Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

فاٹا اصلاحات کے حوالے سے قرارداد


70سال سے فاٹاکے ایک کروڑ عوام ایف سی آ رجیسے نام نہاد ظالمانہ کالے قوانین کے تحت زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ پاکستان کے باقاعدہ شہری ہونے کے باوجود قبائلی باشندے تمام آئینی قانونی ،جمہوری ، سیاسی اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہے۔ آئین پاکستان کی دفعہ 247کی رو سے دو دفعات دفعہ 246اور 247کے علاوہ باقی پورا آئین فاٹا میں نافذ العمل نہیں ہے۔ پارلیمنٹ اور عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہونے کی وجہ سے قبائلی عوام کے جان ، مال اور عزت کے تحفظ کے سارے آئینی اور قانونی راستے مسدود ہیں۔ گویا فاٹا عملاً دنیا کی واحد سرزمین ہے جو بے آئین خطہ ہے۔

ہر حکومت نے فاٹا کے عوام کو حقوق دینے کے بلند بانگ دعوے تو بہت کیے ہیں۔ لیکن عملی اقدامات کرنے کی توفیق کسی کو بھی نصیب نہ ہوئی۔ مذکورہ ہمہ گیر حقوق کے حصول کے لیے قبائلی عوام عرصہ دراز سے پُر امن سیاسی جدوجہد کرتے چلے آ رہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل ملکی تاریخ میں پہلی بار 2نومبر2015ءکو جماعت اسلامی پاکستان کے زیر اہتمام محترم امیرجماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق صاحب کی زیر قیادت اسلام آباد میں فقید المثال آل پارٹیز کانفرنس میں فاٹا کو صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے لیے باقاعدہ قرار داد منظور ہوئی۔ انضمام کے متفقہ قومی مطالبے پر 8نومبر2015 ءکو وزیراعظم پاکستان میاں محمدنواز شریف صاحب نے مشیر امورخارجہ سینیٹر سرتاج عزیز صاحب کی سربراہی میں فاٹا اصلاحات کمیٹی قائم کرنے کااعلان کردیا ۔

سرتاج عزیز کمیٹی نے پورے فاٹا کی ایجنسیز کاتفصیلی دورہ کرکے تمام مکاتب فکر کے لوگوں ،قبائلی زعماء، علماء، طلباء،وکلاء، صحافی ، سیاسی کارکنان ، یوتھ وغیرہ سے مشاورت کرکے سب کی آراءحاصل کیں۔ دس گیارہ ماہ کام کرنے کے بعد سرتاج عزیز کمیٹی نے فاٹااصلاحات کے حوالے سے جامع سفارشات کی رپورٹ پیش کی ۔ سرتاج عزیز کمیٹی کی پیش کردہ رپورٹ کامرکز و محور بھی فاٹا کا صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کی سفارش ہے۔

سرتاج عزیز کمیٹی کی رپورٹ کو قومی اسمبلی اور سینٹ میں بحث کے لیے پیش کیاگیا۔ قومی اسمبلی اور سینٹ کے اراکین نے بھاری اکثریت سے مذکورہ سفارشات کی منظوری دے دی ہے۔ بعد میں مذکورہ سفارشات وفاقی کابینہ سے بھی پاس ہوئیں ۔ ملکی تاریخ میں فاٹا اصلاحات کامسئلہ واحد ایشو ہے، جس پر اتنے بڑے پیمانے پر مشاورت کے بعد تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں ، سینٹ ،پارلیمنٹ اور اکثریتی قبائلی عوام کااتفاق رائے ہوچکا ہے۔

سرتاج عزیز کمیٹی کی طویل مشق کے بعد فاٹا اصلاحات کاعمل آخری اور فیصلہ کن مرحلہ میں داخل ہوچکاہے۔ لیکن وفاقی حکومت اپنی ہی قائم کردہ سرتاج عزیز کمیٹی کی پیش کردہ سفارشات سے راہ فرار اختیار کرنے کے لیے حیلے بہانے تلاش کررہی ہے۔یہ شرمناک انحراف فاٹا کے عوام کے لیے اذیت ناک ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان کی مجلس شوریٰ کا اجلاس وفاقی حکومت کو متنبہ کرتا ہے کہ فی الفور اور بلا تاخیر اپنی قائم کردہ سرتاج عزیز کمیٹی کی اصلاحات پر عملی اقدامات کے ذریعے فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں مکمل انضمام کو یقینی بنایاجائے۔ فاٹا کے خیبر پختونخوا میں فوری انضمام کے ساتھ فاٹا کے عوام کی طویل محرومیوں کے ازالے کے لیے روزگار ،تعلیم ،صحت ،بجلی ، گیس اور انفراسٹرکچر اور ہمہ گیر ترقی کے لیے ، مالیاتی پیکیج فاٹا کے عوام کا حق ہے۔ جماعت اسلامی فاٹا کے عوام کے آئینی حقوق ،فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام اور فاٹا کے عوام کی ہمہ پہلو ترقی کے لیے پارلیمنٹ ، میڈیا اور عوام میں اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔اجلاس یہ بھی مطالبہ کرتاہے کہ آئی ڈی پیز کی فوری واپسی کو یقینی بنایاجائے اور قبائلی عوام کے ہونے والے نقصانات کی تلافی جلد از جلد کی جائے۔

٭....٭....٭

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس