Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرارداد برائے کشمیر



مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مقبوضہ ریاست جموںوکشمیر میں بھارتی قابض افوا ج اور ایجنسیوں کی طرف سے بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل پامالی اور استعماری ظلم و تشدد کی شدید مذمت کرتاہے ۔اس کے نتیجے میں نہ صرف حراستی قتل عام میں اضافہ ہو رہاہے بلکہ سرچ آپریشن کے نام پر بستیوں کی بستیوں کا گھیرائو کرتے ہوئے مکانات مال و اسباب اور باغات کی لوٹ مارکا سلسلہ شروع ہے۔ ظلم کی انتہا یہ ہے کہ خواتین اور بچوں کو برفانی موسم کی شدت میں کھلے آسمان تلے تشدد کانشانہ بنایا جارہاہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی تشویشناک رپورٹس اور توجہات کے باوجود بھارتی ریاستی دہشت گردی کاعمل جاری ہے ، اجلاس اس امر پر بھی تشویش کااظہار کرتاہے کہ حریت پسند قیادت کی ساکھ خراب کرنے کے لیے بھارتی مرکزی تفتیشی ادارے N.I.Aکے ذریعے جھوٹے مقدمات قائم کیے جارہے ہیں اور انہیں مسلسل نظر بند اور محبوس رکھا جارہاہے۔ بالخصوص قائد حریت سید علی گیلانی مسلسل آٹھ سال سے گھر پر نظر بندہیں اور انہیں نہ علاج معالجہ کی سہولت میسر ہے اور نہ انہیں جمعہ اور عیدین تک کی نمازوں کی ادائیگی کی ہی اجازت دی جارہی۔ اسی طرح کے ہتھکنڈے میر واعظ عمرفاروق ،محمدیٰسین ملک ،شبیر احمد شاہ ، اشرف صحرائی اور دیگر قائدین حریت کے خلاف بھی استعمال کیے جارہے ہیں۔ حتیٰ کہ دختران اسلام کی چیئرپرسن عائشہ اندرابی اور ان کی مرکزی ٹیم کو بھی مسلسل زیر حراست رکھا جارہاہے۔ اجلاس ان تمام ہتھکنڈوں کے باوجود مؤثر اور ہمہ گیر تحریک آزادی برپا کرنے پر قائدین حریت ، حریت پسند عوام بالخصوص طلبہ اور نوجوان جو اس تحریک کا ہراول دستہ ہیں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ اجلاس ان عظیم شہداء جنہوںنے جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے شمع آزادی فروزاں رکھی کو بالخصوص خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے قائدین حریت اور کاروان حریت کے ساتھ مکمل اظہار یکجہتی کرتاہے اور انہیں یقین دلاتاہے کہ منزل کے حصول تک پاکستان کابچہ بچہ ان کے شانہ بشانہ رہے گا۔

اجلاس سیز فائرلائن اور ورکنگ بائونڈری پرسول آبادی پر بلا اشتعال بھارتی فائرنگ کی بھی مذمت کرتا ہے جس کے نتیجے میں سویلین اور پاک فوج کے جوان شہید ہو رہے ہیں اور املاک و اسباب کو نشانہ بنایاجارہاہے۔اجلاس شہداء کی بلندیٔ درجات کی دعا کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ شہداء کے خاندانوں ، زخمیوں اور متاثرین کی بر وقت اور معقول امداد کا اہتمام کرے۔

اجلاس بھارتی چیف آف آرمی سٹاف کے حالیہ بیان کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے پاکستان کے خلاف کھلا اعلان جنگ سمجھتاہے ۔ اس بیان کے بعد اور امریکہ ، بھارت ، اسرائیل گٹھ جوڑ کے تناظر میں پاکستان کی سلامتی کے لیے سنگین چیلنجز سامنے آ رہے ہیں ۔ اجلاس کے نزدیک اسرائیلی وزیراعظم کا بھارت کا حالیہ طویل دورہ صورت حال کی سنگینی میں مزید اضافہ کا موجب ہوسکتاہے۔ اجلاس  بھارت اور اس کے حواریوں کو پیغام دینا چاہتا ہے کہ کسی بھی مذموم جارحانہ اقدام کاپوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح سامنا کرے گی اور پاکستان کی سلامتی پر کوئی آنچ نہ آنے دے گی۔ اس لیے اجلاس حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال اور بھارتی جنگی جنون کو بے نقاب کرنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی سفارتی مہم کا اہتمام کرے۔ سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک قائم کیے جائیں ۔ نیز اقوام متحدہ ،او ۔آئی ۔سی سمیت تمام بین الاقوامی اداروں کو متحرک کیاجائے بالخوص او آئی سی کا سربراہی اجلاس بلانے کااہتمام کیاجائے تاکہ بھارتی مظالم روکنے اور اس کے عزائم ناکام کرنے کے لیے مؤثر سفارتی دبائو کااہتمام ہوسکے۔

اجلاس کشمیریوں کی پشتیبانی کے لیے پاکستانی رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے یکم فروری سے ہفتہ یکجہتی کشمیر کے اہتمام پر تحسین کرتے ہوئے حکومت سیاسی قائدین اور قوم کے تمام طبقات بالخصوص ذرائع ابلاغ سے اپیل کرتاہے کہ 5فروری کو بھرپور یکجہتی کشمیر منانے کااہتمام کریں تاکہ کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوں اور بین الاقوامی سطح پر بھی یہ پیغام پہنچ سکے کہ کشمیر اور پاکستان یک جان دو قالب ہیں اور کشمیر کی آزادی تک پاکستانی عوام ان کے شانہ بشانہ ہیں ۔

اجلاس اسلام آبادمیں حالیہ منعقدہ چھ ملکی سپیکرزکانفرنس میں کشمیر کے حق خودارادیت کی تحریک کی حمایت کی تحسین کرتے ہوئے دنیا کی دیگر پارلیمنٹس سے حمایت کے حصول کے لیے حکومت پاکستان کو جامع حکمت عملی اختیار کرنے کے لیے بھی متوجہ کرتاہے۔

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس