Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

سینیٹر سراج الحق نے نااہل شخص کو پارٹی عہدیدار بنانے کے خلاف سینیٹ میں ترمیمی بل جمع کرادیا


لاہور11 کتوبر 2017ء: ا میر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے ”انتخابات ایکٹ 2017“ میں ترمیم کا بل سینیٹ میں جمع کرادیا ہے۔ترمیمی بل میں شق 203 کی ذیلی شق (الف) میں جملہ شرطیہ کا اضافہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایسا شخص کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار نہیں بن سکتا جو مجلسِ شوریٰ (پارلیمنٹ) کے رکن کے طور پر نااہل ہو یا جسے ایکٹ ہذا کے آغازِ نفاذ سے قبل نافذ شدہ کسی دوسرے قانون کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو۔ بل کے اغراض و مقاصد میں کہا گیا ہے کہ پولیٹیکل پارٹی آرڈر 2002 میں موجود شق پانچ کے شرطیہ پیراگراف، جس کی رُو سے پارلیمنٹ کی رکنیت کی اہلیت نہ رکھنے والا شخص پارٹی سربراہ نہیں بن سکتاتھا ، کو ختم کرنے کے لیے انتخابات ایکٹ 2017 کی شق 203میںتبدیلی کرتے ہوئے اس پیراگراف کو حذف کر دیاگیا ہے ۔ مزید کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے 29 جولائی 2017ءکے فیصلے کی رُو سے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم کو فائدہ پہنچانے کے لیے حکومت ’انتخابات بل 2017ئ‘ میں شق 203 کے ذریعے ایک ایسی ترمیم لے آئی جس کے ذریعے پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل شخص بھی پارٹی عہدہ رکھ سکتا ہے۔ تمام اپوزیشن جماعتوں نے اس حکومتی ترمیم کی بھرپور مخالفت کی۔ تاہم حکومت نے 22 ستمبر 2017ءکو پہلے سینیٹ اور بالآخر مورخہ 02 اکتوبر 2017ءکو قومی اسمبلی سے پاس کرواکر سپریم کورٹ کی طرف سے نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم کے پارٹی سربراہ بننے کی راہ میں حائل رُکاوٹ دور کردی۔ اس غیر جمہوری ترمیم کے ذریعے نہ صرف پارلیمانی نظام کو کمزور کیا گیا بلکہ اس سے پارلیمنٹ کے وقار کو بھی شدید دھچکا لگا۔ عوامی حلقوں میں یہ بات تشویش کی نگاہ سے دیکھی جانے لگی کہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل قرار دیا گیا شخص پارٹی عہدیدار بننے کا اہل کیسے ہوسکتا ہے؟ فرد واحد کے لیے قانون سازی کرنا اچھی روایت نہیں ہے اور عوام اسکو کبھی قبول نہیں کریں گے۔لھذا بل ہذا کے مطابق’انتخابات ایکٹ 2017ئ‘ کی شق کو از سرِ نو ترتیب دے کر اس میں ترمیم کی جائے، تاکہ پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے نااہل شخص پارٹی عہدہ رکھنے کے لیے بھی نااہل قرار پائے

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس