Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کے حوالے سے۔قرارداد


جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شورٰی حکمران طبقے اور افسر شاہی کی جانب سے عدالت عظمیٰ کے تاریخ ساز فیصلے کے باوجود اُردو کو قومی زبان کی حیثیت سے رائج کرنے اور دفتری و سرکاری زبان کے طور پر اپنانے میں مسلسل لیت و لعل سے کام لینے پر تشویش کا اظہار کرتی ہے کیونکہ 1973ءآئین کی دفعہ 251کے مطابق 1988ءتک ہر صورت میں اُردو کو دفتری اور سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنا لازمی قراردیاجا چکاہے۔ قومی زبان اُردو،عوامی سطح پرابلاغ ،تعلیم ،کاروبار مملکت میں موثر احساس شرکت کے ساتھ ساتھ قومی زندگی کی تشکیل ، تہذیب ، یکجہتی اور تمام صوبوں میں رابطے کے لیے بنیادی اہمیت کی حامل ہے ۔ جدید علوم و فنون میںبھی قومی ترقی کا دروازہ اس وقت تک نہیں کھل سکتا جب تک ہم چند ماہرین پر انحصار کرنے کے بجائے عوامی شعور کو جدید سائنسی تصورات سے آشنا نہیں کر دیتے جو ظاہر ہے کہ کسی بیرونی زبان پر تکیہ کرنے کے بجائے عام فہم اردو کے ذریعے کروڑوں عوام تک ان سائنسی معلومات کی اشاعت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اردو کی قومی اور سرکاری حیثیت قطعی طور پر طے شدہ ہے اور اسے آئینی تحفظ بھی حاصل ہے ۔اس کے ساتھ اُردو دنیا کی اہم ترین زبانوں میں شامل ہے۔

اُردو ہے جس کانام ہمیں جانتے ہیں داغ

سارے جہاں میں دھوم ، ہماری زباں کی ہے۔

 عدالت عظمیٰ پاکستان کا فیصلہ ہوئے پونے دو سال کاعرصہ گزر چکا ہے۔ لیکن اس پر عملدرآمد کے لیے حکومتی کوششیں حددرجہ سست روی اور بدنیتی کا مظہر ہیں۔ نفاذ اردو کے لیے سب سے بڑا خطرہ اور رکاوٹ ایسے ارباب اختیار ہیں جن کا جنم انگریز نگری میں اور پرورش مغربی ماحول میں ہوئی ہے اور اردو پڑھنے اور لکھنے سے نابلداور احساس کمتری کاشکار یہ طبقہ قوم کو روشن خیالی کے نام پر قومی تہذیب سے بیگانہ کرنے میں مصروف عمل ہے۔ ایسے سرکاری اور درباری ارباب اختیار کی سرپرستی اورکثیر الملکی اداروں کی آشیر باد سے ہماری تفریح ، خوراک ، لباس ، وضع قطع ، تمدن اور تہذیب کی بنیادیں تبدیل کرتے ہوئے ہمارے عقائد کو متزلزل کرنے کی کوششیںکی جارہی ہیں۔

جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شورٰی کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ سابقہ دور آمریت کے دوران تعلیم ، نشرواشاعت ، عدلیہ اور اقتدار کی غلام گردشوں میں پروان چڑھنے والی روشن خیالی کی بیمار ذہنیت سے چھٹکارا حاصل کرے ۔ آئینی تقاضے کو مدنظررکھتے ہوئے سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں

l               سینٹ ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کی تمام کارروائی اُردو میں شروع کی جائے اور ناگزیر ضرورت کے تحت انگریزی ترجمے کااہتمام کیاجائے۔

l               جناب جسٹس جواد ایس خواجہ پہلے ہی اُردو میں فیصلہ لکھ چکے ہیں اور جسٹس دوست محمدخان صاحب کے کئی فیصلے اُردو میں آچکے ہیں لہٰذا تمام عدالتوں میں عدالتی کارروائیاں اور فیصلے اُردو میں تحریرکیے جائیں۔

l               سی ۔ ایس ۔ ایس اور مقابلے کے تمام امتحانات اُردو زبان میں لینے کااہتمام کیاجائے۔

l               تعلیم کے میدان میں تمام سرکاری اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو نرسری اور پرائمری کی سطح پر اُردو بولنے اور لکھنے کاپابند بنایاجائے اور پرائمری تا ہائر ایجوکیشن اُردو کو ذریعہ تعلیم قرار دیا جائے اور تمام ریاستی حکام اور اہلکاروں کو سرکاری امتحان ،مباحث ، حکومتی کاروائیاں اردو میںتحریر کرنے کا پابند کیا جائے تاکہ ایک خود مختاراور با وقار قوم کی حیثیت سے ہماری شناخت ہوسکے۔

٭....٭....٭

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس