Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

چائنا کٹنگ کے اصل ذمہ داروں کو سزا دیئے بغیر انصاف ممکن نہیں ،حافظ نعیم الرحمن


کراچی 02 دسمبر 2017ء: جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے چائنا کٹنگ کے نتیجے میں 35ہزار پلاٹوں پر قبضہ اورغیرقانونی تعمیرات کے حوالے سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ کے ڈی اے اور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے جو بھی افسران یا سابقہ عوامی نمائندے چائنا کٹنگ کے اس عمل میں ملوث ہیں ان کو فوری گرفتار کر کے مقدمات چلائے جائیں ۔غیر قانونی تعمیرات کی وجہ سے شہر بدترین مسائل کا شکار ہے اور اگر یہ تعمیرات اسی طرح ہو تی رہی تو اتنے مسائل پیدا ہوں گے کہ ان کا حل نا ممکن ہو جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ اصل ذمہ داران کو سزا دیئے بغیر انصاف کے تقاضے کسی صورت پورے نہیں ہو سکتے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر سپریم کورٹ اور دیگر عدالتیں بر وقت فیصلے کر دیتیں تو یہ صورتحال نہ پیدا ہو تی ۔ 2009ء میں نعمت اللہ خان سابق سٹی ناظم سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے سپریم کورٹ میں سر کاری اراضی ، رفاہی ،فلاحی اور مفاد عامہ کے لیے مختص پلاٹوں پر قبضے کے خلاف پٹیش فائل کی لیکن آج بھی وہ عدالت میں زیرِ التواء ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت فیصلے کا زیادہ ملبہ ان خریداروں پر گرے گا جنہوں نے سرکاری کاغذات کو دیکھ کر ان پلاٹوں یا مکانوں وغیرہ کو خریدا ۔ ان خریداروں کو معاوضہ دیئے بغیر بے دخلی ان کو معاشی طور پر تباہ کر نے کے مترادف ہو گا چونکہ بہت سے لوگوں نے تو زندگی بھر کی جمع پونجی گھر بنانے میں صرف کر دی ہو گی ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اس فیصلے پر عمل در آمد کے نتیجے میں ممکن ہے کہ بہت سی زمین واگزار ہو جائے لیکن جن لوگوں نے قبضہ کیا جنہوں نے کاغذات بنائے اور جنہوں نے ان پلاٹوں کے کاغذات پر تعمیرات کی اجازت دی بالخصوص KDAاور بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ذمہ داران مزے میں رہیں گے جبکہ یہ سب اس غیر قانونی کاروائیوں کے نتیجے میں کروڑ پتی ارب پتی بن چکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس وقت بھی پورے شہر میں بلڈنگ کنٹرول افسران کی زیر سر پرستی ہزاروں غیر قانونی بلڈنگز کی تعمیرات جاری ہیں لیکن جب بھی کاروائی کا شور مچتا ہے تو یہ کاروائی اس طر ح کی جاتی ہے کہ بلڈرز کو کوئی نقصان نہ پہنچے بلکہ خریدار متاثر ہوں ۔اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت جاری غیر قانونی تعمیرات کو فوراً روکوایا جائے اورجن علاقوں میں یہ تعمیرات ہو رہی ہیں وہاں متعین افسران کو عبرتناک سزائیں دی جائیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس