Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

چند ڈالروں کے عوض ملک وقوم کی خودمختاری کو داؤپر نہیں لگایا جاسکتا۔میاں مقصوداحمد


لاہور13جنوری 2018ء:امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے آرمی چیف کے بیان کہ’’پاکستانی سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے ہمیں دھوکہ دیا،امریکہ کو امداد کی بحالی کانہیں کہیں گے‘‘کو خوش آئندقراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی آرمی چیف کے اس بیان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔چند ڈالروں کے عوض ملک وقوم کی خودمختاری اور سلامتی کوہرگز داؤپر نہیں لگایاجاسکتا۔حالیہ دنوں میں جس طرح امریکہ نے پاکستان کے ساتھ بے اعتنائی کا رویہ برتاہے اور ہمارے دشمن بھارت پر نوازشات کی بارشیں شروع کردی ہے اس سے ثابت ہوگیا ہے کہ امریکہ خطے میں صرف اورصرف اپنے مفادات کاحصول چاہتاہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ افغانستان میں اپنی ناکامیوں کا ساراملبہ پاکستان پر ڈال کر دنیا کی نظروں میں سرخرو ہونا چاہتاہے۔پاکستان نے نائن الیون کے بعد جس طرح امریکہ کی نام نہاد جنگ میں حصہ لیا اور اپنا بے پناہ نقصان کیا اس کا عالمی برادری کو ادراک ہونا چاہئے۔امریکی دھمکیوں سے ثابت ہوتاہے کہ وہ پاکستان کا دوست نہیں بلکہ ایک کھلا دشمن ہے۔امریکہ کی اس نام نہاد جنگ میں ہمارے60ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بنے ہیں اور ملکی معیشت کوبھی120ارب ڈالر سے زائد کانقصان ہواہے مگر اس کے باوجود امریکہ کا امداد کاطعنہ دینا اور ڈومور کامطالبہ سراسر غلط ہے۔ہمیں امریکہ کی اس جنگ سے جان چھڑانی ہوگی تبھی جاکر ہم پاکستان کوامن کاگہوارہ بناسکتے ہیں۔جنگ اور امن دونوں ساتھ نہیں چل سکتے ۔انہوں نے کہاکہ اب وقت آگیاہے کہ حکومت پاکستان ایسی پالیسیاں بنائے جن کاحقیقی معنوں میں ملک وقوم کو فائدہ پہنچے۔ہمیں امداداور قرضے لینے کی روش ترک کرنی ہوگی۔اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو ہر قسم کے وسائل سے نوازاہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سے وسائل سے بھر پور انداز میں استفادہ کیا جائے۔میاں مقصوداحمد نے مزید کہاکہ نئی امریکن انتظامیہ دنیا میں خون خرابہ چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ راہ ہموار کررہی ہے۔پاکستان کو امریکہ سمیت تمام ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔حکمرانوں نے ملکی آزادی،خودمختاری اور سلامتی کو داؤ پر لگادیا ہے۔امریکہ پاکستان کو قربانی کابکرابنانا چاہتاہے ہمیں اس کی چال کو سمجھتے ہوئے اپنے مستقبل کافیصلہ کرناچاہئے اور امریکہ کی بجائے ہمیں چین،ایران،سعودی عرب،ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کرترقی وخوشحالی کی جانب آگے بڑھنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل بنانا چاہئے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس