Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

نیب کے نئے چیئرمین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بلاامتیاز سب کا کڑا احتساب کریں گے۔سراج الحق


لاہور 10اکتوبر 2017ء:امیر جماعتِ اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ سب کا احتساب ہے۔ نیب کے نئے چیئرمین سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ بلاامتیاز سب کا کڑا احتساب کریں گے۔ ہم کسی ایک فرد یا خاندان نہیں بلکہ بلاامتیاز سب کا احتساب چاہتے ہیں، ہم نے اس مقصد کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس میں شرکت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔

سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ قانون امیر و غریب سب کے لیے برابر ہونا چاہیے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں امیر کے لیے قانون الگ اور غریب کے لیے الگ ہے۔ امیر اربوں کی کرپشن کرکے بھی ملک سے فرار ہوجاتا ہے، اور غریب دو سو روپے کے مقدمے میں بھی جیل چلاجاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیسا قانون ہے کہ امیر سرخ بتی کو توڑے تو کوئی نہیں پوچھتا، غریب سرخ بتی کو توڑدے تو فوراً چالان ہوجاتا ہے۔ پانچ فیصد کرپٹ مافیا پچانوے فیصد عوام کا خون نچوڑنے میں لگا ہے۔ جمہوری نظام کے نام پر تماشہ لگا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ ہر طاقتور کو قانون کے کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے۔ عوام کی خدمت کے نام پر ووٹ لینے والے عوام کو جوابدہ ہونگے تو ملک کا نظام درست سمت میں گامزن ہوگا۔ ملک کو امن، ترقی، انصاف کی راہ پر گامزن کرنے اور اسے صحیح معنوں میں کرپشن، بے روزگاری، غربت، جہالت، دہشت گردی اور اس جیسی دیگر بیماریوں سے پاک کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ایک ایسی قیادت کا انتخاب کیا جائے جو حقیقی معنوں میں دیانتدار اور ملک و قوم کا درد رکھنے والی ہو۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کا عزم اور بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ 

دریں اثنا سینیٹر سراج الحق نے بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے نو منتخب امیر سمیت آٹھ مرکزی قائدین کی بغیر الزام گرفتاری کی شدید مذمت کی ہے ۔ انھوںنے کہاکہ حسینہ واجد کی حکومت جماعت اسلامی کے خلاف ایک عرصے سے انتقامی کاروائیاں کر رہی ہے ۔ اب تک نام نہاد جنگی ٹریبونل سے جماعت اسلامی کے سابق امیر مطیع الرحمن نظامی سمیت کئی رہنما پھانسی پاچکے ہیں ۔ اس بات کا خطرہ ہے کہ ان رہنماﺅں کو بھی انتقام کا نشانہ بنایا جائے گا ۔ انہوںنے کاکہ جماعت اسلامی بنگلہ دیش 1971 ءکی جنگ میں پاکستانی فوج کا ساتھ دینے کے جرم میں سزا بھگت رہی ہے ۔ افسوس کا مقام ہے کہ پاکستانی حکومت اس کو بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دے کر عالمی فورم پر اس مسئلے کو اجاگر نہیں کر رہی ۔ حکومت پاکستان اس سہ فریقی معاہدے کو بین الاقوامی فورم پر پیش کر کے جو شیخ مجیب الرحمن ، اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان طے پایا تھا کہ 1971 ءکے جنگی جرائم کے بارے میں کوئی کاروائی نہیں کی جائے گی ، جماعت اسلامی کو ریلیف دلاسکتی تھی ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس