Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

جنسی تعلیم کو نصاب میں شامل کر کے بے راہ روی کو فروغ دینے کی بجائے عریانی و فحاشی اور بے حیائی کو روکاجائے۔لیاقت بلوچ


 

لاہور13 دسمبر 2017ء:سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے منصورہ میں جاری کارکنان کی مرکزی تربیت گاہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ 2018 ءکے انتخابات انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ انتخابات پر سیاہ بادل چھائے ہوئے ہیں ۔ چار مارشل لاﺅں نے پاکستان کو کمزور کیا اور نام نہاد جمہوری حکمرانوں نے ملک و قوم کو لوٹنے اور اپنی دولت میں اضافہ کرنے کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔ 

لیاقت بلوچ نے کہاکہ فوجی بیرکوں میں پلنے والی پنیریوں نے ملک میں جمہوریت کو سخت نقصان پہنچایا ۔ جمہوریت کا راگ الاپنے والی پارٹیوں کے اپنے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ ظالم جاگیرداروں ، وڈیروں اور کرپٹ سرمایہ داروں نے مختلف سیاسی جماعتوں میں پناہ لے رکھی ہے ۔ یہ چاچے بھتیجے اور ماموں بھانجے الگ الگ جماعتوں کے پرچم اٹھائے ہوئے ہیں تاکہ اپنی کرپشن کو چھپا سکیں ۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی جماتیں خاندانی پراپرٹیاں بن گئی ہیں اور ملک میں جمہوریت کی بجائے موروثی سیاست کو پروان چڑھایا جارہاہے ۔ حکمران قومی مفاد کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں ۔ 

لیاقت بلوچ نے کہاکہ سانحہ قصور پر سب کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔ جنسی تعلیم کو نصاب میں شامل کر کے بے راہ روی کو فروغ دینے کی بجائے عریانی و فحاشی اور بے حیائی کو روکنے اور اس طرح کے جرائم کے سدباب کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کر کے مجرموں کو عبرتناک سزا ئیں دی جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے گناہوں کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ رہاہے ۔ لیاقت بلوچ نے کہاکہ ماہ جنوری میں ہی ایم ایم اے مکمل طور پر بحال ہو جائے گی اور ممکن ہے کہ حکومتوں سے علیحدگی کی کوئی تاریخ بھی اسی ماہ کے اندر طے ہو جائے جس کے بعد ایم ایم اے پورے ملک میں عوامی رابطہ مہم شروع کرے گی ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس