Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرارداد برائے سانحہ قصور /مردان


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مردان میں 4سالہ عاصمہ اور قصور میں 7سالہ معصوم بچیوں کے ساتھ زیادتی کے بعد بہیمانہ قتل اور اس حوالے سے مظاہرہ کرنے والے افراد پر پولیس کی جانب سے فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد کی ہلاکت کی شدید مذمت کرتا ہے ۔اس افسوسناک واقعے نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے ۔المیہ یہ ہے کہ ایسی وارداتیں ملک بھر میں متواتر ہورہی ہیں جبکہ حکمرانوں کا کردار محض اخباری بیانات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے حکمرانوں کے دل مردہ ہو چکے ہیں اور وہ اپنی حقیقی ذمہ داریوں کو فراموش کرچکے ہیں ۔ موجودہ حالات نے ثابت کردیا ہے کہ اگر ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ کر دیا جاتا تو آج صورتحال مختلف ہوتی ۔مگر بدقسمتی سے اسلام کے نام پر وجو دمیں آنے والے پاکستان میں انگریزوں کا فرسودہ قانون رائج ہے ۔ملک بھر میں معصوم بچیوں کے ساتھ جتنے بھی جنسی استحصال کے واقعات رونما ہوئے ہیں ۔ان میں پولیس کی بے حسی اور مجرمانہ کردار کھل کر سامنے آیا ہے ۔اگر ملزمان کو اللہ اور اس کے رسول ؐ کے بنائے ہوئے قوانین کے مطابق عبرتناک سزادیدی جائے تو کسی دوسرے کو ایسا گناہ کرنے کی جرأت نہیں ہوگی۔

مرکزی مجلس شوریٰ واضح کرتی ہے کہ ان حالات میں معاشرتی اصلاح کے لئے پاکستان میں شرعی قوانین کانفاذ و اطلاق ضروری ہو چکا ہے اورقصور کے افسوسناک واقعہ کے خلاف چیف جسٹس آف سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار اور لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے از خود نوٹس لینا بروقت اور درست اقدام ہے۔پشاور ہائی کورٹ بھی مردان واقعہ کا فوری از خود نوٹس لے کر جلد انصاف کی فراہمی کا اہتمام کرے۔

مردان اور قصور میں معصوم بچیوں کے ساتھ پیش آنے والے یہ واقعات ،پہلی دفعہ پیش نہیں آئے بلکہ2015ء میں قصور میں ایک بڑا اسکینڈل سامنے آچکا ہے ۔ایک سال میں ضلع قصور میں 12سے زائد معصوم بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا جا چکا ہے اس طرح کے واقعات حکومتوں کے گڈگورنس کے دعوؤں پر سوالیہ نشان کے مترادف ہے معصوم بچیوں عاصمہ اور زینب کے ساتھ سفاکی اور درندگی کے واقعات نے پوری قوم کو جھنجھوڑکر رکھ دیا ہے ۔اگر پولیس روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہ کرتی اور سابقہ واقعات میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لے آتی تو معصوم عاصمہ اور زینب کے ساتھ ایسے واقعات رونما نہ ہوتے ۔حکومتوں کی جانب سے نوٹس لینا اور ڈی پی او کو ہٹانایا بیانات دینا محض دکھاوے کے اقدامات ہیں ۔اس سے قبل بھی وہ المناک واقعات پر ایسے ہی روایتی حربے استعمال کرتے رہے ہیں ۔پنجاب بھر میں زیادتی کے واقعات میں 200فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے ۔پنجاب میں 2017ء میں معصوم بچوں سے زیادتی کے 796واقعات ریکارڈ ہو چکے ہیں ۔پاکستان میں ساڑھے 7برسوں میں22528بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے واقعات ہوئے ۔قصور میں سات سالہ زینب اور مردان میں چار سالہ بچی عاصمہ زیادتی کے بعد قتل کردی گئیں۔یہ اتنے بڑے المیے ہیں کہ حکمرانوں کو شرم سے ڈوب مرنا چاہیے مگر افسوس سے کہناپڑتاہے کہ ’’حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے ۔ ‘‘

اجلاس محسوس کرتا ہے کہ ملک میں جرائم کی روز بروز بڑھتی ہوئی لہر کا بنیادی سبب خود وڈیروںوخواتین اور ،با اثرا فراد و حکمران جماعت سے وابستہ ممبران اسمبلی کی تقرریوں ،تبادلوں میں ہر سطح پر مداخلت ہے ۔میرٹ کے بجائے سفارشی بنیادوں پر بھرتی نے پولیس کو جرائم پیشہ افراد کو محفوظ کمین گاہ بنادیا ہے، جس کی واضح مثال حالیہ دونوں بچیوں کے ساتھ ظلم کے واقعات ہیں۔ جہاں سیاسی وابستگی اور سہارے کی بنیاد پر پولیس اہلکار اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں اورجرائم کے تما م کھرے انہی اہلکاروں کی طرف جا رہے ہیں ۔اگر غیر جانب دار ادارے اپنی تحقیق و تفتیش کا رخ ان کی طرف کریں تو مجرم ضرور پکڑے جائیں گے ۔

قصور واقعہ میں پولیس نے احتجاجی مظاہرہ پر سیدھی فائرنگ کی اور دو افراد کو شہید کیا۔ یہ وہ بدترین عمل ہے جس نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کی دلخراش یاد تازہ کر دی ۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ عوام کو نشانہ بنا کر قتل کرنا پولیس کا روایتی طریقہ بن چکا ہے ۔سوال یہ ہے کہ پولیس کوعوام کو بے دردی سے قتل کرنے کا لائسنس کس نے دیا ہے ؟سانحہ قصور میں ملوث اہلکاروں کواگرچہ گرفتار کر لیا گیا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ آئین و قانون کو پامال کرنے والوں اوراپنے اختیارات سے تجاوز کرنے والوں کو نشان عبرت بنادیاجائے ۔

اجلاس محسوس کرتا ہے کہ جس طرح کراچی میں بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے والے سرکاری اہلکار مجرموں کی سزائے موت صدر مملکت نے معاف کی ہے اس سے عوام پر سیدھی فائرنگ اور قانون سے تجاوز کرنے والے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی ہو گی اور لا قانونیت کے اس رجحان کو روکا نہ جا سکے گاجس کا تازہ اعادہ کراچی اور قصور کے واقعات میں دو بے گناہ شہریوں کے قتل کی صورت میں ہو چکا ہے ۔

اجلاس واضح کرنا چاہتاہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی الیکٹرانک میڈیا مادرپدر آزادی ، اخلاق سوز اشتہاری مہمات، مغربی تہذیب و روایات پر مبنی ڈرامے اور مخلوط پروگرامات جہاں ہماری اخلاقی قدروں کو پامال کررہے ہیں ۔وہیں معاشرے میں مذہب کی گرفت کو کمزور کرکے بدکرداری کا سیلاب بلا ہمارے اوپر مسلط کررہے ہیں اور یہی عورتوں کے اغوا، گینگ ریپ ، کمسن بچوں، بچیوں کے ساتھ زیادتی کے مسلسل واقعات کاحقیقی سبب ہے۔

مزید برآں یہ حالات واضح کررہے ہیں کہ احتساب ومواخذہ کا موجودہ نظام یکسر ناکام ہوچکاہے۔ اور اسلامی سزائوں کے نفاذ کی ضرورت دن بد بڑھتی جارہی ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ آئین پاکستان کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے اسلامی سزائوں کو نافذ کرکے ملک کے نظام عدل کو فعال اور مؤثر بنایا جائے۔

مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت اپنی بنیادی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے زینب سمیت دیگر معصوم بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے تمام واقعات میں ملوث مطلوب افراد کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچائے ۔ملک میں ڈھائی کروڑ بچے اسکول جانے کی عمر میں مختلف جگہوں پر مزدوری کرنے پر مجبور ہیں اور ان مقامات پر ان کو ہراساں کیاجاتا ہے ۔حکومت ان بچوں پر خصوصی توجہ دے ۔

اجلاس سانحہ قصور ومردان کی آڑ میں جنسی تعلیم کو شامل نصاب کرنے کے عالمی ایجنڈے کی تکمیل کی کاوشوں کی شدید مذمت کرتا ہے ۔یہ عمل جنسی استحصال اور فحاشی کو مزید فروغ دینے کا ذریعہ بنے گا ۔ جس کے نتیجے میں اس طرح کے واقعات میں مزید ااضافہ ہوگا۔ایسا مطالبہ کرنے یا مہم چلانے والے دراصل نسل نو کو اخلاقی تباہی و بربادی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں ۔ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملک بھر میں بچوں کو جنسی تعلیم دینے کی بجائے تعلیمی نصاب کو اسلامی اقدار کے مطابق ڈھالاجائے ۔مخلوط تعلیمی نظام کا خاتمہ کیاجائے تاکہ مستقبل میں سانحہ قصور اور مردان جیسے غیر اخلاقی اورافسوسناک واقعات کا سدباب کیاجا سکے ۔

مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ

1۔            سانحہ قصوراور مردان میں ملوث ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزادی جائے ۔

2۔            وفاقی و صوبائی حکومتیں بچوں کے تحفظ کے لئے عملی اقدامات کریں ۔

3۔            سکولز کے تعلیمی نصاب میں اسلامی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کیاجائے اور تعلیمی اداروں میں جنسی تعلیم رائج کرنے کے تصور کو بھی جرم قرار دیا جائے۔

4۔            ملک بھر میں اوربالخصوص ضلع قصوراور مردان میں پولیس کے ادارے کو تطہیر کے عمل سے گزاراجائے اور عوام کی خدمت و تحفظ کو یقینی بنانے کے  لئے پولیس کے شعبے کو خصوصی تربیت دی جائے ۔

5۔            حکومتی و سیاسی مقاصد کے لئے پولیس کے تقررات اور استعمال کو روکا جائے تاکہ اس کی کاکردگی بہتر ہو سکے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس