Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اللہ کی بندگی اختیار کرکے ہی طاغوتی قوتوں کا مقابل کیا جاسکتا ہے،حافظ نعیم الرحمان


کراچی11نومبر2017ء: اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام کو زندگی کے ہر دائرے میں عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ اسلامی تحریک کے کارکن دنیا میں اسلام کا عملی نظام چاہتے ہیں۔ اللہ کی بندگی اختیار کرکے لیبرمسائل سمیت تمام مسائل کا حل ممکن ہے۔ یہ بات جماعت اسلامی کراچی کے امیر انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے ’’وی ٹرسٹ‘‘ کے زیراہتمام ’’سہ روزہ تربیتی ورکشاپ برائے قائدین این ایل ایف‘‘ میں ملک بھر سے آئے ہوئے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ تربیتی ورکشاپ میں ملک کے نامور اہل علم اور دانش وروں نے لیکچرز دیے جن میں وی ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر شفیع ملک، نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے مرکزی صدر رانا محمود علی خان، ماہر معاشیات اور سابق مشیر حکومت سندھ ڈاکٹر قیصر بنگالی، معروف صحافی و دانشور شاہنواز فاروقی، آغا خان یونیورسٹی کے مشیر برائے صنعتی تعلقات پرویز رحیم نے بھی خطاب کیا۔ حافظ نعیم الرحمن نے زندگی کی بنیادی حقیقت اور تقویٰ کے بنیادی نکتے کی جانب توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ دنیا کی زندگی دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں۔ آخرت کی نہ ختم ہونے والی زندگی کی تیاری کی جائے۔ ہر شخص کو اپنے پل پل کا حساب دینا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے عملی راستے کی طرف راہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ عزم و ہمت کے ساتھ قرآن و سنت کے بابرکت نظام کے نفاذ کی جدوجہد کی جائے۔ لیبرمسائل سمیت تمام مسائل کا حل اسی جدوجہد کی کامیابی میں مضمر ہے۔ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کے صدر رانا محمود علی خان نے کہا کہ وی ٹرسٹ کے تحت سہ روزہ تربیت گاہ ملک بھر سے آئے ہوئے ٹریڈ یونین رہنماؤں اور کارکنان کیلئے انتہائی مفید ثابت ہوگی اور محنت کش یہاں سے عملی زندگی کا ایسا روشن پیغام لے کر جائیں گے جو کہ معاشرے میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ ضرورت صرف جدوجہد کی ہے۔ وی ٹرسٹ کے چیئرمین پروفیسر شفیع ملک نے کہا کہ محنت کش اللہ کا دوست ہے۔ وی ٹرسٹ محنت کشوں کی ذہنی تربیت کے لئے تربیتی پروگرامات کا انعقاد باقاعدگی کے ساتھ کرتا ہے۔ محنت کشوں کو پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرنا ہے۔ 2019ء میں این ایل ایف کی گولڈن جوبلی منائی جائے گی اور این ایل ایف کو پاکستان کی سب سے بڑی فیڈریشن بننے کا حق ادا کرنا ہوگا۔ اس کے لئے ضرورت ہے کہ ہم پوری قوت کے ساتھ کام کریں۔ ماہر معاشیات ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کہا کہ سی پیک منصوبہ پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ اس کے فوائد و نقصانات پر ہماری حکومت کی نظر نہیں ہے۔ ہمارے حکمران اور وزراء بغیر پڑھے تمام معاہدوں پر دستخط کرنے کے عادی ہیں۔ جس کے نتیجے میں معاہدے میں شامل بہت سے ایسے ضابطوں کے پابند ہوچکے ہیں جو ملک کی سالمیت کے خلاف ہیں۔ ممتاز صحافی و دانشور شاہنواز فاروقی نے کہا کہ جو علم نہیں رکھتا، وہ حکمرانی کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ اسلام دنیا میں غالب ہونے کے لیے آیا ہے، مغلوب ہونے کیلئے نہیں۔ علم سے انسان میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ صرف اسلام کا طرزحکمرانی ہی کامیابی کی منزل سے ہمکنار کرسکتا ہے۔ مشیر آغا خان یونیورسٹی شعبہ تعلقات عامہ پرویز رحیم نے کہا کہ آجر اور اجیر کے بہتر تعلقات کے ذریعے پیداواری نظام میں بہتری آسکتی ہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس