Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اہم خبریں

اُمورکشمیر۔۔۔قرارداد


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس نریندر مودی کی خوشنودی کے حصول کے لیے امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے امیرحزب المجاہدین اور متحدہ جہاد کونسل کے چیئرمین سید صلاح الدین کو بین الاقوامی دہشت گرد قرار دینے کی کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرتاہے اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر ، بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق پر گہرا وار قرار دیتاہے۔ اس لیے کہ ان تمام قوانین کی رو سے جموں وکشمیر ایک متنازعہ ریاست ہے ۔جس کے ایک حصہ پر بھارت کی آٹھ لاکھ قابض فوج کالے قوانین سے لیس ہو کر گذشتہ تیس سال سے بالخصوص قتل عام کا ارتکاب کرتے ہوئے تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے بدترین استعماری ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ اس غیر ملکی استعماری قبضہ کے خلاف اہل کشمیر کی آزادی اور حق خوارادیت کی جدوجہد اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق معروف معنوں میں ایک آزادی کی تحریک ہے جسے کسی طور پر دہشت گردی سے منسلک کرنا بین الاقوامی قوانین اور بنیادی انسانی حقوق کی نفی کرنے کے مترادف ہے۔ اس لیے یہ اجلاس امریکی اور بھارتی گٹھ جوڑ کو قطعاً مسترد کرتے ہوئے ان تاریخی حقائق کی یاد دہانی کرانا چاہتاہے کہ کشمیر کی تحریک آزادی میں سید صلاح الدین اس طرح ایک ہیرو ہیں جس طرح امریکیوں کے لیے جارج واشنگٹن ، جنوبی افریقہ کے نیلسن منڈیلا اور بھارت کی آزادی کے لیے سبھاش چند بوس کو ہیرو سمجھا جاتاہے جنہیں اپنے وقت کے قابض استعمار نے دہشت گرد قرار دیاتھا۔ اسی تاریخی تسلسل میں سید صلاح الدین اور آزادی کی جدوجہد کرنے والا ہر کشمیری ہیرو ہے ۔ ہم اپنے ان ہیروز کو یقین دلاتے ہیںکہ منزل کے حصول تک اہل پاکستان ان کے شانہ بشانہ ہیں۔

 

اجلاس امریکی صدر کو یاد دلانا چاہتاہے کہ نریندر مودی جس کے ہاتھ گجرات کے مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں جسے خود امریکہ نے دہشت گرد قرار دے کر اس کا ویزا منسوخ کردیاتھااور جو آ۔آر ۔ ایس ۔ایس کے ہندو انتہا پسند ایجنڈے کو آگے بڑھا تے ہوئے جنوبی ایشیا ہی نہیں پوری دنیا کے امن کے لیے ایک خطرہ بن چکاہے، کی پشتیبانی ایک فاشسٹ ہٹلر کی پشتیبانی کے مترادف ہے۔ اس لیے اجلاس حکومت امریکہ پر زور دیتاہے کہ وہ اس فیصلے کو واپس لیتے ہوئے مقبوضہ کشمیر کی بھارتی ریاستی دہشت گردی کانوٹس لے۔ دنیا کے امن کو تباہ ہونے سے بچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔

اجلاس برہان مظفر وانی شہید کو خراج عقیدت پیش کرتا ہے جن کی مقدس شہادت نے تحریک آزادی کو ایک نئی توانائی بخشی جس کے نتیجہ میں آج مقبوضہ ریاست کا بچہ بچہ برہان مظفر وانی بن چکاہے۔ اور جو بھارت کے غاصبانہ تسلط کے خلاف آزادی شہادت کو اپنا ہدف قرار دے چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں سکولوں کے طلبہ اور طالبات جذبہ حریت سے لیس ہاتھوں میں پتھر اور سنگریزے اٹھائے دنیا کی ایک بڑی استعماری فوجی طاقت سے نبرد آزما ہوتے ہوئے شجاعت و استقامت کی نئی تاریخ رقم کررہے ہیں۔

اجلاس کے نزدیک برہان شہید کی شہادت کے بعد اٹھنے والی لہر کو کچلنے کے لیے بھارتی افواج نے قتل و غارت گری کا جو بازار گرم کر رکھا ہے وہ قابل مذمت ہے اور لائق تشویش بھی ۔ حال ہی میں برہان مظفر وانی شہید کے جانشین سبزوار احمد شہید اور دیگر شہداءکے جنازوں میں کرفیو اور پابندیاں توڑتے ہوئے لاکھوں افراد کی شرکت کشمیری عوام کی طرف سے شہداءکو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ تحریک آزادی کے ساتھ والہانہ وابستگی کا ایسا اظہار ہے اور بھارت کے لیے نوشتہ دیوار بھی کہ کشمیری آزادی سے کم نہ کوئی حل قبول کریں گے اور نہ اپنی جدوجہد ترک کریں گے۔ اجلاس ان تمام شہداءکو بھی خراج عقیدت پیش کرتاہے۔جن کی قربانیوں نے تحریک آزادی کشمیر کو ایک توانا لہر میں تبدیل کردیا ہے۔

 اجلاس بین الاقوامی انسانی حقوق کونسل ،او آئی سی کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ مشن بھیجنے کے فیصلے کی تحسین کرتاہے۔ نیز برطانوی پارلیمنٹ میں حق خودارادیت کے حق میں قرارداد اور ایمنسٹی انٹرنیشنل ، ایشیا واچ اور بھارتی اہل دانش کی رپورٹس جن میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کیاگیا ہے ، کی بھی تحسین کرتاہے اور اقوام متحدہ سمیت ان تمام سیاسی اور انسانی حقوق اداروں سے توقع رکھتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر جموںوکشمیر میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت پر موثر دباﺅ بڑھائیں گے وہ تاکہ قتل و غارت گری کا بازار بند کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چارٹر کے مطابق کشمیریوں کو حق خو د ارادیت کے حصول ،تحریک کی راہ میں رکاوٹ بننے کی بجائے نوشتہ دیوار پڑھتے ہوئے فوجی انخلا کرے ،کالے قوانین واپس لے ۔ قائدین حریت سید علی گیلانی ، میر واعظ عمر فاروق، محمدیٰسین ملک ، شبیر احمد شاہ ، آسیہ اندرابی اور دیگر ہزاروں محبوسین جو نظر بند یا گرفتارہیں کو فی الفور رہا کرنے کا اہتمام کرے۔

اجلاس حکومت پاکستان سے بھی مطالبہ کرتاہے کہ امریکہ بھارت اسرائیل ایک واضح مسلم کش گٹھ جوڑ کاتوڑ کرنے کے لیے جامع حکمت عملی تشکیل دے اور مقبوضہ ریاست میں بھارتی ریاستی دہشت گردی کو بے نقاب کرنے کے لیے ایک بھرپور جارحانہ مہم کا اہتمام کرے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس