Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کراچی میں جرائم کے سیلاب کی وجہ سرکاری اور سیاسی سرپرستی ہے ۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی ؍16جنوری2018ء: امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں جرائم پیشہ افراد کی یلغار اور اس میں معصوم شہریوں کی ہلاکت اور بڑے پیمانے پر قیمتی املاک سے محرومی کی شدید مذمت کی ہے اورکہا کہ پولیس کی مختلف وجوہات کی بناء پر غیر فعالیت اور اس کی وی آئی پی ڈیوٹیوں میں مشغولیت کے بعد شہریوں کی توقع تھی کہ رینجرز شاید اس خلاء کو پورا کرنے میں کامیاب ہوجائے گی لیکن یہ بات شہریوں کے لیے بھی شدید صدمہ اور پریشانی کا باعث ہے کہ ٹارگٹ کلنگ میں کمی کے علاوہ ہر جرم اپنی انتہاء پر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گوکہ ان جرائم کے پیچھے جرائم پیشہ افراد کی سرکاری اور سیاسی سرپرستی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ جرائم پیشہ افراد کو بعض سیاسی پارٹیوں نے نہ صرف بھرپور پنا ہ دی ان کی سرپرستی کی بلکہ بھتہ ، لوٹ مار اور مخالفوں کو دبانے کے لیے ان کے قتل اور اغواء کے لیے استعمال کیا لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت کے تمام تر اعلانات کے باوجود ان جرائم پیشہ افراد کی مکمل سرپرستی جاری ہے اور ان کو مخصوص پارٹیوں میں شمولیت پر ڈرائی کلین کیا جارہا ہے ۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گھناؤنے سیاسی جوڑ توڑ کی خاطر جرائم پیشہ افراد کی سیاسی سرگرمیاں اور ان کی سرکاری سرپرستی کسی صورت قابل قبول نہیں ہے ۔کراچی میں نوجوانوں اور خواتین کو قتل کیا جارہا ہے ۔اغواء گاڑیوں کی چوریاں اور گھروں میں ڈکیتیاں تسلسل کے ساتھ جاری ہیں ۔اس صورتحال میں رینجرز اور پولیس کی کارکردگی ایک سوالیہ نشان ہے جبکہ حکومت سندھ کی پولیس میں دلچسپی اپنی پسند کا آئی جی لگانے اور من پسند افراد کے تھانوں میں تقرری تک محدود ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی اس صورتحال پر ہر گز خاموش نہیں بیٹھ سکتی ۔ اگر یہ صورتحال فوری طور پر بہتر نہ ہوئی تو ہم عوام کے ساتھ ہوں گے اور بھرپور احتجاج کریں گے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر کراچی کی صورتحال کا نوٹس لیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس