Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ملکی معاشی صورت حال کے حوالے سے قرارداد


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے اجلاس میں ملکی معاشی صورت حال کا بغور جائزہ لیاہے۔ اخبارات میں بڑے بڑے اشتہارات اور الیکٹرانک میڈیا پر حکومت کی تشہیری مہم میں معاشی ترقی اور عوام کے معیار زندگی کو بلند کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کا آئے دن ڈھنڈورا پیٹا جاتاہے۔ اس کے برعکس تلخ زمینی حقائق ان دعوﺅں کی نفی کرتے ہیں۔ درج ذیل چند اہم اعداد و شمار کو ہی لے لیجیے تو معاشی ترقی کے حوالے سے حکومتی دعوﺅں کی قلعی کھل جاتی ہے۔

l۔بے روزگاری 8.2فیصد ۔ہر سال 33لاکھ بے روزگار نوجوانوں کا اضافہ

l۔پینے کا پانی 33فیصد آلودہ ہے۔

l۔34فیصد آبادی ڈیپریشن کاشکار ہے۔

l۔10فیصد آبادی ہیپاٹائٹس کی موذی بیماری میں مبتلاہے۔

l۔اڑھائی کروڑ افراد بے گھر ہیں ۔ یعنی اپنا گھر نہیں رکھتے ۔

l۔2013ءمیں جب مسلم لیگ (ن) کی حکومت تیسری بار اقتدار میں آئی تو اس وقت بیرونی قرض 48.1بلین ڈالر تھاجوکہ جون 2017ءکے آخر میں 78.1بلین ڈالر ہوگیا۔ یعنی 4سالوں میں 30بلین ڈالر کا اضافہ ۔2013ءتک اندرونی قرضہ 14,318ارب روپے تھاجوکہ جون 2017ءکے آخر تک 20,872ارب روپے ہوگیا۔ اس وقت مجموعی پبلک ڈیٹ 24کھرب روپے سے بڑھ چکاہے۔ جوکہ جی ڈی پی کا 63فیصد سے زیادہ ہے۔

l۔گذشتہ مالی سال میں بھی فیڈرل بورڈ آف ریونیو اپنا سالانہ ہدف 3.6کھرب روپے حاصل نہ کرسکااور 200بلین روپے کا بجٹ خسارہ ہوا۔

l۔گذشتہ مالی سال کے اختتام پرپاکستانی درآمدات 42بلین ڈالر سے زیادہ تھیں ۔ جبکہ برآمدات 18بلین ڈالر کے قریب تھیں ۔ تجارتی خسارہ 24بلین ڈالر سے زیادہ تھا۔

l۔بجٹ خسارے اور تجارتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے اندرون ملک اور بیرون ملک سے قرض لیے جاتے ہیں۔ حد تو یہ ہوگئی کہ بیرونی قرضوں کے عوض اپنے قومی حساس اثاثے جیساکہ ائیرپورٹ اورموٹروے وغیرہ بھی گروی رکھ دیئے گئے ہیں۔ قرضے ادا کرنے کے لیے بھی نئے قرض لیے جارہے ہیں۔

l۔سالانہ کل اخراجات کا تقریباً 47فیصد قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہوتاہے۔ کل قرض سالانہ ریونیو کاتقریباً 600گنا ہوچکاہے۔

l۔بجلی کا شارٹ فال 5ہزار میگاواٹ سے 7ہزار میگا واٹ تک پہنچ چکاہے۔ شہری علاقوں میں 8سے 10گھنٹے اور دیہاتی علاقوں میں 12سے 14گھنٹے لوڈ شیڈنگ معمول کاعمل ہے۔

ریونیومیں مسلسل کمی ،اخراجات میں مسلسل اضافہ ، درآمدات میں مسلسل اضافہ ،برآمدات میں مسلسل کمی ،بیرون ملک پاکستانیوں سے ترسیل زر میں کمی بچت میں کمی ،سرمایہ کاری میں کمی (سوائے سی پیک کے تحت کچھ سرمایہ کاری )اور بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ کے ساتھ بڑھے ہوئے نرخوں کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافہ کی وجہ سے صنعتی یونٹوں کا جزوی یا کلی طور پر بند ہونا معاشی مشکلات میں اضافہ کاباعث ہے۔ جی ڈی پی میں 21فیصد سے زیادہ حصہ رکھنے والا اور کل ملک کی 44فیصد سے زیادہ لیبر کھپانے والا سیکٹر یعنی زراعت زبوںحالی کاشکار ہے۔ ایک طرف چھوٹے کاشتکاروں (جوکہ مجموعی فارمزکا 87 فیصد ہیں )کو بالخصوص فی ایکڑ اوسط پیداوار میں کمی ،مہنگے زرعی مداخلات ،جدیدٹیکنالوجی تک عدم رسائی ،اعلیٰ قسم کے بیجوں اور ادویات کی عدم دستیابی کاسامنا ہے، تو دوسری طرف ان کو بین الاقوامی منڈی میں اشیاءکی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے اندرون ملک اپنی پیداوار کی صحیح قیمت نہیں مل رہی۔ شوگرملوں والے گنے کے کاشتکاروں کو خریدے ہوئے گنے کی قیمت ادا نہیں کررہے ،کپاس ،آلو،مکئی ،گنا اوردھان وغیرہ کے کاشتکار شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

یہ اجلاس مطالبہ کرتاہے کہ حکومت ٹیکسوں کے نظام میں بنیادی اصلاحات کرکے خوشحال طبقے سے براہ راست ٹیکسوں کے ذریعے سے اپنے مالی وسائل بڑھائے تاکہ بجٹ خسارہ کم ہواور کم وسائل والے لوگوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کیاجاسکے ۔ بد قسمتی سے حکومت نے غلط پالیسی کی وجہ سے براہ راست ٹیکس (انکم ٹیکس )کو بھی بالواسطہ ٹیکس یعنی وود ہولڈنگ ٹیکس کی شکل میں جمع کرنے کا طریقہ اختیار کیاہواہے۔ حکومتی جاری اخراجات میں فوری طور پر کمی کی جائے ۔ برآمدات میں بڑھوتری کے لیے بجلی اورگیس وغیرہ کی قیمتوں میں کمی کرکے پیداواری لاگت کو کم کیا جائے۔ بیرون ملک مناسب منڈیاں تلاش کرکے وہاں کی مانگ کے مطابق مال تیار کرکے برآمد کیاجائے۔ روایتی اشیاءپر انحصار کی بجائے جدت پسندی اختیار کرکے بیرون ملک کے خریداروں کی پسند کے مطابق اشیاءتیار کروائی جائیں ۔ زراعت کے شعبے میں کپاس خصوصی توجہ کی مستحق ہے۔ جس کی پیداوار میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور ایکسپورٹ کرنے کی بجائے اب درآمد کرنے پر مجبور ہیں۔ اسی طرح سے پھلوں آم ، کینوں ،امروداور سبزیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنا کر برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کیاجاسکتاہے۔ قرضوں کی بجائے ملکی وسائل پر انحصار کرکے انہیں بروئے کار لایاجائے۔ غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے او ر برآمد کنندگان کے Refundsروک کر جعلی طو رپر ریونیو کی بڑھوتری کا تاثر دینے کی غلط روش کو تر ک کیاجائے اور جائز Refundsکو فوراً اداکیاجائے تاکہ برآمدکنندگان ورکنگ کیپٹل کی کمی کا شکار نہ ہوں۔

سوشل سیکٹر (بالخصوص تعلیم اور صحت ) پر اسی خطے میں واقع دوسرے ممالک کے مقابلے میں بہت کم وسائل خرچ کیے جاتے ہیں۔ تعلیم کے شعبہ پر جی ڈی پی کا صرف 1.8فیصد سے 2.2فیصد خرچ کیاگیا۔صحت پر جی ڈی پی کا 2فیصد سے کم خرچ کیاجارہاہے۔ موجودہ حکمرانوںنے موٹرویز ،بڑی شاہراہوں ،انڈرپاسز ،میٹرو بس ،اورنج ٹرین وغیرہ پر بے پناہ وسائل خرچ کیے ہیں لیکن تعلیم اور صحت کے شعبے حکومتی زبانی دعوﺅں کے باوجود عملی طور پر ان کی ترجیحات میں شامل نہ ہوسکے۔ علاقائی حوالے سے حکومتی ترجیحات بہت زیادہ ناانصافی پر مبنی ہیں۔ مثلاً سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے حالیہ بجٹ میں اضلاع کی ترقیاتی سکیموں کے حوالے سے 58فیصد فنڈ لاہور پر خرچ کیے گئے ، 3فیصد فنڈ ملتان پر خرچ کیے گئے اور باقی تمام اضلاع میں 3فیصد سے بھی کم فنڈ خرچ کیے گئے ۔ انہی پالیسیوں کی وجہ سے علاقائی طور پر اور طبقاتی لحاظ سے آمدنی کی تقسیم میں بہت زیادہ عدم مساوات ہے۔

یہ اجلاس مطالبہ کرتا ہے کہ وسائل کی تقسیم کے حوالے سے ملک کے مختلف علاقوں میں عدم مساوات کی پالیسی ترک کرکے مساوی عدل

اجتماعی کی پالیسی اختیار کی جائے۔ اور ملکی معیشت کوبلاتاخیر غیر سودی بنیادپر استوار کیاجائے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس