Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

اسلامی قوانین کے نفاذ سے سانحہ قصور جیسے دلخراش واقعات سے قوم کو محفوظ کیا جا سکتا ہے


لاہور15جنوری 2018ء: امیر جماعت اسلامی لاہور ڈاکٹر ذکر اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ سانحہ قصور میں معصوم قوم کی بیٹی زینب کے قاتلوں کی عدم گرفتاری حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بے بسی عیاں ہو چکی ہے ۔ ان خیالا ت کا اظہار گذشتہ روز انہوں نے سانحہ قصور کے ملزموں کی عدم گرفتاری اور مظاہر ین پر فائرنگ کیس میں ملوث افراد کے خلاف جماعت اسلامی حلقہ خواتین کے زیر اہتمام پریس کلب لاہور کے باہر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ احتجاجی مظاہرے ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی لاہور عبدالعزیز عابد ، نائب امیر جماعت اسلامی لاہور ضیا ء الدین انصاری ، جے آئی یوتھ کے صدر شاہد نوید ملک، سیکرٹری سیاسی کمیٹی چوہدری محمود الاحد ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات جماعت اسلامی لاہور اے ڈی کاشف جبکہ جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی رہنماء ناظمہ صوبہ پنجاب سکینہ شاہد ، نائب ناظمہ صوبہ پنجاب ربیعہ طارق ، ضلعی ذمہ داران جماعت اسلامی حلقہ خواتین نازیہ توحید ، شاہینہ طارق ، آمنہ ثاقب ، فرحت شکیل و دیگر زمہ داران نے شرکت کی ۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں قانون طاقتور کے ہاتھوں کھیل رہا ہے ہر طرف بدامنی ، بے انصافی اور ظلم کا راج ہے ۔عوام محرمیوں کا شکار اور غریب آدمی کیلئے انصاف کا حصول ناممکن ہو گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مفاد پرست سیاستدان اور عوامی نمائندے ظالم حکمرانوں کے مدد گار بنے ہوئے ہیں اور ان کی کرپشن کے سکینڈلز کا دفاع کرنے میں مصروف عمل ہیں۔اسلامی قوانین کے نفاذ سے سانحہ قصور جیسے دلخراش واقعات سے قوم کو محفوظ کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہمعصوم و مظلوم زینب کے قاتلوں کو جلداجلد گرفتار کر کے سرعام پھانسی دی جائے اورآئی جی پنجاب مظاہرین پر فائرنگ کیس میں ملوث تمام افراد کو قوم کے سامنے پیش کریں۔ذکر اللہ مجاہد نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے عوام کو ان کا حق نہ دیا اور ان کے مسائل حل نہ کیے تو وہ و قت دور نہیں جب عوام اکٹھے ہوکر ان ظالموں اور بے حس حکمرانو ںکو ایوانوں سے باہر پھینک دیں گے۔ ذکر اللہ مجاہد نے ملک میں قانون نفاذ کرنے والے اداروں اور سپریم کورٹ آف پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس واقع کے مجرموں کو جلد ازجلد گرفتار کر کے مینار پاکستان پھانسی دی جائے ۔ شوشل میڈیا اور الیکٹرنک میڈیا پر فحاشی و عریانی کے ذرائع بند کیے جائیں اور ملک میں اسلامی تعلیمات کی طرف اپنی نسل نو کو متوجہ کیا جائے۔ 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس