Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

نظام تعلیم سے متعلق قرارداد


جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کایہ اجلاس ملک میں تعلیمی شعبے کی زبوں حالی اور حکومت کی مسلسل غفلت پر افسوس کا اظہار کرتاہے۔ 

10ویں تعلیمی پالیسی کا ڈرافٹ وفاقی سطح پرزیرغورہے ۔ اس مجوزہ ڈرافٹ میں اسلام ، نظریہ پاکستان کو بنیاد بنانا اور اخلاقی تعلیم پر زور دینا خوش آئند ہے۔لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعلیم کے اہداف واضح نہیں ہیں۔اس سے پہلے 9 تعلیمی پالیسیوں کا حاصل یہ ہے کہ نہ ہی خواندگی عام ہوپائی ہے ، نہ تعلیم کا معیار بہتر ہوا ، نہ آج تک قومی اُمنگوں سے ہم آہنگ نظام تشکیل پاسکا ۔ اس کے برعکس رنگار نگ نصاب اور نظام ہائے تعلیم نے پاکستان کے شعبہ تعلیم کو تضادات سے بھردیا ہے۔

حکمرانوں کی لاپروائی ، غفلت اور نا اہلی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حال ہی میں عدالت عالیہ کے چیف جسٹس کو یہ کہنا پڑا کہ عوام کو صحت و تعلیم کی بنیادی سہولتیں نہ ملیں تووہ اورنج لائن ٹرین اور میٹروجیسے منصوبے بند کروادیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری تعلیم کا مقصدمتعین کیا جائے۔ پھر اس مقصد کے حصول کے لیے جامع ایکشن پلان بنایا جائے۔

٭            ملک میں کئی قسم کے نظام ہائے تعلیم رائج ہونے کی وجہ سے ذہنی،سماجی اور معاشی طور پر قوم کو مختلف طبقات میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں عدم توجہی، کرپشن اور نااہلی کی وجہ سے معیارِ تعلیم خطرناک حد تک گرگیاہے۔ اس وقت ایک اور افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ معیار تعلیم کی بہتری کے بجائے ہماری صوبائی حکومتیں درسی کتب سے سیرت ،مسلمانوں کی عظیم شخصیات ،اسلام اور مسلمانوں کی علمی وسیاسی عظمت پر مبنی لوازمے کوانتہاپسندی کی وجہ قراردے کر نکالنے کے درپے ہیں۔

 ٭           حالیہ سانحہ قصور کے بعد طلبہ و طالبات کوجنسی تعلیم کی آڑ میں تعلیم کو مغربی این جی اوز کے حوالے کرنے کی باز گشت بھی سنائی دے رہی ہے۔یونی ورسٹیوں کے بعد بی ایس پروگرام کی آڑ میں مخلوط تعلیم کا دائرہ کالجوں تک کامیابی سے وسیع کیا گیا۔اب اسکولوں کے لیے بھی مخلوط نظام کو ناگزیر بتایا جا رہا ہے۔

٭            وفاقی وزیر تعلیم کا پہلی تا بارھویں جماعت قرآن مجید کی تعلیم کو لازمی قراردینے کا منصوبہ خوش آئند ہے۔اس منصوبے پر عمل درآمد کے ضمن میں خیبر پختون خوا حکومت کا سبقت لے جانا لائق تحسین ہے۔اس معاملے میں دیگر صوبوں کو بھی خیبر پختون خوا کی تقلید کرنی چاہیے۔

                جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس پورے یقین کے ساتھ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے حکومت کو درج ذیل امور پر فوری توجہ دینے اور اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

(1)          پاکستان کے اساسی نظریات ،قومی اُمنگوں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ایک مستقل قومی تعلیمی پالیسی تشکیل دی جائے۔

(2)          سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں اسلام کی تعلیمات کے مطابق یکساں نظام تعلیم رائج کیا جائے۔

(3)          پاکستان کے نظامِ تعلیم کی اسلامی تشکیل کے لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل نمبر31 کے مطابق اقدامات کیے جائیں اور ایجوکیشن ایکٹ 1976ء کو تعلیمی پالیسی کا حصہ بنایا جائے، جس کی رو سے نصابات و درسی کتب میں اسلام کے خلاف کوئی مواد شامل نہیں کیا جا سکتا۔

(4)          قومی زبان کو اصل مقام دلانے کے لیے آئین پاکستان کی دفعہ 251اور سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں فی الفور عمل کیاجائے اور اس مقصد کے لیے بنائے ہوئے اداروں کو فعال بنایاجائے ۔اُردو کو فوری طور پر ذریعہ تعلیم بنانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔نیز مقابلے کے امتحانات اُردو میں لیے جائیں ۔ عدلیہ سمیت قومی و صوبائی اسمبلیوں کی کارروائی اُردو زبان میں مرتب کی جائے۔

(5)          آئین کے آرٹیکل 25-اے کے تحت 5 تا 16 سال کی عمر کے بچوں اور بچیوںکی لازمی مفت تعلیم کے لیے فنڈز مختص کیے جائیں اور صوبوں کو اس فنڈ کے مجوزہ استعمال کا پابند بنایا جائے۔نیز جی ڈی پی کا 5فیصد تعلیم کے لیے مختص کیاجائے۔

(6)          صوبوں کو اعتماد میں لے کر،نصاب سازی کا کام پہلے کی طرح وفاق کے سپرد کیاجائےاور نصاب سازی کے عمل پر نظر رکھی جائے۔

(7)          جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ،ایسا نصاب تشکیل دیا جائے جو بچوں کی تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے ساتھ قومی اہداف کے حصول کو یقینی بنائے۔

 (8)         100فی صد انرولمنٹ کا ہدف حاصل کرنے کے لیے انتظام و انصرام میں بہتری کے ساتھ ساتھ سکول میں پانی، بجلی، واش روم، چاردیواری، کھیل کے میدان اور تحفظ جیسی سہولیات کو یقینی بنانا ہوگا۔

9))          اساتذہ کے تقرر، مشاہروں، تربیت ،ترقی اور مراعات کا ایسانظام وضع کیا جائے جس کی رو سے معلم کو اس کا اصل مقام مل جائے اور نسل نو کے لیے پیشہ معلمی ترجیح اول قرار پائے۔

(10)        تعلیمی اداروں میں لیبارٹریوں اور اور لائبریریوں کو مناسب فنڈ فراہم کیا جائے تاکہ طلبہ و طالبات کی حقیقی تعلیمی ضروریات پوری ہوں، مطالعے اور تحقیق کے ذوق کو پروان چڑھایا جا سکے۔

(11)        خواتین کو بہتر اور آزادانہ تعلیمی ماحول مہیا کرنے کے لیے، ان کے الگ تعلیمی ادارے اور یونیورسٹیاں قائم کی جائیں۔

(12)        امتحانی بورڈ ز کے نتائج کے بعد پروفیشنل تعلیمی اداروں کے انٹری ٹیسٹ ، طلبہ اور ان کے والدین کے لیے ذہنی تنائو کے ساتھ ساتھ مالی بوجھ بھی ثابت ہو رہے ہیں۔ بہترین نتائج حاصل کرنے کے باوجود ،انٹری ٹیسٹ کی لٹکتی تلوار ، قابل اور ذہین طلبہ میں مایوسی پیداکرنے کاباعث ہے۔ انٹری ٹیسٹ کے دوہرے نظام کے بجائے امتحانی بورڈ کے انتظامی امور کو ترجیحاً بہتر کیاجائے۔

(13)        پرائیویٹ تعلیمی اداروں کافروغ اور کامیابی متعلقہ مرکزی و صوبائی محکموں کی عدم اہلیت ، کمزور گورننس اور عوام الناس میں معیاری تعلیم کے لیے پائے جانے والے خلاکا ایک منطقی نتیجہ ہے ۔ اس عمل کو حکمت، احتیاط اور قومی تقاضوں کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ تاہم نصاب تعلیم، فیسوں، معیارِ تعلیم اور بنیادی سہولتوں کے سلسلے میں قابل عمل اور متوازن قانون سازی کی جائے۔ فیسوں میں اضافے کے ایشوپرحکومت پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی مشاورت سے ایسے متوازن اقدامات طے کرے جو والدین اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں دونوں کے لیے قابل قبول ہوں۔

(14)        تعلیم میں بین الاقوامی اداروں اور این جی اوز کی مداخلت کو روکا جائے۔ عالمی اداروں اور بیرونی ممالک سے آنے والی تعلیمی امداد کو اپنی حقیقی ضروریات اور قومی تقاضوں کے تناظر میں قبول کیا جائے۔

(15)        جنسی تعلیم کے نام پر بے حیائی اور مغربی کلچر کو مسلط کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

(16)        اسلامی تعلیمات کی روشنی میں شرم و حیا، طہارت، نکاح اور بلوغت کے مسائل طلبہ کی عمر کی مناسبت سے شامل نصاب کیے جائیں۔

 (17)       تعلیمی اداروں کو پرائیویٹائز کرکے تعلیم کو کاروبار بنانے کی بجائے ریاست کی ذمہ داری قرار دی جائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس