Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

جب تک امیر اور غریب کے لیے یکساں قانون نہیں ہوگا , حالات بہتر نہیں ہوں گے۔جاویدقصوری


لاہور6دسمبر2017ء:قائم مقام امیر جماعت اسلامی پنجاب محمدجاویدقصوری نے ہائی کورٹ کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ اس عدالتی فیصلے سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کو انصاف کے حصول میں مدد ملے گی ۔ماڈل ٹاؤن انکوائری رپورٹ نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دے دیا ہے۔اس رپورٹ سے بہت سارے مخفی کردار بے نقاب ہوجائیں گے۔انہوں نے کہاکہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے اصل ذمہ داران کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے ۔70برسوں سے یہ ہماراالمیہ رہاہے کہ ملک میں مٹھی بھر اشرافیہ نے وسائل پر قبضہ جماکر حکومتی مشینری کو یرغمال بنارکھاہے۔جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا راج اب زیادہ عرصہ نہیں چل سکتا۔جب تک امیر اور غریب کے لیے یکساں قانون نہیں ہوگا اس وقت تک ملک کے اندرونی حالات بہتر نہیں ہوسکتے۔انہوں نے کہاکہملک میں کوئی بھی شخص یا ادارہ ماورائے آئین وقانون نہیں۔اگر حضرت عمرؓ جیسارہنما اپنی قوم کو جوابدہ ہوسکتا ہے توہمارے حکمران کیوں نہیں؟۔انہوں نے کہاکہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پنجاب حکومت نے ماڈل ٹاؤن واقعہ میں ملوث افراد کوچھپانے کی کوشش کی جس پر عوام الناس میں شدید ردعمل پایاجاتاہے۔پولیس کا رویہ بھی سچائی کو دفن کردینے کا مترادف تھایہی وجہ ہے کہ ٹربیونل کوکیس کی تہہ تک جانے کے لیے مکمل اختیارات نہیں دیئے گئے۔انہوں نے کہاکہ صوبائی وزیر قانون راناثناء اللہ کے حکم پر ماڈل ٹاؤن میں خون کی ہولی کھیلی گئی۔حکومت کو پابند کیاجائے کہ وہ سانحہ کا ٹرائل غیر جانبداراور شفاف اور اس کی انکوائری رپورٹ کو 30دن میں یقینی بنائے ۔انہوں نے کہاکہ بااثر کرپٹ مافیا نے ملک وقوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔عوام کی جان ومال،عزت وآبرو کچھ بھی محفوظ نہیں۔ملک میں عملاً جنگل کا قانون رائج ہے۔لاقانونیت کی انتہاہوچکی ہے جس سے لوگوں میں مایوسی پھیل رہی ہے۔عوام کو اندھیروں سے نکالنے کے لیے عدلیہ کو آزادی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس