Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

ناکام گندم پالیسی،لاکھوں من گندم کھیتوں کھلیانوں میں پڑی خراب ہو رہی ہے


 لاہور8 اپریل 2017ء: کسان بورڈ پاکستان کے صدر چوہدری نثار احمد اور سیکرٹری جنرل ارسلان خاں خاکوانی نے اپنے دفتر میں میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کی گندم پالیسی2017سرا سر ناکام ہو چکی ہے ۔حکومت نے پنجاب کے کئی مقامات پر خصوصاً اپر اور سینٹر پنجاب میں ابھی تک خریداری شروع ہی نہیں کی جبکہ سندھ اورجنوبی پنجاب میں گندم کی گہائی کئی ہفتے قبل شروع ہو چکی ہے۔ ۔لاکھوں من گندم کھیتوں کھلیانوں میں پڑی خراب ہورہی ہے۔جسکی وجہ سے کسان اپنی گندم ایک ہزار روپے سے گیارہ سو روپے تک بیچنے پر مجبور ہو چکے ہیں جسکی وجہ سے کسانوں کو اربوںروپے کا نقصان پہنچ چکا ہے ۔موجودہ صنعتکار حکومت کے عزائم کسان دوستی کی بجائے کسان دشمنی پر مبنی ہیں حکومت اپنے چہیتے سٹاکسٹوں اور فلور مل مالکان کو نوازنے کیلیے جان بوجھ کر کسانوںکی حوصلہ شکنی کررہی ہے تاکہ جب مجبور کسان اپنی گندم اُونے پونے بازارمیںفروخت کر دے تو اس کے بعد اپنے چہیتے سٹاکسٹوں او ر فلور مل مالکان کے ذریعے گندم خرید کر انہیں اربوںروپے کا فائدہ پہنچا سکے ۔انہوںنے کہا کہ گندم کی خریداری شروع نہ ہونے کی وجہ سے گندم کے کاشتکاروں کو کروڑوں کا نقصان پہنچ رہا ہے۔ان رہنمائوں نے کہا کہ گندم کی خریداری شروع نہ کرنے پر اور چھوٹے کسانوں کے ساتھ زیادتیوں کے خلاف کسان بورڈ احتجاج کرنے پر مجبور ہوگا۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس