Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

پولیس مقابلوں میں لا پتا افراد کی ہلاکت ماورائے عدالت قتل ہے ۔اسلامک لائرز موومنٹ


کراچی08اکتوبر2017ء: اسلامک لائرز موومنٹ نے مطالبہ کیاہے کہحکومت ایسے تمام پولیس مقابلوں کا نوٹس لے اور عدالتی تحقیقات کرائے جن میں ملزمان تو مارے گئے لیکن پولیس کا کوئی اہلکارزخمی نہیں ہوا ۔پولیس مقابلوں میں کئی کئی ماہ سے زیر حراست اور لاپتا افراد کی ہلاکت ماورائے عدالت قتل ہے ۔ماورائے عدالت قتل میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے اور مقتولین کے اہلِ خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے اور ان واقعات کی روک تھام کی جائے ۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ان مجرمانہ کاروائیوں کا نوٹس لیں اور یہ سلسلہ بند کرانے میں اپنا اہم ترین کردار ادا کریں ۔ان خیالات کا اظہار اسلامک لائرز موومنٹ کراچی کے صدر عبد الصمد خٹک ایڈوکیٹ کی زیر صدارت کے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا اجلاس میں وکلاء نے کراچی کے ایک خاص علاقے اور مخصوص پولیس افسر کے ہاتھوں لاپتا اور زیر حراست افراد کی پولیس مقابلوں میں ہلاکتوں پرگہری تشویش کا اظہار کر تے ہوئے ان کی شدید مذمت کی اور کہا کہ کراچی میں اس طرح کے واقعات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ۔کسی بھی ملزم کو عدالت میں پیش کیے بغیر اور مقدمہ چلائے بغیر اس طرح مار دینا انتہائی ظالمانہ اور وحشیانہ عمل ہے جس کی کسی بھی مہذب معاشرے میں کوئی گنجائش نہیں ۔ایسا محسوس ہو تا ہے کہ ماورائے عدالت قتل کا کچھ پولیس افسران نے اختیار حاصل کر لیا ہے ۔اس طرح کے واقعات سے عوام کا قانون نافذ کر نے والے اداروں پر اعتماد مجروح ہو رہا ہے ۔اجلاس میں مزید کہا گیا کہ پولیس اورقانون نافذ کر نے والے ادارے رات کی تاریکی میں گھروں میں گھس کر لوگوں کو اُٹھالیتے ہیں اور تفتیش کے نام پر کئی کئی مہینوں اپنے پاس رکھتے ہیں ۔جبکہ بہت سے افراد کا تو پتا ہی نہیں چلتا ان افراد کے اہلِ خانہ عدالتوں سے رجو ع کر تے ہیں ۔پولیس سے رابطے کر تے ہیں لیکن کہیں سے کوئی شنوائی نہیں ہو تی اور کوئی بھی فریاد رسی کر نے والا نہیں ملتا ۔بعض کیسز میں واضح طور پر بتا دیا جا تا ہے کہ لاپتا فرد زیرِ تفتیش ہے مگر پھر بھی نہ اس کی رہائی ممکن ہو پاتی ہے اور نہ ہی کوئی اس کے خلاف کوئی مقدمہ درج کیا جاتا ہے اور انصاف اور قانون کو پامال کر تے ہوئے کوئی پولیس مقابلہ ظاہر کر کے اس کو مار دیا جاتا ہے ۔سندھ ہائی کورٹ میں ایسے کیسز کے لیے ’’مسنگ پرسن کیس ‘‘ کی اصلاح استعمال کی جاتی ہے لیکن لاپتا افراد کے اہلِ خانہ کی طرف سے پٹیش دائر کر نے کے باوجود ان کو انصاف نہیں مل رہا ۔ اس تمام سلسلے سے عدالتوں کے متبادل ایک نظام قائم ہو گیا ہے جو معاشرے میں اپنے طور پر سزا اور انتقام کو فروغ دے رہا ہے نیز یہ کہ یہ سلسلہ عدالتی نظام پر عدم اعتماد کے مترادف ہے بلکہ عدالتی نظام کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس