Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

لاہور سمیت صوبے بھر میں لوڈشیڈنگ کادورانیہ ناقابل برداشت حد تک بڑھ چکا ہے۔میاں مقصوداحمد


 لاہور16اپریل2017ء: امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کہاہے کہ لاہور سمیت صوبے بھرمیں لوڈشیڈنگ کادورانیہ ناقابل برداشت حد تک بڑھ جانے سے عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔ایک طرف حکمران سی پیک کاکریڈٹ لیتے ہیں تودوسری جانب ماضی کے مقابلے میں موجودہ رواں سال میں توانائی کا بحران سنگین ترہوچکا ہے۔یوں محسوس ہوتاہے کہ جیسے2018میں بھی لوڈشیڈنگ سے نجات ممکن نہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روزعوامی وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہاکہ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 12سے14گھنٹے بجلی کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔لوگ سراپااحتجاج ہیں مگر حکمران عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے خوشحالی اور ترقی کے جھوٹے نعرے لگارہے ہیں۔طویل لوڈشیڈنگ سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکمرانوں نے بلندوبانگ دعوے کیے تھے کہ سی پیک کامنصوبہ شروع ہونے کے بعد توانائی کابحران ختم ہوجائے گا اور ملک میں خوشحالی آئے گی مگر چار سال سے برسراقتدارطبقے کی کارکردگی نے عوام کو شدیدمایوس کیاہے۔بجلی کی غیر اعلانیہ طویل لوڈشیڈنگ سے پینے کاپانی نایاب اورلوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہوچکا ہے۔ملک میں اس وقت بجلی کی پیداوار 12ہزار میگاواٹ اورطلب16ہزار میگاواٹ سے زائد ہونے سے شارٹ فال4ہزار میگاواٹ سے تجاوز کرچکا ہے۔انہوں نے کہاکہ اربوں روپے کی لاگت سے مکمل ہونے والے نندی پور اور بھبھکی ڈیم صلاحیت کے باوجود بند پڑے ہیں جوکہ حکمرانوں کی کارکردگی پر بہت بڑاسوالیہ نشان ہے۔انہوں نے کہاکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے توانائی بحران کے خاتمے کو یقینی بنائے۔عوام الناس کو بلاتعطل سستی بجلی فراہم کرنا حکمرانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ملک میں کوئلے،پانی اور ہوا کے وسیع ذخائر موجود ہیں ان سے بجلی پیداکرکے عوام کو ریلیف فراہم کیاجانا چاہئے۔میاں مقصود احمد نے مزیدکہاکہ حکمرانوں کی عاقبت نااندیش پالیسیوں کی وجہ سے عوام تذبذب کاشکارہیں۔واپڈ سمیت تمام سرکاری ادارے کرپشن اور ناقص پالیسیوں کی بدولت تباہ وبربادہوچکے ہیں۔لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافے کے سبب مزدور طبقہ فاقہ کشی پر مجبور ہوچکاہے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس