Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ماورائے عدالت قتل نظامِ انصاف اور قانون کے منہ پر طمانچہ ہے ۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی ؍20جنوری 2018ء:امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے پولیس کے ہاتھوں نقیب اللہ اور دیگر تین افراد کے قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے محافظوں کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل نظامِ انصاف اور قانون کے منہ پر زور دار طمانچہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی قانون ،مذہب کسی بھی شخص کو بغیر عدالتی کاروائی کے دوسرے کی جان لینے کی اجازت نہیں دیتا ۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کی تمام ہلاکتیں قتل اور صرف قتل کے زمرے میں آتی ہیں ۔چاہے وہ پولیس کے ہاتھوں ہو یا کسی اور ایجنسی کے ذریعے ۔انہوں نے کہا کہ طویل عرصے سے ایک مخصوص علاقے میں اس طرح کی کاروائیاں سامنے آرہی ہیں اور ہر کاروائی کے بعد ایک بھونڈی اور مضحکہ خیز کہانی بیان کی جاتی ہے ۔معمولی سمجھ رکھنے والا فرد بھی فوری طور پر اس نتیجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہر مقابلہ ایک مخصوص پولیس افسر کے زیرِ تسلط علاقہ میں ہی ہو ۔اس بڑی تعداد میں طالبان کمانڈر کراچی میں موجود ہوں اور ہر دفعہ صرف ان ہی کے قافلہ سے ٹکراتے ہوں ۔ میڈیا میں چھپنے والی خود کش حملوں کی کاروائی بھی انتہائی مشکوک حیثیت کی حامل ہے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سول سوسائٹی کی جانب سے مخصوص واقعات پر تو بہت احتجاج کیا جا تاہے اور بعض عناصر اور گروہ سامنے آجاتے ہیں لیکن جب اس طرح کے واقعات اور کاروائیوں میں کوئی دین دار فرد یا مذہبی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو سول سوسائٹی خاموش رہتی ہے اور کوئی احتجاج نہیں کیا جا تا۔ برسوں سے لاپتہ کیے گئے افراد جن میں بعض کی پٹیشن بھی عدالت میں چل رہی تھیں ان کو اور بعض کو ہتھکڑیوں سمیت جعلی مقابلہ میں ہلاک کر دیا گیا ۔ انسان کا قتل قرآن کی روشنی میں تمام انسانوں کے قتل کے مترادف ہے ۔چہ جائیکہ ہر دوچار دن بعد یہ ڈرامہ کھیلا جائے ۔ان تمام حالات کی وجہ سے ہزاروں کی تعداد میں خاندان متاثر ہو رہے ہیں ۔والدین اپنے لاپتہ بچوں اور بیویاں اپنے شوہروں کی تلاش میں دفتروں ،عدالتوں اور کمیشنوں کے دروازوں پر دھکے کھانے پر مجبور ہیں اور پھر کسی دن ان کے جگر گوشہ کی لاش ان کے حوالے کر دی جاتی ہے ۔یہ حیوانیت اور درندگی کی انتہا ہے ۔ان حالات میں نفرت اور غصہ جنم لیتا ہے ۔لوگوں کو اعتماد ریاست کے اداروں اور خاص کر عدالتوں پر سے ختم ہو جاتا ہے ۔جس کا لازمی نتیجہ مزید تشدد ہی کی صورت میں نکلتا ہے۔یہ سب ملک سے دوستی کی آڑ میں دشمنی کے مترادف ہے ۔چاہے کوئی بھی اس عمل میں ملوث ہو ۔جماعت اسلامی اس گھناؤنے کھیل کو فوری بند کر نے کا مطالبہ کر تی ہے ۔ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام لاپتہ افراد کو فوری طور پر عدالتوں میں پیش کیا جائے ۔ ان کے خاندانوں کو ان کی موجودگی کی اطلاع فراہم کی جائے اور اگر جرائم میں ملوث افراد سے نمٹنے کے لیے مزید قانون سازی کی ضرورت ہو تو قانون سازی کی جائے لیکن لوگوں کو لاپتہ کرنا اور قتل کر دینا کسی بھی حالت میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتا چاہے وہ کسی بدترین جرم میں ملوث شخص کا ہی ہو ۔ ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کی گمشدگی کی کاروائی میں رینجرز کی شمولیت گردش کر نے والی دیگر خبروں پرآرمی چیف کو بھی نوٹس لینا چاہیئے ۔ اس طرح کی کاروائیوں کی تحقیقات کی جانی چاہیئے اور ملوث افراد خواہ وہ کتنے ہی با اثر کیوں نہ ہوں ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کی جانی چاہیئے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے اس واردات کا نوٹس لیا جانا خوش آئند ہے امید ہے کہ اس واردات میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا ۔امید ہے کہ اس کاروائی سے عوام میں موجود یہ تاثر ختم ہو جائیگا کہ با اثر افراد کی سر پرستی رکھنے والے جرائم پیشہ افراد ہمیشہ قانون کی گرفت سے آزاد ہی رہیں گے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس