Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اگر ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو جاتاتو آج معصوم اور کمسن بچیوں کی لاشیں نہ اٹھانا پڑتیں ۔حافظ محمد ادریس


لاہور12جنوری 2018ء:نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ محمد ادریس نے کہاہے کہ قیام پاکستان کے وقت اگر ملک میں اسلامی نظام نافذ ہو جاتاتو آج معصوم اور کمسن بچیوں کی لاشیں نہ اٹھانا پڑتیں ۔ زینب کے قتل کے وہ سب حکمران بھی ذمہ دار ہیں جو یورپ کی خوشنودی کے لیے پھانسی کی سزا پر پابند ی لگانا چاہتے ہیں ۔ جب تک معصوم بچوں کے ساتھ درندگی کرنے والوں کو چوکوں اور چوراہوں میں سرعام نہیں لٹکایا جاتا ، اس طرح کے جرائم پر قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے راہ روی پر قابو پانے کے لیے عریانی و فحاشی اور بے حیائی کے سیلاب کو روکنا ہوگا ۔ حکمران محض تصویریںبنوانے کے لیے تعزیت کرتے ہیں اگر وہ سنجیدگی سے جرائم کا قلع قمع کرنا چاہیں تو چند دنوں میں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جاسکتاہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے جامع مسجد منصورہ میں جمعہ کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

حافظ محمد ادریس نے کہاکہ معاشرے میں قبیح جرائم کا اس حدتک بڑھ جانا پولیس و عدالتی نظام کی مکمل تباہی کا ثبوت ہے ۔ آج جو کچھ ہمارے معاشرے میں ہورہاہے ، اس کی ذمہ دار براہ وہ سیکولر و لبرل حکومتیں ہیں جو ملک میں اسلامی سزاﺅں کے خلاف قانون سازی کرتی رہیں اور یورپ و امریکہ کو خوش کرنے کے لیے اسلامی سزاﺅں کے خلاف تحریکیں چلاتی رہےں ۔ انہوںنے کہاکہ اگر 73 ءکے آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل ہو جائے تو جرائم کی بیخ کنی کی جاسکتی ہے مگر حکمران خود کسی آئین و قانون کو نہیں مانتے ۔ حافظ محمد ادریس نے معاشرتی اصلاح کے لیے دینی جماعتوں کو متحد ہوکر ایک منظم اور موثر جدوجہد کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہاکہ جب تک طاغوتی اور ظلم کا نظام مسلط رہے گا ، جرائم بڑھتے رہیں گے ۔ دینی قوتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو مکمل تباہی سے بچانے کے لیے ظلم کے اس نظام کے خلاف اٹھیں اور ملک و قوم کو ایک دیانتدار اور خوف خدا رکھنے والی قیادت دیں تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں اسلامی و فلاحی مملکت بن سکے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس