Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کرپشن اور لوٹ مار کے باعث قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاہے۔میاں مقصوداحمد


لاہور9اکتوبر2017ء:امیر جماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کہاہے کہ بیرونی قرضوں کے حجم میں ہوشربا اضافے کے حوالے سے انسٹی ٹیوٹ فارپالیسی ریفارمز کی تازہ اقتصادی جائزہ رپورٹ انتہائی تشویش ناک اور حکمرانوں کی بدترین کارکردگی کی عکاس ہے۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کی عاقبت نااندیش پالیسیوں اورشاہانہ اخراجات کے باعث پاکستان پر واجب الادابیرونی قرضے72.98ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔رواں سال حکومت کی جانب سے7.9ارب ڈالر جبکہ مقامی بینکوں سے30ارب ڈالر کا قرضہ ترقی کے نام پر حاصل کیاگیا مگرلوٹ مار،کرپشن اور ناکام پالیسیوں کی وجہ سے ملک ترقی کی بجائے تنزلی کا شکار ہے۔عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔لوگوں کو روزگار میسر نہیں۔عام آدمی کے لیے دو وقت کی باعزت روٹی کمانامشکل ہوچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے ایک طرف عوام پرقرضو ں کے پہاڑ کھڑے کردیئے ہیں جبکہ دوسری جانب رہی سہی کسرلوٹ ماراور کرپشن کے باعث قومی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاکرپوری کردی گئی ہے۔عوام کو ریلیف کے نام پر سبزباغ دکھائے جارہے ہیں۔قرضوں کی حدکے قانون کے تحت کوئی بھی ملک جی ڈی پی کے60فیصد سے زیادہ قرضے نہیں لے سکتا لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے قرضے65فیصد تک پہنچ گئے ہیں جوکہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہاکہ 2011میں ہر پاکستانی 46ہزار،2013میں61ہزاراور2016میں ایک لاکھ روپے کا مقروض ہوچکا ہے۔بھاری سود پر قرضے حاصل کرکے عوام کی حالت زارکبھی بدل نہیں سکتی۔حکومت کی سرپرستی میں چلنے والے اداروں کے قرضہ جات823ارب روپے ہوگئے ہیں جس میں سب سے زیادہ قرضہ پی آئی اے122.6ارب ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ دنیاکی تاریخ میں ایک بھی مثال ایسی نہیں ملتی جس میں امداد اور قرضے حاصل کرکے کسی ملک وقوم نے ترقی کی منازل طے کی ہوں۔حکمرانوں کو اپنے وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے امور حکومت چلانے ہوں گے۔ملکی سرمایہ دار مایوس ہوکر بیرون ملک اپناسرمایہ منتقل کررہے ہیں۔پاکستان کی مصنوعات صنعتی یونٹس مینوفیکچرنگ کی لاگت بڑھنے کی وجہ سے انٹرنیشنل مارکیٹ میں دیگر ممالک کی مصنوعات کامقابلہ کرنے سے قاصر ہیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس