Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کسان بورڈ کے شوگر ملوں کی لوٹ مار کے خلاف پنجاب بھر میں روڈ بلاک مظاہرے


  لاہور 10دسمبر2017ء:کسان بورڈ پنجاب کی کال پر شوگرملوں کی لوٹ مار کے خلاف پورے پنجاب میں سڑکیں بلاک کرکے گنے کے کاشتکاروں نے احتجاجی مطاہرے کیے  جس میں ہزاروں کسانوں نے شرکت کی ۔جھنگ ،چنیوٹ ،تاندلیانوالا،سالم چوک  بھلوال،منڈی بہائوالدین ،سمیت پنجاب بھر کی شوگر ملوں کے باہر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔کسان بورڈ کے مرکزی صدرچوہدری نثار احمدنے سالم چوک پر احتجاجی مظاہرین  اورگنے کے کاشتکاروں سے خطاب کرتے کہا کہ پورے پنجاب کے کئی علاقوں کے گنے کے کاشتکاروں نے شوگر ملوں کی زیادتیوں ،اربوں روپے کے گنے کے واجبات دبانے ، کرشنگ سیزن لیٹ کر کے کسانوں سے اونے پونے گنا خریدنے کیلیے ایکا کرنے کی شکایات پرجگہ جگہ احتجاجی مظاہرے کیے ۔کسان بورڈ کے رہنمانے کہا کہ شوگر ملوں نے گزشتہ سال کی نسبت گنے کی قیمتیں کم کرنے ،ملیں بند کرکے اور کاشتکاروں کے گنے کے واجبات ہڑپ کر کے پوری قوم کے اربوں روپے لوٹ لیے ہیںاور آئندہ کھربوں لوٹنے کا پروگرام بنا لیا ہے۔ اب شوگر مل مالکان گنے کی قیمت کم کرانے کیلیے شوگر ملیں چلانے میں تاخیر کر رہے ہیں اور شوگرملوں نے آپس میں ایکا کرکے کسانوں کو لوٹنے کا پروگرام بنا رکھا ہے۔حکومت اور حزب اختلاف میں شامل تمام بڑی بڑی پارٹیوں کے سربراہ اوردیگر بڑے بڑے سیاستدان شوگر ملوں کے مالک ہیں،اس لیے انہوں نے ملوں کو لوٹ مار کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے ،لٹیری شوگر ملوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔انہوں نے کہا کہ شوگر مل مالکان اور حکومت کی کسان کش پالیسیوں کی وجہ سے کاشتکار کنگال ہو چکے ہیں اور گنے کے کرشنگ سیزن میں تا خیر سے آئندہ سال گندم کی پیداوار بھی ایک چوتھائی تک کم ہوجائے گی جس سے ملک میں قحط سالی کا راج ہوگا۔گندم کی پیداوار میں خود کفالت کے خواب چکنا چور کر دیے ہیں اور گندم کی پیدوار اور رقبے میں بھی تیس فی صد کمی ہوجائے گی ۔عدالت عالیہ نے ہماری رٹ پر23 نومبر کو ملیں چلانے کا حکم دیا مگر شوگر ملوں نے عدالت کے احکامات بھی ہوا میں اڑا دیے ۔ ،تحریک انصاف کے جہانگیر ترین ،پی پی پی کے زرداری اور مسلم لیگ ن کے نواز شریف اور شہباز شریف نے گنے کے کاشتکاروں کو لوٹنے کیلیے ایکا کر رکھا ہے ۔انہوں نے کہا کہ احتجاج کے بعد حکومت پنجاب کے نمائندوں نے ان سے رابطہ کرکے گنے کے کاشتکاروں کے مطالبات مان لیے ہیں اور یقین دہانی کرائی ہے کہ گنا 180 روپے فی من خریدا جائے گا اور سابقہ واجبات بھی ادا کیے جائیں گے ۔انہوں نے بتایا کہ حکومت نے نگران کمیٹیوں میں کسان بورڈ کے نمائندوں کو شامل کرنے کا بھی وعدہ کر لیا ہے  اس لیے ہم  احتجاج ختم کر رہے ہیں مگر انہوں نے شوگر مل مالکان کو وارننگ دی کہ وہ کاشتکاروں کو لوٹنے سے باز رہیں وگرنہ کسان بورڈ پاکستان  دوبارہ لٹیرے شوگر مل مالکان کے خلاف انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہوگا ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس