Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عالم اسلام کے مسائل کے حوالے سے قرارداد


جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس بیت المقدس کو ناجائز صہیونی ریاست کا دارالحکومت بنانے کے لیے مسلسل جاری سرگرمیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔اگرچہ امریکی صدر ٹرمپ کے مجرمانہ بیان کو دنیا کے 128 ممالک کی جانب سے مسترد کردیا گیا،اور مجلس شوریٰ اعلان ٹرمپ کو مسترد کرنے والے تمام ممالک اورعالمی رہنماؤں کو خراج تحسین پیش کرتی ہے، لیکن یہ امر تشویش ناک ہے کہ اس واضح عالمی موقف کے باوجود، صہیونی ریاست اب مزید خطرناک اقدام اُٹھا رہی ہے۔ ایک جانب مسجد اقصیٰ کو شہید کرنے کا منصوبہ آگے بڑھایا جارہا ہے۔ بار بار مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی جارہی ہے قبلہء اول کا دفاع کرنے والے فلسطینی شہید کیے جارہے ہیں۔ اقصیٰ کی آزادی کے لیے برسرپیکار تنظیموں کو خود مسلمان ملکوں کی جانب سے دہشت گرد قرار دیا جارہا ہے۔ دوسری جانب صہیونی پارلیمنٹ میں ایسی قانون سازی کرلی گئی ہے کہ جس کا بہانہ بناکر کوئی بھی صہیونی حکومت اس فیصلے کو تبدیل نہیں کرسکے گی۔ جب کہ تیسری جانب فلسطینی اتھارٹی کو لالچ اور دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ امریکی اعلان اور صہیونی منصوبوں پر عمل نہ کیا تو انجام عبرت ناک ہوگا۔ امریکا نے اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی تنظیموں بالخصوص انروا  UNRWA کی جانب سے فلسطینی مہاجرین اور محصورین کی امداد رکوانے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔

جماعت اسلامی کا یہ اجلاس باشعور امریکی عوام سمیت، پوری دنیا سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ میں اختیار کیے گئے اپنے موقف کے مطابق، ان کاروائیوں کو رکوانے کے لیے فوری او رعملی اقدامات کرے۔ نیزاسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی پاس کردہ قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے آواز اٹھائی جائے۔ اجلاس فلسطینی اتھارٹی، اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) اور دیگر تمام تنظیموں سمیت فلسطینی عوام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر مکمل اتحاد و یک جہتی کا مظاہرہ کریں۔ اپنے حقوق اور بیت المقدس پر اُمت مسلمہ کے حق سے کسی صورت دست بردار نہ ہوں اور آزادی اقصیٰ کے لیے جاری اپنی جدوجہد کو مزید مؤثر بنانے کی کوشش کریں۔

اجلاس اس امر پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ سرزمین فلسطین پر قابض ناجائز صہیونی ریاست اور کشمیر پر قابض ہندوستان کے مابین ہمہ پہلو تعاون اور معاہدوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ بے گناہ فلسطینی اور کشمیری عوام پر ظلم ڈھانے والی دونوں قابض ریاستیں نہ صرف ایک دوسرے کی مکمل پشتیبانی کررہی ہیں، بلکہ پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کو کھلی دھمکیاں بھی دے رہی ہیں۔ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ قبل اس کے کہ پانی سر سے گزر جائے مسلمان ممالک اور عالمی برادری ان دھمکیوں کا سنجیدگی سے نوٹس لے۔

مجلس شوریٰ جماعت اسلامی کا اجلاس اقوام متحدہ اور سیکورٹی کونسل سے یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت مختلف امریکی ذمہ داران اور بھارتی عسکری و سیاسی قیادت کی طرف سے پاکستان کے خلاف کھلم کھلا دھمکیوں کا فوری اور سنجیدہ نوٹس لے۔ اجلاس حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کرے بلکہ اس ضمن میں عالمی سطح پر فوری اقدامات اُٹھائے۔ یہ اجلاس واضح اعلان کرتا ہے کہ ملکی سلامتی کو درپیش خطرات کا سامنا کرنے کے لیے پوری قوم اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جسد واحد کی حیثیت سے ان کا مقابلہ کرے گی۔

اجلاس اپنے خدشات کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہے کہ امریکی او ربھارتی دھمکیوںکے جواب میں حکومت اور ریاستی اداروں نے بیانات کی حد تک تو ٹھوس موقف کا اظہار کیا، لیکن اپنے کئی اقدامات کے ذریعے یہ پیغام بھی دیا کہ وہ اب بھی امریکا کو خوش کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔

جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس شام، یمن، عراق اور لیبیا میں جاری خانہ جنگی اور قتل و غارت پر بھی انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔ سات برس پہلے ان ممالک کے عوام نے ڈکٹیٹر شپ اور ظلم و جبر پر مبنی نظام سے نجات کے لیے بہار نو کا خواب دیکھا تھا۔ انہوں نے اپنی منزل کے اہم مراحل طے بھی کرلیے، لیکن بدقسمتی سے عالمی استحصالی طاقتوں اور نظام جبر کی باقیات نے ہزاروں بے گناہ عوام شہید کردیے۔ ہزارہا مردوزن جیلوں میں قید کردیے اور پھر خانہ جنگی کی آگ بھڑکا کر ملکوں کے ملک کھنڈرات میں بدلنے کا عمل شروع کردیا۔ اسی دوران مختلف مسلم ممالک میں مختلف مسلح گروہ کھڑے کردیے گئے، جہاد جیسے مقدس فریضے اور خلافت جیسی اہم دینی اصطلاحات کو مسخ کردیا گیا اورداعش جیسی مشکوک تنظیموں کے ذریعے بے گناہ شہریوں، علماء کرام اور سیاسی رہنماؤں کو شہید کردیا گیا۔ مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس تمام مسلم ممالک کی قیادت اور عوام سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عیار دشمنوں اور نادان دوستوں کے ذریعے روبہ عمل لائی جانے والی ان سازشوں سے خبردار رہیں۔ کسی مسلکی، مذہبی، لسانی یا علاقائی تعصب کا شکار نہ ہوں اور عالم اسلام میں اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیں۔ یہ اجلاس مصر اور بنگلہ دیش سمیت کئی مسلم ملکوں میں قید لاکھوں کی تعداد میں گرفتار بے گناہ شہریوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے، حقوق انسانی کی تمام تنظیموں کو اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کا پرزور مطالبہ کرتا ہے۔

یہ اجلاس روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار میں جاری نسل کشی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور مسلم ممالک سمیت پوری عالمی برادری کو اپنا فرض ادا کرنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی جانب ہجرت پر مجبور کردیے جانے والے لاکھوں انسانوں کی زندگی جہنم زار بن چکی ہے۔ بنیادی انسانی ضروریات ناپید ہیں، اور دنیا صرف زبانی جمع خرچ میں مصروف ہیں۔ یہ اجلاس پوری عالمی برادری کو خبردار کرتا ہے کہ ان بے نوا مسلمانوں کو درپیش مصائب کا خاتمہ نہ کیا گیا توپوری انسانیت کو اس کا وبال بھگتنا ہوگا۔

یہ اجلاس بنگلہ دیش میں سیاسی مخالفین سے جینے کا حق چھین لیے جانے اور اس پر حکومت پاکستان اور عالمی اداروں کی خاموشی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ فرشتہ صفت بے گناہ سیاسی رہنماؤں کو پھانسیاں چڑھا دینے کے بعد اب مزید درجنوں افراد کو سزائے موت دینے کی کوششیں عروج پر ہیں۔ ہندوستان کے ہاتھوں کٹھ پتلی بنی، بنگلہ دیش حکومت اپنی تمام تر ناکامیوں اور کرپشن کا ملبہ بے گناہ سیاسی اسیروں اور پاکستان پر ڈالنا چاہتی ہے۔ جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ بنگلہ دیش حکومت کے ان جرائم کو رکوانے کے لیے ہر ممکن سفارتی، سیاسی اور قانونی اقدامات اُٹھائے جائیں۔

٭…٭…٭

 

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس