Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

کرپشن فری پاکستان اور پانامہ کیس۔۔۔قرارداد


مملکت خداداد پاکستان اور پاکستانیوں کے مسائل کی جڑ کرپشن ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ ﷺکی تعلیمات میں رزق حلال کمانے پر زور دیاگیاہے اور کرپشن اور رزق حرام کمانے پر جہنم کی آگ کی سزا سے ڈرایاگیاہے۔ نیزایک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ رزق حرام کمانے والے کی دعا قبول نہیں ہوگی۔ جماعت اسلامی ،پاکستان کی وہ واحد جماعت ہے جس کا رُکن بننے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس کی آمدنی و کمائی حلال ذرائع سے ہوگی ۔ الحمدللہ جماعت اسلامی کی دیانت اورکرپشن سے پاک ہونے کی گواہی مختلف تحقیقاتی ادارے دے چکے ہیں۔

جماعت اسلامی نے ماضی قریب میں اس وقت کے امیرجماعت قاضی حسین احمد رحمة اللہ علیہ سے 1996ءمیں کرپشن کے خلاف موثر آواز بلند کی تھی ۔ سراج الحق صاحب نے یکم مارچ 2017ءسے کرپشن فری پاکستا ن مہم کاآغاز کیا ۔ پورے پاکستان میں عظیم الشان ریلیاں اور جلسے و جلوس کیے گئے ۔ خواتین و بچوں کے بڑے بڑے پروگرام منعقد کرکے کرپشن کے خلاف آواز گھر گھر پہنچائی گئی ۔ مشاعرہ جات منعقد کرکے اہل علم و دانش کو کرپشن کے خلاف متحرک کیاگیا۔ بار ایسوسی ایشنز سے خطابات کے ذریعے وکلاءاور قانون دانوں کو ”کرپشن فری پاکستان مہم“ ہیں اپنا موثر رول ادا کرنے کے لیے متحرک کیاگیا۔

الحمدللہ اس جدوجہد کے نتیجے میں کرپشن عوامی موضوع بن گیاہے ۔ مرد و خواتین کے ذہن میں کرپشن پر تشویش کااظہار کرنے ،پرنٹ والیکٹرانک میڈیا نے بھی مختلف انداز کے پروگرامات کے ذریعے کرپشن کے اہم قومی مسئلہ کو اُجاگر کرنے میںاپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی ”کرپشن فری پاکستان مہم “مختلف انداز میں چھائی رہی جوکہ اس بات کی علامت ہے کہ جوانوں کے ذہن میں پاکستان کا اہم مسئلہ کرپشن ہے۔ ملک کے مختلف اداروں نے کرپشن کے خلاف اپنے دفاتر اور عمارات کے اندر اور باہر چھوٹے بڑے کتبے آویزاں کئے ۔شہروں اور ملک کی قومی شاہراہوں پر کرپشن کے خلاف ہورڈنگز آویزاں کی گئیں۔ مرکزی مجلس شوریٰ اللہ کاشکر ادا کرتی ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان کی کرپشن فری پاکستان مہم تھوڑے عرصہ میں ایک عظیم عوامی مہم بن گئی ہے۔

پانامہ انکشافات کے بعد احتساب کے لیے حکومتی لاپرواہی اور سرد مہری کے پیش نظرسراج الحق صاحب امیرجماعت اسلامی پاکستان نے سپریم کورٹ پاکستان میں سب سے پہلے پٹیشن فائل کی ۔ سپریم کورٹ نے تفصیلی سماعت کے بعد فیصلہ جاری کیا جس میں دو معزز جج حضرات نے نواز شریف صاحب کو دستور کی دفعہ 62اور 63کے مطابق دیانتداری اور امانت داری کی شرائط پر پورا نہ اترنے کی بنیاد پر وزیراعظم کے عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ لکھا لیکن دیگر تین معزز جج حضرات نے مشترکہ تحقیقی کمیٹی (جے آئی ٹی ) بنا کر مزید تفتیش کے لیے فیصلہ لکھا جوکہ اکثریتی فیصلہ ہونے کی وجہ سے قابل تنفیذ قرار پایا۔ قوم کے لیے یہ امر ناقابل اطمینان ہے کہ جے آئی ٹی کی فائنل رپورٹ چند روز میں سپریم کورٹ میں پیش ہوجائے گی۔ لیکن بعض سیاستدانوں اور سیاس پارٹیاں پانامہ مقدمہ اور جے آئی ٹی پر اپنی سیاست کررہے ہیں ۔ کوئی اپنے آپ کو مظلوم بنا کر سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتاہے تو کوئی جارحانہ رویہ اختیار کرکے اپنے لیے عوامی حمایت حاصل کرنے کی سعی کررہا ہے۔ حالانکہ مقدمہ اور جے آئی ٹی خالصتاً عدالتی اور قانونی مسئلہ ہے۔ قوم توقع رکھتی ہے کہ جے آئی ٹی اور پانامہ مقدمہ کے بے لاگ فیصلہ سے ملک میں کرپشن کا راستہ بند ہوگا اور بے لاگ احتساب کاراستہ کھلے گا۔ مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان ہمیشہ پانامہ انکشافات میں آنے والے سابق اور موجودہ حکمران ٹولہ ، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے پارلیمنٹیرینز سول اور فوجی بیوروکریٹس اور تاجروں وغیرہ کا بغیر کسی رعایت کے احتساب کے میکنزم کا اہتمام کرنے کا مطالبہ کرتی ہے ۔ اس حوالہ سے سپریم کورٹ آف پاکستان میں سراج الحق صاحب امیرجماعت اسلامی پاکستان کی ایک پٹیشن زیر سماعت ہے۔ جس کی فوری سماعت کے لیے کوشش کی جائے گی۔

مرکزی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی پاکستان مطالبہ کرتی ہے کہ:

٭             میاں محمدنواز شریف از خود پانامہ مقدمہ کا فیصلہ آنے تک وزیراعظم اپنے اختیارات کااستعمال بند کردے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

٭            پانامہ مقدمہ اور جے آئی ٹی کی تفتیش پر سیاست کرنا بندکی جائے۔

٭            پانامہ انکشافات میں جن کے نام ہیں ان سب لوگوں کے احتساب کے لیے اپوزیشن کے TORکی روشنی میں حکومت فوراً اقدامات کرے۔

٭            سپریم کورٹ کے خط کی روشنی میں دی گئی تین ہدایات پر فوری عمل درآمد کیاجائے ۔ خصوصاً کمیشن آف انکوائری ایکٹ 1956ءکو ختم کرکے اس کی جگہ کمیشن فار انکوائری اینڈ ٹرائل کے لیے نئی قانون سازی کی جائے۔

٭            پرنٹ والیکٹرانک میڈیا پانامہ انکشافات میں ملوث افراد کی انکوائری اور ٹرائل کے لیے قوم کو آگاہی فراہم کرے اور ذہن سازی کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرے تاکہ آنے والے انتخابات میں دستو رکی دفعہ 62اور 63کے معیار کے مطابق لوگ منتخب ہوسکیں۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس