Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قبائلی عوام کو ٹرخانے کی بجائے انہیں بھی وہی حقوق دیے جائیں جو ملک کے دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں ۔ سراج الحق


لاہور 9اکتوبر 2017ء:امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہاہے کہ قبائلی عوام کو ٹرخانے کی بجائے انہیں بھی وہی حقوق دیے جائیں جو ملک کے دوسرے شہریوں کو حاصل ہیں ۔ قبائلی عوام نے ہمیشہ ملک و قوم کے لیے قربانیا ں دی ہیں اب ان قربانیوں کے بدلے انہیں ظلم و جبر کا شکار نہ بنایا جائے ۔ حکومت قبائل کے ساتھ اپنے طے شدہ موقف سے پیچھے ہٹ رہی ہے ۔ قبائلیوں کو ہمیشہ آپس میں لڑایا گیا مگر اب وہ سیاسی شعور رکھتے ہیں اس لیے انھیں لڑانے اور تقسیم کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوگی ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی اور مختلف سیاسی جماعتوں کے اسلام آباد کے ڈی چوک میں جاری دھرنے کے شرکاءسے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

سینیٹرسراج الحق نے کہاکہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم اور سرتاج عزیز اصلاحاتی کمیٹی کی تجاویز پر عمل درآمد کیا جائے ۔ قبائل پر طویل مدت سے ظلم و جبر کا جو نظام مسلط ہے اب وہ اس کا سایہ بھی برداشت نہیں کریں گے اس لیے حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر فاٹا کے رہنے والوں کو بھی لاہور اور اسلام آباد کے شہریوں کے حقوق دیے جائیں اور انہیں پاکستان کے آزاد شہری تسلیم کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ اب فاٹا کی حیثیت بفر زون کی نہیں ہونی چاہیے ۔ قبائلی عوام کو تعلیم ،صحت ،روزگار اور ملک کے دوسرے شہریوں کی طرح انصاف کے مواقع دیے جائیں۔انہوں نے کہاکہ فاٹا میں کوئی یونیورسٹی میڈیکل کالج اور بڑا ہسپتال نہیں ۔ ایک کروڑ سے زائد قبائلی عوام انتہائی پسماندہ زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور ان تمام پریشانیوں کا اصل سبب ایف سی آز کا ظالمانہ نظام ہے جس سے وہ قیام پاکستان کے بعد بھی آزادی حاصل نہیں کر سکے ۔ انہوں نے کہاکہ پولیٹیکل انتظامیہ نے عوام کے حقوق غصب کررکھے ہیں ۔ کسی ایک فرد کے جرم کی سزا پورے خاندان اور قبیلے کو دی جاتی ہے ۔ پولیٹیکل ایجنٹ خود کو علاقے کا بادشاہ سمجھتاہے جو کسی آئینی ادارے کے سامنے جوابدہ نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ قبائلی عوام نے ہمیشہ پاکستان کے تحفظ اور سلامتی کے لیے خود کو وقف کیے رکھا اور آج بھی قبائلی عوام ملکی دفاع کے لیے سب سے بڑھ کر قربانیاں دے رہے ہیں مگر یہاں کے نوجوان تعلیم ، صحت ،انصاف اور روزگار سے محروم ہیں ان کی محرومیوں کا ایک ہی علاج ہے کہ فاٹا کے عوام کو جلد از جلد ایف سی آر کے کالے قانون سے آزاد کر کے پاکستان کے باعزت شہری تسلیم کیا جائے ۔ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کر کے وہاں پاکستان کے قوانین کا نفاذ کیا جائے اور انہیں قومی دھارے میں لانے کے لیے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا موقع دیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ اب فاٹا کے عوام ایف سی آر کے خاتمہ کے علاوہ کسی بات پر راضی نہیں ہوں گے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس