Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

انبیاء ؑ کا ورثہ درہم و دینار نہیں بلکہ علم ہے ۔دردانہ صدیقی


کراچی ؍04 دسمبر 2017ء:علماء انبیاؑ کے وارث ہوتے ہیں اور ان کا ورثہ درہم و دینار نہیں بلکہ علم ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو علم کی اہمیت سے سب سے زیادہ واقف ہو نا چاہیئے کیونکہ اسلام کی ابتداء بھی اقراء کے پہلے حکم ربّی سے ہوتا ہے۔ اس علم کی اہمیت کیوں ہے، یہ ہم سب کو مل کر سوچنا چاہیئے۔ یہ بات سیکریٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان (حلقہ خواتین ) دردانہ صدیقی نے جامعات المحصنات پاکستان کے تحت ہونے والے دو روزہ پرنسپلز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انہوں نے مزید کہا کہ خلافت کی گراں بار ذمہ داری کو اٹھانے کے لئے اللہ تعالی نے علم کے حصول کو فرض قرار دیا ہے اور مسلمان اس وقت تک ترقی کرتے رہے جب تک علم کی جستجو اور پیاس ان کے اندر رہی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کا اولین مقصد بھی امت کو تعلیم دینا ہی تھا۔ اسی لیے انہیں حکمت و دانائی عطا کی گئی۔لیکن آج امت مسلمہ گمراہیوں کے اندھیروں میں بھٹک رہی ہے کیونکہ اس نے علم کا حصول ترک کردیا ہے۔ دردانہ صدیقی نے کہا کہ جامعات المحصنات نہ صرف ہماری امید بلکہ ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت بھی ہے۔ طالبات کو چاہیے کہ وہ قرآن و حدیث کی روشنی میں جدید ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے تحقیق کی نئی سمتیں متعین کریں۔ علاوہ ازیں سابقہ سیکریٹری جنرل اور ممبر قومی اسمبلی عائشہ منور نے 2018 کے الیکشن میں جامعات المحصنات کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کس طرح وہ اپنے ارد گرد دعوتی کام کے پھیلاؤ کے ذریعے افراد کی ذہن سازی کر سکتی ہیں۔چیئرپرسن المحصنات ٹرسٹ تحسین فاطمہ نے سیرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت رحمت اللعالمین کے مختلف پہلوؤں کو واضح کیا۔ بعد ازاں نگران جامعات المحصنات پاکستان مبین طاہرہ نے سالانہ اہداف کی روشنی میں جامعات کی کارکردگی کا جائزہ پیش کیا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس