Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

عدالتی احکامات کے باوجود گستاخانہ پیجز چلانے والوں کیخلاف کاروائی نہ ہوناقابل مذمت ہے۔


 لاہور18مارچ 2017ء: امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمدنے کہاہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود گستاخانہ پیجز چلانے والے جن70افراد کی نشاندہی ہوچکی ہے ان کے خلاف کسی قسم کی کوئی کاروائی نہ ہونا انتہائی قابل مذمت اور افسوس ناک امرہے۔مواد کی تشہیر میں ملوث افراد اورغیر ملکی این جی اوز کاسراغ لگانے کے باوجود گرفت میں نہ لانے سے مسلمانوں کے دینی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچ رہی ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ حکمرانوں نے محض مذمتی بیانات سے آگے نہ بڑھنے کی قسم کھا رکھی ہے۔سائبر کرائم بل میں گستاخی سے متعلق قانون کا نہ ہونااس بات کاثبوت ہے کہ حکمرانو ں کی ترجیحات میں دینی وملکی معاملات شامل نہیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر وجود میں آیا مگر بدقسمتی سے اس میں انگریزوں کاقانون رائج ہے۔توہین رسالتؐ کاارتکاب کرنے والے کسی بھی قسم کی رعایت مستحق نہیں۔ان کے خلاف سخت ترین تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے۔کوئی بھی مسلمان شان رسالتؐ میں گستاخی کاسوچ بھی نہیں سکتا۔جوقوتیں گستاخ بلاگرز کی پشت پناہی کررہی ہیں ان کو بھی بے نقاب کیاجائے۔انہوں نے کہاکہ شان رسالتؐ میں گستاخیاں کرنے والوں کو اسلامی شریعت کے مطابق سزادی جائے۔درحقیقت گستاخان رسولؐ کی بیرونی ممالک سے ڈوریں ہلائی جاتی ہیں۔کفار مختلف حیلوں حربوں سے مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔اتحادویکجہتی سے ان سازشوں کامقابلہ کیاجائے۔میاں مقصوداحمد نے مزیدکہاکہ سوشل میڈیا پر حالیہ گستاخانہ پیجز اور بلاگرز کے ذریعے نبی اکرمؐ کی شان اقدس میں توہین آمیز مواد پر حکومتی بے حسی ناقابل فہم اور شرمناک امرہے۔سوشل میڈیا پر توہین آمیز موادمیں ملوث افراد،ان کے سہولت کار،مالی معاونین اور دیگر ذرائع کو بے نقاب کرنا حکومت اورریاستی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے۔ان کی جانب سے راہ فرار اختیار کرنا مجرمانہ طرزعمل ہے۔اسے کسی بھی صورت پاکستان20کروڑ عوام قبول نہیں کریں گے۔آرٹیکل19کے تحت آزادی اظہار رائے کاغلط استعمال ناقابل برداشت ہے۔امت مسلمہ کواتحادویکجہتی کی جتنی ضرورت آج ہے اتنی پہلے کبھی نہ تھی۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس