Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

کراچی میں امن وامان کی سنگین صورتحال تشویش ناک ہے ۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی ؍06اکتوبر ( )امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں امان وامان کی صورتحال کو انتہائی سنگین قراردیاہے اور کہا ہے کہ جامعہ کراچی سے پروفیسرز کی جبری اورپراسرارگمشدگی ، خواتین کو چھرا مارنے والے کی جعلی گرفتاری کا اعلان اور جھوٹے پولیس مقابلوں کے نام پر سالوں سے تحویل میں رکھے گئے افراد کا ماورائے عدالت قتل یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ قانون نافذ کرنے والے حقیقی کاروائیوں میں ناکام ہوچکے ہیں اور جعلی کاروائیوں سے امن کا تاثر دینے کی کوشش کررہے ہیں۔امن و امان کی موجودہ صورتحال سے صاف ظاہر ہے کہ عارضی امن جرائم پیشہ افراد کی کاروائیوں کے رحم و کرم پر ہے ۔ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مکمل ناکامی اظہر من الشمس ہے ۔ ہزاروں افراد کے قاتل یہاں تک کہ 259افراد کو بلدیہ فیکٹری میں زندہ جلائے جانے والے افراد میں کسی بھی مجرم کو سزا نہیں مل سکی اورگرفتاریوں کے دعوے انتہائی مشکوک ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایس پی ایسٹ کے ہاتھوں قتل ہر صورت میں قتل عمد کی حیثیت رکھتا ہے ۔کسی بد ترین مجرم کوبھی ماورائے عدالت قتل نہیں کیا جاسکتا چے جائیکہ یہ جعلی مقابلے معمول بنالیے جائیں ۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ ، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کراچی میں امن و امان کی سنگین صورتحال کا نوٹس لیں اور جعلی مقابلوں کی تحقیقات کرائیں اور ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزادلوائیں ۔ انہو ں نے کہا کہ یہ بات انتہائی افسوس ناک ہے کہ وہ افراد جن کی پٹیشن عدالت میں زیر التواء ہیں ان کو بھی قتل کردیا جاتا ہے اور عدالتیں خاموشی سے پٹیشن ختم کردیتی ہیں جبکہ لوگوں کی جان سے زیادہ پبلک انٹرسٹ کا مسئلہ اور کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے ماورائے عدالت قتل انتہا پسندی اور نفرت کے فروغ کا ذریعہ بن رہے ہیں ۔ پولیس کے ہاتھوں ماورائے عدالت قتل ہونے والے افراد کے سینکٹروں متعلقین اس گھناؤنے فعل سے متاثر ہوئے ہیں ۔ سندھ حکومت جو بالآخر ان سب مسائل کی ذمہ دار ہے لوٹ کھسوٹ اور کرپشن میں ملوث ہے ۔انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں ڈکیتیاں ، سڑکوں پر رہزنی کی وارداتیں اس بڑی تعداد میں ہورہی ہیں کہ اکثر لوگ مایوس ہوکر رپورٹ تک درج نہیں کراتے ۔ پولیس کا کام سڑکوں پر موٹر سائیکل سوار وں ، رکشہ سواروں اور ٹھیلے والوں سے رشوت حاصل کرنا رہ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس شہر میں عورتیں اور بچیاں چھرے مارنے کی وارداتوں سے ہراساں اورمسلسل حملوں کا شکار ہوں وہاں حکومت کو اپنی نااہلی تسلیم کرتے ہوئے مستعفی ہوجانا چاہیئے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس