Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اللہ کے احکامات پر چل کر انسان باعزت اور باوقار جبکہ اس کے راستے سے بھٹک کر ذلیل و خوار ہو جاتاہے ۔ سینیٹر سراج الحق


لاہور12 نومبر 2017ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ ملک میں ایک عجیب بے یقینی کی فضا ہے اور ایسے لگتاہے کہ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں ۔ حکمرانوں نے خود کو اسلام آباد میں قلعہ بند کر رکھاہے ۔ اسلام آباد کا کوئی والی وارث نظر نہیں آتا ۔ حکمرانوں کے چہرے زرد پڑ گئے ہیں ۔ موجودہ اور سابقہ حکمرانوں کے نام پانامہ اور پیراڈائز لیکس میں ہیں ۔ حکمران نہ صرف کرپٹ اور بددیانت ہیں بلکہ نااہل بھی ہیں ۔ کرپٹ جاگیرداروں اور ظالم سرمایہ داروں کے پاس عوام کے مسائل کا کوئی حل نہیں ۔ کراچی میں آئے روز نئے ڈرامے ہو رہے ہیں۔ مجرموں کو معاف نہیں ان کے ساتھ انصاف ہوناچاہیے ۔ ظالمانوں کو معاف کرنے والے ظلم کو بڑھا اور ظالم کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں ۔ قاتلوں کو معاف کر کے انہیں کھلی چھوٹ دے دینا ملک کے سب سے بڑے شہر کو قتل و غارت گری کے حوالے کرنے کے مترادف ہے ۔ عوام پاکستان کو خوشحال اور اداروں کا استحکام چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کا ساتھ دیں ۔ جماعت اسلامی ملک کی واحد نظریاتی اور جمہوری جماعت ہے جو پاکستان کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ مشرف دور میں تمام سیاسی جماعتوں نے انتخابات کے بائیکاٹ کا عہد کیا تھا مگر جماعت اسلامی کے علاوہ سب لوگ اپنے وعدوں سے مکر گئے ۔ حکمرانوں کا کوئی قبلہ ہے نہ ان پر اعتبارکیا جاسکتاہے ۔ امریکی مہروں اور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے آلہ کاروں کو اقتدار کے ایوانوں سے نکالناہوگا ۔ قوم سانپوں کو دودھ پلا کر اژدھا اور بچھوﺅں کو پال پوس کر ہاتھی بنانے کا رویہ چھوڑدے ورنہ رونے دھونے کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا ۔ ان خیالات کااظہار انہوںنے ماڈل ٹاﺅن لاہو رمیں ملک شاہد اسلم کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیے گئے عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔عشائیہ تقریب سے امیر جماعت اسلامی لاہور ذکر اللہ مجاہدنے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر امیر العظیم اور ملک شاہد اسلم بھی موجود تھے ۔

سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ مسلم لیگ ، پیپلز پارٹی یا کسی دوسری جماعت کو ووٹ دینے والے ان کے جرائم میں برابر کے شریک ہیں ۔ وہ اللہ کے ہاں ان جرائم سے انکار نہیں کر سکیں گے ۔ مغرب سیاست اور حکومت کو اسلام سے الگ کرنا چاہتاہے تاکہ اسلام کی حکمرانی کا راستہ روکا جاسکے ۔ انہوںنے کہاکہ استحصال کے خاتمہ اور بھیڑیوں کی درندگی سے بچنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ نظام مصطفی کا نفاذ ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مہذب معاشرے کے لیے عدالتی نظام کی بہتری ضروری ہے ملک میں امیر کو انصاف اور غریب کو دھکے ملتے ہیں ۔ عدالتوں کے دروازے سونے کی چابی سے کھلتے ہیں ۔ قرآن کے مطابق فیصلے نہ کرنے والوں کو ظالم اور فاسق کہا گیاہے ۔ چیف جسٹس کی میز پر فیصلوں کے لیے قرآن دیکھنا چاہتاہوں ۔ انہوںنے کہاکہ چوروں کو اقتدا ر کے ایوانوں میں پہنچا کر خزانے کی حفاظت کی امید رکھنا خود فریبی ہے کے سوا کچھ نہیں ۔ اس گھمبیر صورتحال سے نکلنے کے لیے عوام ہمارا ساتھ دیں ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ یہاں شوکت عزیز ناکامی سے دوچار ہوا ،اسحق ڈار نے بڑے بڑے دعوے کیے مگر ملکی معیشت تباہی سے دوچار ہے ۔ دن رات محنت کرنے والے کسانوں اور مزدوروں کے بچے بھوکے ہیں ۔ پڑھے لکھے نوجوان بے روزگار ہیں ۔ سودی اور استحصالی نظام میں پاکستان کسی طرح بھی ترقی نہیں کر سکتا ۔انہوںنے کہاکہ جماعت اسلامی کا پیغام یہ ہے کہ آپ نے جو کلمہ پڑھا ہے اور جس نظریے کو حق سمجھا ہے ، اس کے مطابق اپنی زندگیاں گزاریں اور دین میں پورے کے پورے داخل ہو جائیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم ملک میں رب اور اس کے رسول کے نظام کے نفاذ کی بات کرتے ہیں ۔ آئین کاتقاضاہے کہ ملک سے سودی نظام کا خاتمہ کیا جائے ۔ یہ شدت پسندی انتہا پسندی کی بات نہیں آئین کی پابندی کا تقاضا ہے ۔ 

سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ اللہ کے احکامات پر چل کر انسان باعزت اور باوقار جبکہ اس کے راستے سے بھٹک کر ذلیل و خوار ہو جاتاہے ۔ پاکستان کا آئین اسلامی ہے جس میں اللہ اور رسول کے احکامات کو راہنما تسلیم کیا گیاہے مگر اس آئین کی مسلسل خلاف ورزی ہورہی ہے ۔ سودی معیشت ہے جس کی وجہ سے معاشی نظام برباد ہے اور قوم پر قرضوں کا کوہ ہمالیہ ہے ، حالانکہ وسائل کی کمی ہے نہ محنتی لوگوں کی ۔ اللہ تعالیٰ نے سونے چاندی ہیروں کی کانیں دی ہیں ۔ چار سو سال تک کے کوئلے کے ذخائر ہیں ،اس کے باوجود ہم آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس