Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

شوگر ملیں دن دیہاڑے کسانوں کا اربوں روپیہ لوٹ رہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں


لاہور18جنوری 2018ء: کسان بورڈ پاکستان کے صدر چوہدری نثار احمد نے کہاہے کہشوگر ملیں دن دیہاڑے کسانوں کا اربوں روپیہ لوٹ رہی ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ کسانوں کا استحصال بند ہونا چاہے ۔ایک طرف کرشنگ سیزن 2ماہ تک لیٹ ہو چکا ہے جبکہ دوسری طرف گنے کے غریب کاشت کار وں کو تاحال پچھلی ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔ ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت براہ راست خود کسانوں سے گنا خریدے ۔اگر حکومت نے فوری طور پر کسانوں کو ریلیف فراہم نہ کیا اور گنے کی خرید کو یقینی نہ بنا یا توکسان بورڈ بھر پور احتجاجی تحریک چلائی جائے گی ۔انہوںنے کہاہے کہ70فیصد کاشت کاروں نے حکومتی رویے، شوگرمل مالکان کی بے حسی اور پانی کی بروقت عدم دستیابی کی وجہ سے گنے کی کاشت کم کردی ہے جوکہ تشویش ناک امر اور شوگر بحران کوجنم دے سکتی ہے۔دنیاکے دیگر زرعی ممالک میںکاشت کاروں کو ان کی محنت کاصلہ بروقت اداکیاجاتا ہے مگر پاکستان میں مقررکردہ ریٹ پر عمل درآمد تودرکنار کئی کئی ماہ تک ادائیگیاں ہی نہیں کی جاتیں۔انہوں نے کہاکہ گنے کاریٹ 180روپے فی من مقررہے مگر مل مالکان کی جانب سے کہیں بھی پوری ادائیگی نہیں کی جاتی۔بڑے بڑے سرمایہ دار اور شوگر مل مالکان حکومتی اور اپوزیشن کی صفوں میں موجود ہیں۔آپس کی ملی بھگت کے باعث کسانوں کو انکا حق بھی نہیں مل پارہا۔انہوں نے کہا کہ کسانوں کی مجبوریوں سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اونے پونے نرخوں پر فصلیں خرید لی جاتی ہیں اور آگے مہنگے داموں فروخت کرکے اصل کمائی آڑھتیوں کے ہاتھ چلی جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ شعبہ زراعت پر حکمرانوں کی عدم توجہی افسوس ناک ہے۔ کاشت کاروں کی مشکلات کافوری ازالہ کرتے ہوئے فصلوں کی حکومتی مقررکردہ نرخوں پر خریداری کویقینی بنایاجائے۔کسان پہلے ہی کھادوں کے نرخوں میں ہوشرباء اضافے ،مہنگے زرعی مداخل اور آڑھتیوں کے مظالم کاشکار ہیں۔وزیر اعلیٰ شہبازشریف نے شعبہ زراعت کے حوالے سے انقلابی اقدامات کے بڑے بلندوبانگ دعوے توکیے تھے مگر عملاً ابھی تک ان پر کسی قسم کی کوئی پیش رفت نہیں ہورہی۔انہوں نے کہا کہ حکمرانوں کو اس جانب فوری توجہ دینی چاہے  ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس