیں ۔ ذکر اللہ مجاہد نے انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شرپسندوں کو پکڑا جائے اور پرامن اور بے قصور طلبہ کو فی الفور رہا کیا جائے ۔جماعت اسلامی تعلیمی اداروں میں سیاسی مداخلت کی مخالف اور طلبہ کی صحت مند اور مثبت تعلیمی سرگرمیوں کی حامی رہی ہے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس