Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

عالم اسلام کے حوالے سے۔۔قرارداد


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کا یہ اجلاس مشرق وسطی میں روز بروز بڑھتے ہوئے اختلافات اور بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔

عالم اسلام گزشتہ کئی عشروں سے بیرونی تسلط ، اندرونی اختلافات ، سفاکانہ مظالم اور ناقابل بیاں خوں ریزی کا شکار ہے۔ صرف گزشتہ عشرے کے دوران میں پندرہ لاکھ سے زائد شہری فلسطین ، شام ، عراق ، افغانستان ، مصر ، اراکان ، یمن اور بنگلہ دیش میں شہید کئے جا چکے ہیں۔ لاکھوں بےگناہ جیلوں میں تڑپ رہے ہیں اور کئی ملین مسلمان ، دنیا بھر میں مہاجر کیمپوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہوچکے ہیں۔

اس عالم میں ضرورت اس امر کی تھی کہ عالم اسلام تمام باہمی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے ، درپیش خطرات کا مداوا کرتا اور باہم یکجہتی کے ذریعے دشمنوں کی سازشیں ناکام بنانے کی کوششیں کرتا ، لیکن بدقسمتی سے باہمی اختلافات کی خلیج مزید وسیع کردی گئی۔ فرقہ وارانہ اور نسلی تعصبات کے بعد اب بھائی کو بھائی سے لڑانے کی مزید کوششیں تیز تر کردی گئی ہیں۔ باہمی الزامات کی نئی جنگ کا نقطہ آغاز امریکی صدر ٹرمپ کے پہلے بیرونی دورے اور اس خطاب سے ہوا جس میں اس نے کشمیری عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے بھارت کو مظلوم اور سرزمین قبلہ اول کو آزاد کروانے کے لئے قربانیاں دینے والی تحریک حماس کو دہشت گرد قرار دیا تھا۔

شام ، عراق ، لیبیا اور یمن میں جاری مسلح خانہ جنگی، فلسطین میں جاری مظالم اور محاصرے مصر اور بنگلہ دیش میں جاری بنیادی انسانی حقوق کی پامالی، ایران و سعودی عرب کے مابین روز افزوں تلخیوں اور افغانستان ، پاکستان اور ترکی میں پے در پے ہونے والی دہشت گردی کی کارروائیوں کو دیکھیں تو یہ حقیقت سمجھنا مشکل نہیں کہ عالم اسلام کے تمام ممالک کو مزید پارہ پارہ کرنے کا عمل ایک بار پھر عروج پر پہنچ چکا ہے۔ دنیا بھر میں خود مختلف عالمی طاقتوں کے شائع کردہ منصوبوں اور نقشوں کے مطابق عالمی طاقتیں آئندہ چند برسوں کے دوران خدانخواستہ سرزمین حرمین سمیت خطے کے تمام ممالک کی دوبارہ بندر بانٹ کرنا چاہتی ہیں۔ کئی نئے ممالک وجود میں لائے جانے کے ارادے ہیں۔ جنوبی سوڈان اور مشرقی تیمور وجود میں آچکے ہیں اور اب عراق کے ایک حصے میں آزاد کردستان ریاست بنانے کا اعلان کیا جارہا ہے۔ شام، لیبیا، یمن اور صومالیہ عملاً ٹکڑوں میں بٹ چکے ہیں۔

 ان تمام تلخ حقائق کی روشنی میں جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوری کا یہ اجلاس تمام برادر مسلم ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ :

٭             ایک دوسرے کو زیر کرنے یا نیچا دکھانے کے لئے اسلحے کے عالمی تاجروں کے ساتھ معاہدے کرتے چلے جانے کے بجائے ، اپنے اختلافات ، باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کریں

٭             تمام تر فرقہ ورانہ ، نسلی اور لسانی تعصبات کو فراموش کرتے ہوئے مذہبی رواداری اور صبر و حکمت کی راہ اختیار کریں۔

٭             اجلاس حالیہ خلیجی تنازعات کی آگ بجھانے کے لئے برادر ملک کویت کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے براہ راست گفت وشنید کا عمل آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔

٭            پاکستان ، ترکی ، ملائیشیا ، انڈونیشیا اور مراکش پر مشتمل قومی رابطہ گروپ تشکیل دیے جائیں ، جوتمام فریقوں سے فوری رابطہ کرتے ہوئے اختلافات کی آگ بجھانے کے لئے فوری عملی اقدام کریں۔

٭            شام ، مصر، ارکان اور بنگلہ دیش سمیت جہاں بھی بےگناہ شہریوں کو ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، وہاں قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کی بحالی یقینی بنائی جائے ۔

٭            گزشتہ 12 سال سے جاری غزہ کے 18 لاکھ شہریوں کا محاصرہ فوری ختم کروانے کے لئے عملی اقدامات کئے جائیں۔#

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس