Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ملک کی سیاسی صورت حال۔۔۔قرارداد


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس کرپشن فری پاکستان تحریک کی کامیاب پیش رفت پر اللہ کاشکر ادا کرتا ہے اور پاکستانی قوم کو اس امر پر مبارک باد پیش کرتاہے کہ بالآخر حکمران طبقہ کی احتسابی گرفت کاآغاز ہواہے۔ جماعت اسلامی پاکستان نے پانامہ لیکس سے بھی پہلے مارچ 2016ءسے اپنی کرپشن فری پاکستان تحریک کاآغاز کیاتھا۔ اور اس دوران ریلیوں ، مظاہروں ، ٹرین مارچ ، سیمینارز ،عوامی مشاعروں اور ماہرین قانون و معیشت کے اجلاسوں کااہتمام کیا۔ اور پارلیمنٹ میں متبادل قانون سازی کے لیے قانونی مسودات پیش کیے نیز سب سے پہلے سپریم کورٹ کادروازہ کھٹکھٹایا اوراپنی آئینی پٹیشنز کی اپنی وکلاءٹیم کے ساتھ بھرپور پیروی کی۔ دوران سماعت محترم امیرجماعت اپنی ٹیم کے ساتھ سپریم کورٹ میں مسلسل موجود رہے ۔ اور میڈیا کے ذریعہ ہر مرحلہ پر قوم کی رہنمائی کرتے رہے۔ اس مہم کے نتیجہ میں ہی عدالت عظمیٰ کا تاریخی فیصلہ سامنے آیا اور 2ججوں نے واضح فیصلہ دیاجبکہ باقی تین ججوں میں سے کسی نے بھی وزیراعظم کو بری نہیں کیا اور جے آئی ٹی کے قیام کا فیصلہ کیا ۔ اب عدالت عظمیٰ کی قائم کردہ جے آئی ٹی بھی جرات مندانہ طریقہ سے پیش رفت کررہی ہے۔

 

ہمیں اُمید ہے کہ ان شا ءاللہ جے آئی ٹی اور عدالت عظمی کا حتمی فیصلہ کرپشن اور کرپٹ طبقہ کے خلاف ہوگا جس کے نتیجہ میں قوم کو کرپشن اور کرپٹ طبقہ سے نجات ملے گی ۔ جماعت اسلامی پاکستان کے نزدیک پانامہ لیکس کے حوالہ سے موجودہ کیس محض ابتدا ہے انتہانہیں۔ جماعت اسلامی کرپشن کی ہر شکل کی مخالف ہے۔ چاہے وہ معاشی کرپشن ہے یا سیاسی ، چاہے وہ نظریاتی کرپشن ہے یا اخلاقی ۔ جماعت اسلامی ہر طرح کی کرپشن اور ہرفرد کی کرپشن کے خلاف اپنی تحریک پانامہ لیکس کے ذریعہ بے نقاب ہونے والے کرپٹ طبقہ کی قانونی ،عدالتی و عوامی گرفت تک جاری رہے گی۔

جماعت اسلامی پاکستان کے نزدیک یہ بھی ایک قومی المیہ ہے کہ کرپٹ عناصر ، ہر قیمت پر برسراقتدار رہنے اور پارلیمنٹ میں پہنچنے کے لیے وفاداریاں تبدیل کرکے دوسری جماعتوں میں پناہ ڈھونڈرہے ہیں۔ ہم سیاسی جماعتوں کے سربراہوں سے بھی اپیل کرتے ہیںکہ وہ کرپشن کے خلاف قوم کے اجتماعی شعور کا ساتھ دیں اور کرپٹ عناصر کے لیے پناہ گاہیں فراہم نہ کریں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کرپشن کااصلی خاتمہ کرپٹ نظام اور کرپٹ قیادت کی تبدیلی کے بغیر ممکن نہیں ۔ جماعت اسلامی پاکستان نے الحمدللہ کرپشن فری پالیٹکس اور کراچی و صوبہ خیبر پختونخوا میں گڈ گورننس کی بہترین مثالیں قائم کی ہیں، جب کہ عدالت عظمیٰ کے ریمارکس بھی واضح کرتے ہیں کہ جماعت اسلامی ہی کرپشن سے پاک اور دستور کی دفعہ 63-62پر پوری اترتی ہے۔لہٰذا یہی جماعت قوم کو مایوسیوں سے نکال کر حقیقی ترقی کے راستے پر گامزن کرسکتی ہے۔ اور اسلامی پاکستان ہی خوشحال پاکستان ثابت ہوسکتاہے۔

جماعت اسلامی پاکستان اس موقع پر اس اظہار کو بھی بے موقع نہیں سمجھتی کہ پانامہ لیکس کا فیصلہ کچھ بھی آئے ، جمہوریت پارلیمنٹ اور انتخابی اصلاحات کے نفاذ کے بعد بر وقت قومی انتخابات کاراستہ ہی قومی سلامتی کا ضامن ہے اور کسی بھی طرح کے ماورائے آئین اقدامات ملک و قوم کو غیر مستحکم کرنے کاذریعہ بن سکتے ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ کے نزدیک حکومت عوام سے کیے گئے وعدے پورے کرنے میں مکمل ناکام ہے۔ اور اس کی ناقص معاشی پالیسیوں کی وجہ سے کسان بدحال مزدوراور ماہی گیر پریشان اور غریب طبقہ زندہ درگور ہے۔ حکمرانوں کے جائز و ناجائز کاروبار عروج پر ہیں۔ ان کے اثاثے مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ جب کہ عوام پینے کے صاف پانی اور دو وقت کی روٹی سے بھی محروم ہو رہے ہیں۔ احمد پور شرقیہ کا حالیہ المناک سانحہ بھی غربت کی انتہائی مخدوش صورت حال کاشاخسانہ ہے اور حکومت کے لیے تازیانہ عبرت ہے۔

جماعت اسلامی پاکستان دہشت گردی کی تازہ لہر کی مذمت کرتی ہے۔ اور کراچی ، کوئٹہ ، پارہ چنا ر، ہنگو میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات پر تشویش کا اظہار کرتی ہے۔ ہمارے نزدیک ،عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں اور بڑی طاقتوں کی سرپرستی و حوصلہ افزائی کی وجہ سے بھارت کی دہشت گردی تخریب کاری اور پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ جماعت اسلامی پاکستان ....بھارت اور اس کے وزیراعظم نریندر مودی کے مسلم کش متعصبانہ اقدامات اور مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کے مقابلے میں حکومت پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی ، مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کو ان کی بے مثال لازوال جدوجہد آزادی میں تنہا چھوڑنے کی شدید مذمت کرتاہے۔ اجلاس کی نظر میں حکومت کونیشنل ایکشن پلان کی صورت میں تمام دینی و سیاسی جماعتوں کی طرف سے آئینی اور انسانی حقوق کے منافی اختیارات بھی محض دہشت گردی کے مکمل خاتمہ کے ہدف کے لیے دیئے گئے تھے۔ لیکن حکومت دہشت گردی اور اس کے سلسلہ میں کل بھوشن یادیو جیسے بھارتی نیٹ ورک کے خاتمے میں ناکام رہی ہے جبکہ دیئے گئے اختیارات کامدارس ، مساجد ، علماءکرام ، دینی اداروں کے طلبہ و اساتذہ اور دینی جماعتوں کے کارکنان کے خلاف ناجائز اور ناروا استعمال کیاگیا۔ لاتعداد افراد ماروائے قانون و عدالت غائب کیے گئے ہیں۔ جب کہ پولیس مقابلوں میں مارے جانے والے افراد کے معاملات بھی مشکوک اور غیر جانبدارانہ عدالتی تحقیقات کے متقاضی ہیں۔ اسی طرح اجلاس بھارت کی طرف سے چلائے جانے والے دہشت گردی اور تخریب کاری کے نیٹ ورک کو عالمی رائے عامہ کے سامنے بے نقاب کرنے ، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے وحشیانہ مظالم اور بھارت کی طرف سے سیز فائر لائن پر مسلسل گولہ باری اور بھارت کی آبی جارحیت پر اسے منہ توڑ جواب دینے پر زور دیتا ہے۔

اجلاس امریکی جاسوس ریمنڈ ڈیوس کی کتاب میں ہونے والے انکشافات کے نتیجہ میں اس وقت کی مرکزی و صوبائی حکومتوں اور ایجنسیوں کے کردار پر تشویش کااظہار کرتاہے اور اس امر پر اللہ کا شکر ادا کرتاہے کہ حب الوطنی کے حوالہ سے جماعت اسلامی کی لازوال جدوجہدکی گواہی مخالف کیمپ کی طرف سے بھی آئی ہے۔ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ قاتل ریمنڈ ڈیوس کے انکشافات کی غیر جانبدارانہ جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔

مرکزی مجلس شوریٰ کایہ اجلاس کشمیر، برما،شام ، فلسطین سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں مسلمانوں پر توڑے جانے والے بدترین مظالم پر دنیا کی واحد مسلم ایٹمی قوت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی حکومت کی بے حسی اور مجرمانہ لاتعلقی پر شدید احتجاج کرتاہے۔ پاکستان کو ترکی اور دیگر مسلمان ممالک کے تعاون سے برادر مسلمان ممالک کے درمیان موجودہ مخاصمت اور محاذ آرائی میں مصالحتی کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسی طرح جماعت اسلامی بنگلہ دیش کی مرکزی قیادت کو پاکستان سے وفاداری اور 1971ءمیں بھارت کی بجائے پاکستانی افواج کا ساتھ دینے کے جرم میں دی جانے والی پھانسیوں پر حکومت پاکستان کی مجرمانہ خاموشی اور سہ فریقی معاہدے کے حوالہ سے عالمی اداروں سے رجوع نہ کرنے کو ایک قومی جرم قرار دیتاہے۔ اور مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت اس سلسلہ میںفوری طور پر اپنی دینی و آئینی ذمہ داریاں پوری کرے اور اس سلسلہ میں قوم اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس