Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

قرار داد اسلام فوبیا اور مسلمان


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس امریکہ ، یورپ اور کئی دیگر خطوں میں مقیم مسلم برادری کو عمومی طور پر اور ان ممالک میں پاکستانی کمیونٹی کوخصوصی طور پر بعض انتہا پسندعناصر کی طرف سے درپیش مسائل اور مذہبی تعصب پر مبنی کاروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔

 مغرب میں مسلم آبادی کی موجودگی صرف ان کی معاشی ضروریات سے متعلق نہیں ، بلکہ مسلمانوں کی موجودگی سے خود ان ممالک کی تہذیبی، نظریاتی، معاشی حتی کہ سیاسی زندگی بھی مالامال ہوئی۔ مغرب میں مسلم آبادی ایک زندہ حقیقت ہے او راس کو عالم مغرب اور عالم اسلام کے درمیان بہتر سیاسی، معاشی اور ثقافتی تعلقات قائم اور مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ بعض اندازوں کے مطابق اس وقت صرف مغربی یورپ میں مسلمانوں کی آبادی ۰۲ ملین ہے،لیکن بدقسمتی سے یورپ میں اسلام کے بارے میں بڑی حد تک لاعلمی پائی جاتی ہے۔ منفی پروپیگنڈا کے زیر اثر اسلام کو بنیاد پرستی انتہا پسندی یا دہشت گردی کے ہم معنی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔

 آج اس امر کی ضرورت پہلے سے بھی زیادہ ہے کہ یورپ میں مقیم مسلم برادری، مقامی قوانین کا احترام، ملکی معاملات میں موثر، مثبت دلچسپی اور احترام انسانیت کے زریں اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے اپنا موثر کردار ادا کرے ۔ کئی مغربی ممالک کی مقامی آبادی میں بھی بلاشبہ ایسے افراد بکثرت موجود ہیں جو اسلامو فوبیا کے علی الرغم انصاف و باہمی احترام کے جذبوں سے انتہا پسندعناصر کے خلاف متاثر مسلمان آبادیوں او رمساجد ومدارس کے ساتھ اظہار یکجہتی کابھرپو رمظاہرہ کرتا ہے یہ خوش آیند بات ہے ۔ اجلاس اس بات کابھی مطالبہ کرتاہے کہ یورپی حکومتیں اور مقامی ادارہ جات مسلمانوں او ر ان کے اسلامی مراکز کے تحفظ، اسلاموفوبیا کے تدارک، رواداری کے ماحول کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کریں۔

اسلامی ثقافتی اقدار کی منتقلی، اسلامی تشخص کو محفوظ رکھنے، اسلامی عائلی قوانین، اسلامی اسکولوں اور مدارس میں بچوں کی تعلیم، اسکولوں، ہسپتالوں، جیلوں میں حلال کھانے کا انتظام، مسلمانوں کی تدفین کے انتظامات، مسلم خواتین کے حجاب اور نقاب کا استعمال پر ناروا پابندیوں کا خاتمہ جیسے اُمور پر فی الفور توجہ دی جائے۔یہ بنیادی انسانی حقوق اور انفرادی آزادی کالازمی حصہ ہے۔

یہ اجلاس عالم اسلام سے باہر مقیم تمام مسلمانوں سے بھی پُر زور اپیل کرتاہے کہ وہ تمام قسم کے قومی یا گروہی عصبیت سے بالاتر ہوکراپنے عمل و اخلاق کے ذریعے، پوری دنیا میں رسول اکرم ﷺکی سیرت مطہرہ اور اسلامی اقدار کو بہترین انداز میں متعارف کروائیں۔ دستیاب وسائل کو بروئے کار لاکر اپنی اجتماعی ذمہ داریاںادا کریں اور یورپ کی اجتماعی زندگی میں بھرپور شرکت کریں تاکہ انسانی فلاح و بہبود کے مشترکہ مقصد کے حصول کی تکمیل ممکن ہو۔مغربی ممالک کے جمہوری اداروں میں منتخب مسلمان نمائندگان کی تعداد میں روز افزو ں اضافہ جہاں خوش آیند ہے ، وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ یہ نمائندگان ان بنیاد ی انسانی حقوق کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں۔

٭....٭....٭

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس