Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

تمام اپوزیشن اور دینی جماعتیں ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کریں ۔ لیاقت بلوچ


لاہور14جولائی 2017ء:جماعت اسلامی پاکستا ن کے سیکرٹری جنرل سابق پارلیمانی لیڈر لیاقت بلوچ نے منصورہ میں اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی ترجیح ذاتی خاندانی مفادات اور عدالتی فیصلہ کے خلاف عوام کو بھڑکانا ہے ۔ یہ کھیل مسلم لیگ ن ، جمہوریت اور قومی سلامتی کے لیے خطرناک ہے ۔ وفاقی کابینہ اور حکمران جماعت کی حکمت عملی اصول ، قانون ، اخلاقیات سے بالاتر سینہ زوری پر مبنی ہے ۔لیاقت بلوچ نے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر ، میاں منظور وٹو ، علامہ سید ساجد علی نقوی ، انجینئر ابتسام الٰہی ظہیر اور دیگر رہنماﺅں سے رابطے کیے اور اتفاق ہوا کہ تمام اپوزیشن اور دینی جماعتیں ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر اتفاق کریں ۔ 

لیاقت بلوچ نے کہاکہ جے آئی ٹی رپورٹ اور سپریم کورٹ میں احتساب کے عمل کے مرحلہ میں حکمران جماعت سیاست میں مفادات کا گند گھول دینا چاہتی ہے ۔جمہوری قوتوں کو مشترکہ موقف اختیار کرنے کے لیے تجویز ہے کہ وزیراعظم نوازشریف احتساب کے عمل کی تکمیل تک وزارت عظمیٰ چھوڑ دیں ، آئین کے مطابق اکثریتی پارٹی نیا لیڈر آف ہاﺅس کا انتخاب کرے ،مخصوص نشستوں کے ممبران اسمبلی وزیراعظم نہیں بن سکتے۔ انتخابا ت کے لیے اصلاحات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے ، نئے انتخابات صرف وزیراعظم قومی اسمبلی توڑ دیں تو ہوسکتے ہیں لیکن افراتفری میں انتخابات کسی کے حق میں نہیں ہوں گے ۔ اگر قومی اسمبلی ، سندھ ، پنجاب ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی اکثریتی پارٹیاں اتفاق رائے سے نئے انتخابات کے لیے اسمبلیاں توڑنے دیں تو نئے انتخابات کا خیر مقدم کریں گے ۔ ملک میں افراتفری پیدا کر کے احتساب کا عمل نہیں رکنا چاہیے ۔ ملک و ملت کو ذلت ،غربت ، بے روزگاری ، لاقانونیت دینے والے تمام کرپٹ عناصر کا اب احتساب ہو، احتساب کا عمل منطقی انجام تک پہنچایا جائے ۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس