Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اسلامی جمہوریہ پاکستان سے سود ختم کیاجائے ورنہ اس کے خلاف تحریک چلائیں گے۔قرارداد


لاہور9اکتوبر2017ء:جماعت اسلامی صوبہ پنجاب کے ذمہ داران کاایک اہم اجلاس گزشتہ روز امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصوداحمد کی زیر صدارت منصورہ لاہورمنعقد ہوا۔اجلاس میں ڈاکٹرسید وسیم اختر،بلال قدرت بٹ ،جاوید قصوری،چودھری عزیر لطیف ،چودھری اصغر علی گجر،شیخ عثمان فاروق،سردار ظفر حسین خان،محمد انور گوندل ،مولانافاروق احمد،رمضان روہاڑی اور دیگرذمہ داران نے شرکت کی۔اجلاس میں سودی نظام معیشت،فحاشی وعریانی،اور دیگر ایشوزپرمتفقہ طور پر منظور کی گئیں۔منظور ہونے والی قراردادوں میں کہاگیا ہے کہ یہ اجلاس اسلامی جمہوریہ پاکستان جو اسلام کے نام پرمعرض وجود میں آیا،اس میں سودی نظام معیشت کے مکمل خاتمے کامطالبہ کرتا ہے۔کیونکہ سودی کاروبار اللہ اور رسولؐ کے خلاف کھلی جنگ ہے۔سود ایک ایسی لعنت ہے جو فرد یا ملک اس کا شکارہوتا ہے ،اس کی معیشت تباہ وبرباد ہوکر رہتی ہے۔اس ملک کی شریعت کورٹ نے سود کو حرام قراردیتے ہوئے اس کو ختم کرنے کا فیصلہ دیا لیکن ہمارے ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے نہ صرف اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف اپیل میں چلے گئے۔یہ اجلاس اس اقدام کی پُرزور مذمت کرتا ہے اور مطالبہ کرتاہے کہ اس اپیل کو فوراً واپس لیاجائے بصورت دیگر مسلمانان پاکستان اس کے خلاف ایسی تحریک چلائیں گے کہ اقتدار کے ایوان لرزہ براندام ہوجائیں گے۔جماعت اسلامی پنجاب نے پورے صوبے میں سود کے خلاف مہم چلانے کا فیصلہ کرلیا ہے۔یہ اجلاس معاشرے میں بڑھتی ہوئی عریانی اور فحاشی کے کلچر پر گہری تشویش کا اظہارکرتا ہے۔اس نظریاتی ملک کے میڈیا سے جس طرح کھلے عام عریانی کامظاہرہ کیاجارہا ہے اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔پیمرا اس وقت توحرکت میں آجاتا ہے جب کوئی بات حکومت کے خلاف نشر ہوجائے لیکن ٹی وی پر فحش ڈرامے،ذومعنی جملے اور عریاں لباس اسے نظر نہیں آتے۔بے حیائی کے اس کلچر سے نسل نو کے اخلاق تباہ ہورہے ہیں اور وہ مادرپدرآزادی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔یہ اجلاس پیمرااور حکومت کو یاددلاتاہے کہ یہ کروڑوں مسلمانوں اور محمد عربیؐ کے غلاموں کا ملک ہے۔یہ ملک ایک نظریے کے تحت وجود میں آیا ہے۔ہم اس بے حیائی کے کلچر کو برداشت نہیں کریں گے۔یہ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ پیمرا اپنی ذمہ داری پوری کرے۔فحش تصاویر اور مناظر کی اشاعت بندکردے۔یہ اجلاس پاکستان جیسے زرعی ملک میں کسانوں کے مسائل سے مسلسل صرف نظر کرنے پر حکومتی پالیسی کی مذمت کرتا ہے۔حکومت ترقی کے دعوے تو بہت کرتی ہے لیکن زراعت جوپاکستان کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اس کو تباہ کرنے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھی۔کھادوں اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے لیکن کسان اپنا خون پسینہ ایک کرکے جو فصل اگاتاہے اسے اس کی صحیح قیمت وصول نہیں ہوتی۔کسان دن بدن مشکلات کا شکارہورہا ہے۔کپاس کی فصل کی ابھی تک قیمت مقر ر نہیں کی گئی۔اسی طرح گنے کے کاشتکاروں کوجس طرح ننگ کیاجارہا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔گنے کے کاشتکاروں کو شگر ملز والے ادائیگی نہیں کرتے۔اس صورتحال نے کسانوں کو ایک اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ کپاس کی فوری طورپر قیمت مقررکی جائے۔گنے کی پوری فصل اٹھانے کاانتظام کیاجائے اور کسانوں کو بروقت ادائیگی کی جائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس