Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

16 دسمبر 1971ءہماری تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے ۔ دردانہ صدیقی


کراچی 15دسمبر 2017ء    :16 دسمبر 1971ءہماری تاریخ کا وہ سیاہ ترین دن ہے کہ جب 1971 ءمیں دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کو بین الاقوامی سازش کے تحت دو لخت کر دیا گیا اور ہم تاریخی حقائق کو جانتے ہوئے بھی شخصیات اوراداروں پر الزامات عائد کرکے اپنا قبلہ درست کرنے میں ناکام رہے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی حلقہ خواتین کی سیکرٹری جنرل دردانہ صدیقی نے یوم سقوط ڈھاکا کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ سقوط ڈھاکا ہماری عسکری تاریخ کا بدترین واقعہ تھا جو جنگ شروع ہونے قبل ہی یہ بتا رہا تھا کہ ہم یہ جنگ ہار جائیں گے۔ اس سانحے نے جہاں ہماری قومی سوچ اور لاشعور پر گہرے اثرات مرتب کئے اور قوم کو مستقل طور پر بے یقینی کے خوف میں مبتلا کر دیا وہاں ملک کے اندر بھی علیحدگی پسند عناصر کی حوصلہ افزائی کی ۔ باشعور قومیں اس قسم کے سانحات سے سبق حاصل کرتی ہیں لیکن بدقسمتی سے آج 46 سال گزرنے کے باوجود ہماری قیادت ، سیاستدانوں اور رائے عامہ کی تربیت کرنے والے اداروں نے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے اسباب و نتائج پر اس طرح غور نہیں کیا کہ وہ اس کے ذمہ دار عوامل کی روشنی میں مستقبل کے لئے حکمت عملی وضع کرتے اور اس پر خلوص نیت سے عمل کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سقوط ڈھاکا کا دلخراش واقعہ امت مسلمہ کی تاریخ میں سقوط بغداد اورسقوط غرناطہ کے بعد بدترین واقعہ ہے جس نے مستقبل پر بہت گہرے اور دور رس اثرات مرتب کئے اگر ہم آئندہ ایسے واقعات سے محفوظ رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں فوری طور پر اغیار کی غلامی سے نکل کر آذادانہ داخلہ وخارجہ پالیسیاں تشکیل دینا ہونگی اور ان سب سے بڑھ کر ہمیں بحیثیت قوم اللہ سے گڑگڑا کر معافی طلب کرنا ہو گی اور اعمال صالحہ کی جانب راغب ہو نا ہو گا اورانشااللہ اس کے نتیجہ میں اللہ رب العزت ہمیں ایسے حکمران بھی نصیب فرمائے گا جو امریکہ سمیت کسی بھی دنیاوی طاقت کے آگے جھکنے کے بجائے صرف اللہ کو سپر پاور مانیں گے اور یہی حکمران ہمیں غلامی کے ان اندھیروں سے نجات دلائیں گے

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس