Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرارداد برائے قبائلی صورتحال


مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی کا یہ اجلاس قبائل کی حالت زار پر تشویش کااظہار کرتی ہے اور احساس رکھتی ہے کہ مسلسل قربانیاں دینے کے باوجود حکومت قبائل کے مسائل حل نہیں کرتی۔ 27224مربع کلومیٹر علاقے پر بسنے والے ایک کروڑ سے زیادہ قبائل نے قیام پاکستان ،کشمیر کی آزادی ، افغان جنگ میں پاکستان کے ساتھ کھڑے رہے اور اب 9/11کے بعد امریکہ اور نیٹو کی طرف سے ڈرون حملے ہو رہے ہیں۔ 25لاکھ سے زیادہ قبائل بے گھر ہوئے ۔ مسلسل جنگ کے نتیجے میں گھر ، دکانیں ، باغات تباہ و برباد ہوئیں ۔ ہزاروں کی تعداد میں قبائل شہید ہوئے۔ انفراسٹرکچر تباہ و برباد ہواہے۔ مجلس کا اجتماعی احساس یہ ہے کہ قبائل میں تمام تر نقصانات اور محرومیوں کی جڑ قبائل میں موجود کالاقانون FCRہے۔ جس کے خاتمے کے لیے 1985ء سے قاضی حسین احمد ؒ نے تحریک شروع کررکھی تھی اور جماعت اسلامی اس تحریک کو مسلسل آگے بڑھاتی رہی ۔ 2نومبر 2015ء کو اسلام آباد میں محترم امیرجماعت جناب سراج الحق صاحب کی سربراہی میں ایک آل پارٹیر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ایک مشترکہ اعلامیہ پیش کیاگیا اور جے یوآئی کے علاوہ باقی تمام قومی پارٹیوں کے نمائندوں نے اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ اس اعلامیہ میں سب سے بڑا مطالبہ ایف سی آر کاخاتمہ اور فاٹا کا خیبر پختونخواہ میں انضمام ہے۔ اس کے ایک ہفتہ بعد 8نومبر 2015ء کو وزیراعظم نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں ایک بااختیار کمیٹی تشکیل دی ۔ کمیٹی نے تمام ایجنسی ہیڈکوارٹرز کے دورے کرکے قبائلی مشران ، سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں ، صحا فی برادری ، سماجی کارکنان اور زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے ملاقاتیں کیں ۔ جرگے منعقد کیے اور رپورٹ تیار کرکے وفاقی کابینہ سے منظور کروائی اور قومی اسمبلی میں پیش بھی کی۔ لیکن حکومت تاخیری حربوں سے کام لے رہی ہے۔

جماعت اسلامی فاٹا نے حکومت پر دبائو بڑھانے کے لیے ایف سی آ رنامنظور تحریک چلائی۔ جرگے منعقد کیے ۔ مظاہرے کیے ، گورنر ہائوس کے سامنے دھرنے دیئے ۔باب خیبر تا اسلام آبادتک  لانگ مارچ کیا اور بالآخر حکومت نے صرف سپریم کورٹ آف پاکستان ،پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ کار فاٹاتک بڑھانے کابل قومی اسمبلی سے پاس کرایا۔ مجلس اس کو بارش کاپہلا قطرہ سمجھتی ہے۔ لیکن قبائل کے مسائل کے خاتمے کے لیے یہ کافی نہیں ہے۔ مجلس اس سلسلے میں جماعت اسلامی فاٹا،فاٹا سیاسی اتحاد ، یوتھ اور طلبہ کے مطالبات کی حمایت کرتی ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ :

l               قبائل سے فوراً ایف سی آرکاخاتمہ کیاجائے اور آئین پاکستان کی روح کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں متبادل نظام دیاجائے۔

l               قبائل کو خیبر پختونخواہ میں ضم کیاجائے اور آسانی کے لیے فاٹا سے پاٹا بنایاجائے۔

l               انتخابات 2018ء میں قبائل کو خیبر پختونخوا ہ اسمبلی میں نمائندگی دی جائے۔

l               2018ء کے انتخابات کے بعد فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کرائے جائیں۔

l               قبائل کے لیے ایک بڑا مالیاتی پیکیج دیا جائے جو ایک ہزار ارب روپے سے کم نہ ہو۔

l               سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات Transition Periodکے بغیر نافد کیے جائیں۔

l               انضمام کے بعد بھی ایک خاص مدت تک قبائل کو این ایف سی ایوارڈ میں اُن کا الگ حصہ دیاجائے۔

l               انضمام کے بعد بھی فاٹا کو ترقی میں ملک کے دوسرے حصوں کے برابر لانے کے لیے ٹیکس فری قرار دیاجائے۔

l               فاٹا میں تعلیمی ایمرجنسی کااعلان کرکے سکولز اور کالجز کے جال بچھائے جائیں اور یونیورسٹیاں ، میڈیکل کالجز اور تعلیمی ادارے فی الوقت کرایہ کے مکانات میں قائم کیے جائیں ۔

l               فاٹا میں بے روز گاری کے خاتمے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جائیں اور 30,000لیویز بھرتی کیے جائیں۔

l               آئی ڈی پیز کی جلد واپسی کے لیے انتظامات کیے جائیں اور انہیں معاوضہ دیاجائے۔

l               مسمار شدہ گھروں اور دکانات کے مالکان کو معاوضہ دیاجائے۔

l               دفعہ 246کاخاتمہ اور دفعہ 247میں ترمیم کرکے قبائل کو پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار میں لایاجائے۔

l               فیڈرل شریعت کورٹ کادائرہ اختیار فاٹا تک بڑھایاجائے۔

l               قبائل کے بلاک شدہ قومی شناختی کارڈز فوراً Releaseکیے جائیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس