Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

22اپریل کو چاروں طرف سے گورنر ہاو س کا گھیراؤکیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمن


 کراچی 18اپریل2017ء: جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ 22اپریل کو کسی ریڈ زون کو تسلیم نہیں کریں گے ، چاروں طرف سے گورنر ہاو 191س کا گھیراؤ کریں گے ، شاہراہ فیصل پر ملین مارچ بھی کرسکتے ہیں ، ہمیں احتجاج کا شوق نہیں ، اگر وزیر اعظم اور گورنر مسئلہ حل کرائیں تو ہم احتجاج کے ساتھ ساتھ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہیں۔کراچی کے عوام کو ان کا حق دلائیں گے ، کے الیکٹرک کے مظالم سے نجات دلائیں گے۔کے الیکٹرک اووربلنگ ختم کرے اور فیول ایڈجسمنٹ ، ڈبل بنک چارجز ،میٹر رینٹ اClaw Back اور ملازمین کے نام پر غیر قانونی طور پر وصول کیے گئے 200اارب روپے کراچی کے عوام کو واپس کرے۔100,200اور 300یونٹ استعمال کرنے والے چھوٹے صارفین کے لیے نرخوں میں ظالمانہ اضافہ واپس لیا جائے۔ کراچی کو لوڈ شیڈنگ فری کیا جائے کیونکہ کے الیکٹرک کے تمام پاور پلانٹس اگر چلائے جائیں تو کراچی میں بجلی کی کوئی کمی نہیں ہوسکتی۔ان خیالات کااظہارانہوں نے کے الیکٹرک آفس النور پاور ہاو س نزد شفیق موڑ پر کے الیکٹرک کے خلاف دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔احتجاجی دھرنا کے الیکٹرک کی جانب سے کراچی کے شہریوں سے 200ارب روپے سے زائد غیر قانونی طور پر وصول کر نے ،اووربلنگ ،پیداواری صلاحیت ہونے کے باوجود مطلوبہ بجلی پیدا نہ کر نے اور شہریوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کر نے ،چھوٹے صارفین کے لیے نرخوں میں اضافے اور کے الیکٹرک ،نیپرا اور حکومتی گٹھ جوڑ کے خلاف احتجاجی تحریک کے سلسلے میں دیا گیا۔احتجاجی دھرنے میں ضلع وسطی کے علاقوں کے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور کے الیکٹرک کے مظالم کے خلاف شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔اس موقع پر شہریوں نے اپنی شکایات بھی بیان کیں۔شکایات بیان کرنے والے افراد اپنے ہمراہ کئی کئی لاکھ روپے کے غلط اور اوور بل بھی لائے تھے۔احتجاجی دھرنے کے شرکاء نے بڑے بڑے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جن پر کے الیکٹرک ، نیپرا اور وفاقی و صوبائی حکومت کے خلاف مختلف نعرے درج تھے۔دھرنے کے شرکاء نے پر جوش نعرے بھی لگائے۔کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے دھرنے کے دوران ٹریفک رواں دواں رہا۔ دھرنے سے جماعت اسلامی ضلع وسطی کے امیر منعم ظفر خان ،نائب امیر ضلع وسطی محمد احمد قاری ، سکریٹری ضلع محمد یوسف ، خالد صدیقی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر مظفر احمد ہاشمی ،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری اور دیگر بھی موجود تھے۔علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے تحت شہر بھر میں کے الیکٹرک کے خلاف احتجاجی مظاہروں اور کانر میٹنگز کا سلسلہ بھی جاری ہے اورسینکڑوں مقامات پر مظاہریں اور کانرنر میٹنگز منعقد کی گئیں۔جماعت اسلامی کے مقامی رہنماؤں نے خطاب کیا۔حافظ نعیم الرحمن نے مزید کہا کہ یہ مسئلہ جماعت اسلامی کے کسی لیڈر کا مسئلہ نہیں ہے یہ کراچی کے ڈھائی کروڑعوام کا مسئلہ ہے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ عوام کے اس مسئلے کو سامنے لائے اور عوام کے پر امن احتجاج اور کے الیکٹرک کی لوٹ مار جو اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے اسے بے نقاب کیا جائے۔ آج کے دھرنے میں 31مارچ کو شاہراہ فیصل پر پولیس کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے محمد ارشد نے بھی شرکت کی جو دو روز قبل ہسپتال سے ڈسچارج کیا گیا ہے۔ اس کا گردہ نکالا گیا ہے۔ اس نے کئی روز موت اور زندگی کے کشمکش میں گزارے ہیں۔ ہمارے 5کارکنوں کو پولیس کی گولیاں لگیں لیکن ہماری ایف آئی آر درج نہیں کی جارہی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے اور پولیس تشدد اور فائرنگ کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی جائے۔انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے کے الیکٹرک کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست دی اور نیپرا کے اندر بطور فریق شریک ہوئی اور کراچی کے عوام کا مقدمہ لڑا۔ ہم نے گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ وفاق کے نمائندے ہونے کے ناطے کراچی کے عوام کو کے الیکٹرک کے مظالم سے نجات دلائیں۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک کی پیداواری صلاحیت کراچی کی ضرورت پوری کرتی ہے لیکن یہ اپنے تمام پلانٹ نہیں چلاتے اور فیول بچاتے ہیں۔ منافع توکماتے ہیں لیکن عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب سے دوچار کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک وفاق سے 6500میگاواٹ سستی بجلی لیتی ہے لیکن یہ سستی بجلی کراچی کے عوام کو مہنگی کرکے ملتی ہے اس سہولت کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ملتا۔2سال قبل ہیٹ ویوز میں کے الیکٹرک کی نااہلی اور لوڈ شیڈنگ سے 5ہزار سے زائد شہری جاں بحق ہوئے مگر وفاقی اور صوبائی حکومت نے کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی۔ اس وقت بھی کے الیکٹرک کے پاور پلانٹ بند تھے۔ اگر تمام پاور پلانٹس چل رہے ہوتے تو ہزاروں شہری جاں بحق نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک نے اربوں روپے کے تانبے کے تار فروخت کرکے ایلمونیم کے تار لگادیے جو گرمی میں بری طرح متاثر ہوئے۔ ہزاروں شہریوں کے کئی کئی لاکھ روپے کے بل بہت بڑا مسئلہ ہے لیکن کے الیکٹرک والے یہ بل درست کرنے پر تیار نہیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ آج بھی بعض لوگ شہر کے اندر نان ایشوز کو ایشوز بنایا جارہا ہے اور عوام کو مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے اپنے قائد کے خلاف کچھ بولنے اور اپنی پارٹی کے لیے تو ہڑتالے کیں لیکن آج تک کے الیکٹرک کے خلاف کوئی ہڑتال نہیں کی کیونکہ ایم کیو ایم کے کے الیکٹرک کی پشت پر تھی اور ایم کیو ایم نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ مگر کے ای ایس سی کو فروخت کیا تھا۔ جماعت اسلامی نے اس کے خلاف اس وقت بھی احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد زرداری نے اسے ایک اورگروپ کو بیچ دیا اور آج پھر فروخت کیا جارہا ہے۔مگر آج تک کے الیکٹرک کے اصل مالک کا کسی کو نہیں پتا اور نہ ہی اس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو بھی آج تک عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔کے الیکٹرک گیس کی کمی کے نام پر لوڈ شیڈنگ میں اضافہ کررہی ہے جبکہ سوئی سدرن گیس کمپنی سے کے الیکٹرک کا جو معاہدہ ہے وہ اسے اس سے زیادہ گیس فراہم کرتی ہے لیکن کے الیکٹرک فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بھی کے الیکٹرک کے اربوں روپے وصول کرچکی ہے۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ ٹیرف میں کمی ہو۔ لوڈ شیڈنگ ختم کی جائے اور 200ارب روپے واپس کیے جائیں۔ ہم 22اپریل کو گورنر ہاؤس پر ہر صورت میں دھرنا دیا دیں گے اور فیصلہ کریں گے کہ اب کیا کریں اگر ہم کو روکنے کی کوشش کی گئی تو حالات کی ذمہ داری حکومت اور انتظامیہ پرہوگی۔انہوں نے کہا کہ ہم شہر کی ہر شاہراہ پر احتجاج کریں گے اور شاہراہ فیصل پر بھی احتجاج کا پروگرام بنایاگیا تو اس کو لازمی عملی جامہ پہنائیں گے۔انہوں نے کہا کے 30سالوں میں کراچی کے عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔ ہر حکومت میں شامل رہے اور ہر حکومت سے مراعات لیں ہردس سال بعد کوٹہ سسٹم پر دستخط کیے۔ عوام سے جو وعدے کیے گئے ان کو پس پشت ڈال دیتے گئے۔ نوجوانوں سے قلم اور کتابیں لے کر ان کے ہاتھوں میں ٹی ٹی اور کلاشنکوف دیدی گئی عوام سے کہا گیا کہ ٹی وی اور وی سی آر فروخت کرکے اسلحہ خریدو۔انہوں نے کہا کہ کے الیکٹرک ایک جن ہے اور اس نے عوام کو لوٹا ہے اس جن کو بوتل میں بند کردیا گیا تو واٹر بورڈ بھی درست ہوجائے گا اور کے ایم سی بھی صفائی کرے گی۔آج اختیارات کے نہ ہونے کا رونا رو کر عوام کو پھر بے وقوف بنایاجارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کے الیکٹرک کا مسئلہ حل کرانا چاہتے ہیں۔مذاکرات سے اگر مسئلہ حل ہوتا ہے تو ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں لیہکن صرف احتجاج اور دھرنا ختم کرانے کے لیے کوئی مذاکرات قبول نہیں کریں گے۔مسئلہ ہر صورت میں حل کرائیں گے۔انہوں نے کہا کہ صدر ممنون حسین کے زیر کنٹرول ایک لیگل ڈیپارٹمنٹ ہے جو کے الیکٹرک کے خلاف وفاقی محتسب کے فیصلے پر عمل درآمد نہیں ہونے دیتا۔ گزشتہ سال وفاقی محتسب نے کے الیکٹرک کے خلاف 20ہزارفیصلے دیے مگر کسی ایک فیصلے پر بھی عمل درآمد نہیں ہوا اور کے الیکٹرک کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ صدر ممنون حسین کراچی سے تعلق رکھتے ہیں کراچی کے عوام ان سے کہتے ہیں کہ ان کی صدارت میں کراچی والوں کے ساتھ یہ ظلم آخر کیوں جاری ہے۔منعم ظفر خان نے کہا کہ وفاقی حکومت ، صوبائی حکومت اور کے الیکٹرک کیانتظامیہ ہون کے ناخن لے اور کراچی کے عوام پر ظلم ڈھانے کا سلسلہ بند کیا جائے۔ کراچی کے عوام سے 200ارب روپے لوٹے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی عوام کا حق دلوائے گی۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کی آواز بنی ہے۔ ہمارا یہ عزم ہے کہ ہماری یہ جدوجہد جاری رہے گی ،احتجاجی تحریک مزید آگے بڑھے گی اور اس کے اندر تیزی آئے گی۔*نیو کراچی کے رہائشی اور کے الیکٹرک کے خلاف 31مارچ کو شاہراہ فیصل پر احتجاجی دھرنے پر پولیس کی فائرنگ سے شدید زخمی ہونے والے محمد ارشد نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ ان کو ایمبولینس کے ذریعے لایا گیا۔شرکاء نے ان کا بھرپور خیر مقدم کیا اور پر جوش نعرے لگائے۔ان کی جلدا ز جلد صحت یابی کی دعا کی اور ان کی قربانی پر ان کو خراج تحسین پیش کیا۔کے الیکٹرک کی لوڈ شیڈنگ اور ہیٹ اسٹروک کے علامتی اظہار کے لیے ایک منفرد گھڑی تیار کی گئی تھی جس میں ہر گھنٹے پر نمبر کے بجائے بجلی آگئی اور بجلی گئی درج تھا جبکہ علامتی جنازے بھی رکھے تھے جو اس بات کا اظہارتھا کہ دو سال قبل یہٹ اسٹروک اور کے الیکٹرک کی نااہلی کے باعث ہزاروں شہری جاں بحق ہوئے تھے۔*کے الیکٹرک کو ایک بہت بڑے کنگ کانگ کی صورت میں پیش کیا گیا تھا جس کے ہاتھوں میں موجودہ اور سابق حکمرانوں کے پتلے تھے جو اس بات کا اظہارتھا کہ کے الیکٹرک کا کنگ کانگ سب کو قابو میں کیے ہوئے ہیں۔*ایک اور ماڈل بیل کا بنایا گیا تھا جو مسلسل حرکت کررہا تھا اور اس پر تحریر تھا ’’کے الیکٹرک منہ زور بیل ‘‘۔*مسجد حذیفہ کے خطیب عارف اللہ والا نے اپنی مسجد کے بارے میں بتایا کہ ایک ماہ کا بل صرف سوا لاکھ روپے بھیج دیا گیا۔ایک شخص علی زماں نے بتایا کہ دو کمرے کے مکان کا بل ساڑھے تین لاکھ روپے بھیج دیا گیا۔*صفات احمد نے کوئٹہ ٹاو 191ن میں اپنے مکان کے بارے میں بتایا کہ بجلی کا میٹر لگادیا گیا ہے کہ لیکن ابھی بجلی نہیں آئی ہے لیکن بجلی کا بل 30ہزار روپے بھیج دیا گیا ہے۔*70سالہ محمد اسماعیل نے بتایا کہ میرے گھر پر بجلی چوری کا بل بھیج دیا گیا جبکہ میرے گھر میں چوری یا کنڈے کا کوئی وجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود میرے چھوٹے سے گھر پر ڈیڑھ لاکھ روپے کا بل بھیج دیا گیا۔*عباس مدنی نے بتایا کہ کورنگی میں ان کی بہن کے گھر پر نہ بجلی کا تار ہے اور نہ کوئی کھمبا ہے لیکن ان کے گھر پر ڈھائی لاکھ روپے کا بل بھیج دیا گیا ، جبکہ گھر پر صرف میٹر لگا ہے۔*گلبہار کے 60گز کے ایک چھوٹے سے مکان کے مکین عبد اللہ نے بتایا کہ ان کے گھر پر ایک لاکھ 95ہزار روپے کا بل بھیج دیا گیا ہے۔ہیومن رائٹس نیٹ ورک والے میرے گھر کا دورہ کریں اور دیکھیں کہ میرے ساتھ کیا ہورہا ہے۔*فیڈرل بی ایریا کے ایک رہائشی نے بتایا کہ ان کے گھر پر 6لاکھ روپے کا بل بھیج دیا گیا اور تیز رفتار میٹر کا ریکارڈتوڑدیا۔ * شریف آباد کے ایک بزرگ مکین نے بتایا کہ ان کے گھر کی بجلی کاٹ دی گئی ہے۔ بغیر کسی وجہ کے ہمارے بچوں اور خواتین کو بجلی سے محروم کردیا ہے۔ بزرگ شہری کی روداد پر نوجوان شدید مشتعل ہوگئے اور کے الیکٹرک کے دفترکے دروازے کی طرف بڑھنے لگے لیکن منتظمین نے ان کو پر امن رہنے کی تلقین کی اور آگے بڑھنے سے روک دیا۔کے الیکٹرک کے انجینئر زاہد جن کو نوکری سے جبری طور پر نکال دیا گیا تھا انہوں نے اپنے مسائل بیان کیے اور کے الیکٹرک کی انتظامیہ کے ظلم کی روداد سنائی۔*دھرنے کے شرکاء4 نے نماز مغرب اور نماز عشاء4 شفیق موڑ پر ہی ادا کی۔*احتجاجی دھر نے کے الیکٹرک کے خلاف لگنے والے نعروں میں یہ نعرے شامل تھے ،چور چور ہے کے الیکٹرک چور ہے،تانبو چورو کراچی چھوڑو ،مردہ باد مردہ باد کے الیکٹر مردہ باد ،لوٹی ہوئی رقم واپس کر۔واپس کرو ،اوور بلنگ ختم کرو،ختم کرو،اضافی چارجز بند کرو ،بند کرو، لوڈشیدنگ ختم کرو ،ختم کرود *۔۔۔جو کے الیکٹرک کا یار ہے غدارہے ،غدار۔ ،کے الیکٹرک ڈاکو ہے ،ڈاکو ہے، عوام کے 200ارب روپے واپس کرو ،واپس کرو ،گلی گلی میں شور ہے۔ کے الیکٹرک چور ہے ،چور ہے ،جینا ہو گا مرنا ہو گا دھرنا ہو گا دھرناہوگا ،کے الیکٹرک تانبا چور۔کے الیکٹرک بھتہ خور، کے الیکٹرک آدم خور ،نہیں چلے گی نہیں چلے گی۔کے الیکٹرک کی دہشت گردی نہیں چلے گی،نہیں چلے گی نہیں چلے گی۔ لوٹ مار نہیں چلے گی ،کے الیکٹر ک ڈوب مرو ،ڈوب مرو،کے الیکٹرک جواب دو ،حساب دو ،حساب دو ،اٹھو بڑھو کراچی۔کے الیکٹرک سے حساب لو ،جواب دو جواب دو۔کے الیکٹرک حساب دو،حساب دو حساب دو۔ کے الیکٹرک حساب دو ،killerالیکٹرک مردہ باد مردہ باد ،گرتی ہوئی دیواروں کو ایک دھکا اور دو،کے الیکٹرک کے یاروں کو ایک دھکا اور دو ،کے الیکٹرک کے پیاروں کو ایک دھکا اور دو ،کے الیکٹرک کے پیاروں کو ایک دھکا اور دو۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس