Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

سانحہ بلدیہ فیکٹری متاثرین 5سال ہو گئے ،انصاف اور حق سے محروم ہیں ۔حافظ نعیم الرحمن


کراچی ؍11ستمبر2017ء: امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا ہے کہ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے متاثرین 5سال گزرنے کے باوجود اب تک انصاف سے محروم ہیں اوراپنے حق کے لیے ترس رہے ہیں ۔ان متاثرین و لواحقین سے کیے جانے والے مالی امداد کے وعدوں کو اب تک پورا نہیں کیا گیا،اب جبکہ فیکٹری مالکان اور جرمن کمپنی کی متاثرین کے لیے 52کروڑ روپے کی رقم سندھ حکومت کے پاس موجود ہے رقم آنے کے آٹھ ماہ گزر نے کے باوجود متاثرین کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا اور مختلف حیلے بہانوں سے متاثرین کو ان کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے ۔حد تو یہ ہے کہ اولڈ ایج بینی فٹ ( EOBI)کی جانب سے ملنے والی ماہانہ پینشن بھی اس ماہ بند کر دی گئی ہے ۔ان کو فوری طور پر جاری کیا جائے ۔جماعت اسلامی سانحہ بلدیہ فیکٹری میں شہید ہو نے والے متاثرین کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان کے اس جائز حق اور دیرینہ مسئلے کے حل کے لیے ہر فورم پر آواز اُٹھائے گی ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سانحے کی پانچویں بر سی کے مو قع پر شہداء کے لیے قرآن خوانی میں شر کت کے مو قع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا اس مو قع پر انہوں نے پبلک ایڈ جماعت اسلامی سانحہ بلدیہ ریلیف کمیٹی کے ذمہ داران کو ہدایات کیں کہ اس مسئلے کے حل کے لیے بھر پور کوششیں کریں ۔برسی و قرآن خوانی کے موقع پر پبلک ایڈ کمیٹی کراچی جنرل سیکریٹری نجیب ایوبی ،نائب صدر طارق جمیل ،اسرار احمد ، محمد صابر ،اکرم شگری اور جلائے جانے والے شہداء کے والدین اور متاثرین کے لواحقین کی کثیر تعداد موجود تھی۔دریں اثناء پبلک ایڈ کراچی کے سربراہ سیف الدین ایڈوکیٹ نے سانحہ بلدیہ ریلیف کمیٹی کے ذمہ داران کے ایک اہم اور ہنگامی اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے اس مسئلے کے قانونی نکات اور امدادی رقم کی وصولی میں حائل رکاوٹوں و دشواریوں اور فیکٹری مالکان کی جانب سے دی گئی 12کروڑ روپے کی رقم میں غبن کی اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس دھوکا دہی اور لوٹ مار میں ملوث سیاسی عناصر کی فی الفور گرفتار ی کا مطالبہ کیا ۔اجلاس میں مظفر جمال ،ابن الحسن ہاشمی اور کمیٹی کے دیگر ذمہ داران نے شر کت کی ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس