Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

قرارداد۔۔اسلامی تہذیب اور عقیدہ ختم نبوت و ناموس رسالت کا تحفظ


پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جوکہ اسلامی مملکت کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وجود میں آیاتھا ۔ لیکن سیکولر اور مغرب زدہ عناصر کی سازشوں کے باوجود اللہ کے فضل سے قرار داد مقاصد پاس ہوگئی جوکہ نہ صرف سابقہ اور موجود آئین کا حصہ ہے بلکہ اب وہ دستور کا قابل تنفیذ حصہ ہے۔

1973ء کے آئین میں قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی اور اسلامی معاشرت و تعلیم کا اہتمام حکومت کی ذمہ داری قرار دی گئی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے ذریعہ اسلامی نظام عدل کے قیام اور غیر اسلامی قانون سازی کے ازالہ کاراستہ کھولا گیاہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل اسلامی قانون سازی کے لیے موجود ہے اس طرح 1973کے آئین میں ملک کانام اسلامی جمہوریہ پاکستان قرار دے کر اس کے اسلامی ریاست ہونے کا واضح اعلان کیاگیا ہے۔

وفاقی حکومت نے ملک میں رائج 8قوانین کو منسوخ کرکے ان کی جگہ لینے والے قانون الیکشن ایکٹ 2017ء میں عقیدہ ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق دو دفعات کو شامل نہ کرکے 22کروڑ عوام کے جذبات کو مجروح کیا۔ پھر عوامی غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لیے الیکشن ایکٹ 2017ء میں پہلی ترمیم کے ذریعہ نامزد امیدوار کے فارم و حلف نامہ کو توٹھیک کردیا لیکن ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم والی دونوں دفعات الیکشن ایکٹ 2017ء کا حصہ نہ بنا کر دانستہ طور پر قادیانیوں اور مغربی قوتوں کو خوش کرنے کی سعی کی گئی۔ دینی جماعتوں کاخصوصاً اور ملک بھر کے عوام کی عموماً دبائو پر الیکشن ایکٹ 2017ء میں دوسری ترمیم لائی گئی لیکن حکومت کی بدنیتی اس وقت واضح ہوگئی جب مذکورہ ایک دفعہ میں سے عقیدہ ختم نبوت  ﷺکے مطابق مسلمانوں والی ووٹر لسٹ بنانے والا جملہ حذف کردیاگیا جس کی وجہ سے پوری ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم والی نئی دفعہ (a)48غیر مؤثر ہو کر قابل تنفیذ نہ رہی۔ مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان حکومت کی ان تمام دین دشمن حرکتوں کی شدید مذمت کرتی ہے۔

 چند ہفتے قبل امریکہ وبرطانیہ سمیت مغربی ممالک نے واضح الفاظ میں پاکستان میں رائج ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو ختم کرنے کامطالبہ کیا تھا جبکہ دوسری جانب حقوق انسانی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاسوں میں حکمران پارٹی اور ان کے اتحادیوں نے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے قانون کو ختم کرنے یا اس کی تنفیذ کو روکنے کے لیے تقاریر کی ہیں اور سازشیں کی جارہی ہیں۔ قانون ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک اچھا قانون ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ناموس کا قانون برطانیہ سمیت کئی مغربی ممالک میں موجود ہے تو پھر حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے قانون کی مخالفت کرنے سے مغربی ممالک بدنیتی ظاہرہوتی ہے۔ مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی سمجھتی ہے کہ ناموس رسالت ﷺکی مخالفت کرکے توہین رسالت ﷺکے مجرمین کی سرپرستی بند کی جائے ۔

کلچرل پالیسی کے نام پر وفاقی حکومت فحاشی و عریانی کے اضافہ اور مغربی بے شرم تہذیب کے فروغ لیے راستہ ہموار کیاجارہاہے۔ جوکہ دستور پاکستان 1973ء سے متصادم حکومتی اقدام ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی تہذیب کی بنیاد قرآن و سنت ہے ۔ جبکہ حکومتی کلچرل پالیسی قرآن وسنت سے متصادم ہے۔ لہٰذا مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ کلچرل پالیسی کو قرآن و سنت کی روشنی میں دوبارہ ترتیب دیا جائے اور ذرائع ابلاغ کی نشریات کو بھی مغربی تہذیب کے فروغ کاذریعہ نہیں ہونے دیاجائے گا۔

سپریم کورٹ نے 1999ء میں سود کے خلاف ایک تاریخی فیصلہ دیاتھا لیکن اس وقت کے فوجی آمر کی حکومت نے اس فیصلہ پر عمل درآمد کے بجائے اس کو دوبارہ سماعت کے لیے وفاقی شرعی عدالت میں پہنچادیا۔ فوجی و سول حکمرانوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے 12سال تک اس کی سماعت نہیں ہو سکی۔ سال 2017ء کی ابتدا ء میں چند سماعتوں کے بعد اب پھر تقریباً 9ماہ سے سماعت نہیں ہوئی ہے کیونکہ وکلاء نے سود کے خلاف مؤثر دلائل دے کر سود کے حامی قوتوں کو لاجواب کردیاہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ حکومتی وکلاء سود کی وکالت کرتے ہیں جوکہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اعلان جنگ ہے ۔ مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت سود کے تحفظ اور وکالت کی پالیسی ترک کردے اور اپنے وکلاء کو قرآن و سنت کے مطابق سودی نظام کے خلاف دلائل دینے کی ہدایات جاری کرے تاکہ غیر سودی نظام معیشت ملک میں مکمل طور پر رائج ہوسکے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس