Jamaat-e-Islami Pakistan | English |


تفصیل


 

سالانہ منصوبہ عمل 2016ء

اسلامی پاکستان ....خوشحال پاکستان

مرکزی خیال (وژن) 2018ء:

l         عوام کے دل و دماغ میں اسلامی پاکستان ،خوشحال پاکستان کے تصور اور جذبے کو بیدار کرنا ۔

l         کرپشن فری پاکستان کو عوامی مطالبہ بنانا۔

اجتماعی اہداف:

l         کرپشن سے پاک ،مخلص ، دیانت داراور اہل قیادت کے طور پر جماعت اسلامی کو پیش کرنا۔

l         تعلق باللہ میںاضافہ، معاشرتی رویّوں میں بہتری اور جماعت اسلامی کے حلقہ اثر میں وسعت پیدا کرنا۔

l         ملک بھر میں کارکنان جماعت کی تعداد کا تعین اور 2018ءتک اس تعداد کو دوگنا کرنا۔(سالانہ 33%اضافہ)

l         دعوت ،تنظیم ، تربیت ، خدمت اور سیاسی جدوجہدسمیت تمام دائروں میں دس سالہ طویل المیعاد منصوبہ (وژن2025) کی تیاری۔

                                                                             (وژن 2025کے مسودہ کو اگلے چھ ماہ میں تیار کر لیا جائے گا)

انفرادی اہداف :

۱         نماز با جماعت اور مطالعہ قرآن کاروزانہ اہتمام۔                  ۲        جھوٹ اور غیبت سے اجتناب۔

۳                 والدین کا احترام اور اہل خانہ کی تربیت۔               ۴        کمزوراور ضرورت مند کی امداد ۔

۵        رزقِ حلال کے کلچر کی ترویج ۔                      ۶        ہر کارکن کی طرف سے 100ووٹرز کا اضافہ۔

          مرکز جماعت ہر کارکن تک ان اہداف کو پہنچانے کا میکنزم بنائے گا۔

دعوت :

۱۔        یکم تا 31مارچ 2016ئملک بھر میں” رابطہ عوام مہم“ چلائی جائے گی اس مہم کا محور”کرپشن فری پاکستان“ہو گا۔

                    اس مہم کے ذریعے 100ووٹرز فی کارکن کاہدف بھی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

۲۔       فہم قرآن وسنت کلاسز کے ذریعے اس سال 25لاکھ افراد تک پہنچا جائے گا۔ صوبہ جات کے اہداف اس طرح ہوں گے۔

          پنجاب :10لاکھ      خیبر پختونخوا: 10لاکھ                   سندھ: 5لاکھ                 بلوچستان  50ہزار

۳۔      مرکز و صوبہ جات کی سطح پر شعبہ فہم دین کی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔

۴۔      منتخب اضلا ع میں ماڈل مدارس کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

۵۔       ائمہ مساجدکی تربیت اورتحریکی مقاصد کے لئے مدرسین کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

۶۔       ملک بھر کی مساجد و مدارس کے اعداد و شمار اکٹھے کرکے دعوتی مقاصد کے لئے کار آمد بنایا جائے گا۔

۷۔      اہم زون/ٹارگٹ انتخابی حلقوں میں ہر مقامی جماعت، سال میں کم ازکم ایک فہم قرآن کلاس منعقد کرے گی۔

۸۔      ہرتنظیمی حلقہ میں بتدریج گھر ، مسجد اور مقامی یونین کونسل کو دعوت کے لحاظ سے ترجیح دی جائے گی۔

۹۔       صوبائی حلقوں کی سطح پرنظم خواتین کے تعاون سے ” فیملی پروگرام “کا اہتمام کیا جائے گاجس میںکارکنان جماعت کے علاوہ عام افراد اور ان کے اہل خانہ کومدعو کیا جائے گا۔

۰۱۔      تفہیم القرآن ، ترجمان القرآن ، ایشیا ،بتول اور تحریکی لٹریچر کی وسیع پیمانے پر اشاعت و تقسیم کااہتمام کیاجائے گا۔

نوجوانوں میں کام:

۱۔       معاشرے کے عام نوجوانوں کو ”جماعت اسلامی یوتھ“ کے نام سے منظم کیا جائے گا۔

۲۔       بچوں اور بچیوں کواسلامی جمعیت طلبہ /جمعیت طلبہ عربیہ /اسلامی جمعیت طالبات سے منسلک کرنے کی تحریک دی جائے گی۔

۳۔      مرکز میں قائم ”یوتھ بورڈ“نوجوانوںمیں کام کی رہنمائی ،عمل درآمد اور نگرانی کا فریضہ سرانجام دے گا۔

۴۔      تنظیمی سطح پر 2016ءکو نوجوانوں کے سال کے طور پر منظم کیاجائے گا۔ اس سال 10لاکھ نئے نوجوانوں کو تحریک اسلامی سے جوڑنے کی کوشش کی جائے گی۔

۵۔       لاہور،راولپنڈی،گوجرانوالہ،فیصل آباد،ملتان،پشاور،ایبٹ آباد،کوئٹہ،کراچی،حیدرآباد میں ”یوتھ کنونشنز“ منعقد ہوں گے۔ جن میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کو شریک کروایاجائے گا۔(صوبہ جات اضلاع کو ہدف دیں گے)۔

۶۔       اگست2016ءمیں کراچی تا پشاور”جیوے پاکستان کاروان“کا اہتمام کیا جائے گا۔

۷۔      نوجوانوں کے بین الاقوامی دن(۲۱۔اگست ) پر مرکز کی سطح پر نمائندہ یوتھ کنونشن منعقد ہوگا، امیرجماعت یوتھ پالیسی کا اعلان کریں گے۔

۸۔      میڈیا میں یوتھ سرگرمیوں کی تشہیر کاخصوصی اہتمام کیا جائے گا۔

۹۔       کھیل اور ثقافتی        دائروں میں نوجوانوں کے لیے مثبت تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دیاجائے گا۔

خواتین میں کام:

۱۔       خواتین نظم سے رابطہ ، معاونت کے لیے ہر سطح پر مردانہ ذمہ داران کا تقررکیاجائے گااور ہر ضلع /تحصیل میں خواتین کی تنظیم اور نظم قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

۲۔       خواتین کے کام میں پیش رفت کے لیے اضلاع کو ہدف دیاجائے گا ۔( تفصیلات حلقہ خواتین طے کرے )

۳۔      بڑے شہروں میں خواتین اور بچیوں کی رہنمائی (Councelling) کے لیے مراکز کا آغاز کیاجائے گا۔

۴۔      نوجوان لڑکیوں (یوتھ )میں کام کے لئے حلقہ خواتین خصوصی پلاننگ کرے گا۔

۵۔       یوم خواتین (۸ مارچ اور یوم حجاب ،۴ ستمبر)منایا جائے گا۔

استحکام تنظیم:

۔         خواتین اور نوجوانوں میں کام آگے بڑھانے کے لیے رہنمائی ،عمل درآمد اور جائزے کامستقل نظام وضع کیاجائے گا۔ ۔

۔        بہتر تقسیم کار اور متحرک ٹیم کے ذریعے اہداف کے حصول کو یقینی بنایاجائے گا نیز متبادل قیادت کی تیاری کااہتمام کیاجائے گا۔

۔        ٹارگٹ حلقہ جات میں پولنگ اسٹیشن کی سطح تک تنظیم کاقیام یقینی بنایاجائے گا۔

۔        ہر سطح پر جماعتی سرگرمیوں اور ان کے نتائج کاطے شدہ اہداف کی روشنی میں جائزہ لیا جائے گا۔

۔        ارکان کی تربیت ، باہمی تعلقات کے فروغ ، تنظیمی مسائل کی بر وقت اصلاح اور جوابدہی کے تصور کو فروغ دیا جائے گا۔

۔        صوبہ جات اپنی ترجیحات اور وسائل کی روشنی میں اجتماعات عام /اجتماعات ارکان منعقد کریں گے۔

۔        منصوبہ عمل 2016ءپر عمل درآمد کے لیے مرکزی شوریٰ سے منظور شدہ” تنظیمی اصلاحات “کے ڈاکومنٹ سے رہنمائی لی جاتی رہے گی۔

تربیت وتزکیہ :

۔        داعیانہ تڑپ ذاتی زندگی،عبادات ، اخلاق و کردار،معاملات اوررجحانات کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے جس کے لیے ارکان و کارکنان سے انفرادی ملاقاتیں ،ہفتہ وار /ماہانہ رپورٹس ،یونین کونسل /زون کی سطح پر مستقل تربیتی پروگرامز کااہتمام کیاجائے گا۔

۔        مرکزی و صوبائی شوراوں کے ارکان اور ذمہ داران کی صلاحیتوں میں اضافہ کے لیے تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے گا۔

۔         تربیتی نظام میں موضوعاتی تربیت اور شعبہ جاتی تربیت کا اضافہ کیاجائے گا۔تربیتی نظام کی اثرپذیری جانچنے کانظام بنایاجائے گا۔

۔        قیادت کی تربیت کے لیے مرکز میں مستقل تربیتی ادارے کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔

۔        مرکزی تربیت گاہ کو مقاصد اور موضوعات کے اعتبار سے مزید موثر بنایاجائے گا۔

معاشرے کی اصلاح اور ترقی :

۔         معاشرے میں اچھائی کے فروغ ، منکرات کے انسداداور کرپشن فری معاشرے کے قیام کے لیے یکم تا 10مئی ملک گیر”اصلاح معاشرہ مہم“چلائی جائے گی۔جس میں سودکی حرمت کو فوکس کیا جائے گا۔

۔        سود اور سودی نظام کے اخلاقی، معاشرتی اوراقتصادی مفاسد نمایاں کرنے اور اس غرض سے عوام میں مزاحمتی شعور بیدار کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

۔        رزق حلال ، سچائی ، عہد کی پابندی ،سادگی ،دیانتداری ،ساتر لباس، قومی زبان اور اپنی اصلاح آپ کے تصور کو اجاگر کیاجائے گا۔

۔        بے حیائی اور فحاشی کی روک تھام اور اس ضمن میں میڈیا کے منفی استعمال کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔

قومی اُمور /سیاسی اُمور/انتخابات :

٭۔     ”100ووٹرز فی کارکن“ کے ہدف کے حصول کو یقینی بنایاجائے گا،ان شاءاللہ۔

٭۔     ”اسلامی پاکستان....خوشحال پاکستان“ کے فلاحی پروگرام کو عوام تک پہنچانے کے لیے تقریر ، تحریر اور میڈیا کابھرپور استعمال کیاجائے گا۔

٭۔     مرکزی ،صوبائی ،ضلعی اور انتخابی حلقہ جات کی سطح پر ”الیکشن فنڈ“ کا قیام عمل میں لایا جائے گا۔

٭۔     مرکز ، صوبہ اوراضلاع کی سطح پر ”شعبہ انتخابات“ کو جدیدخطوط پر منظم کیاجائے گا۔

٭۔      قومی و صوبائی حلقوں کا جائزہ لے کر ایک مناسب تعداد کو ہدف بنایا جائے گا۔ان حلقہ جات کو دعوتی، تنظیمی، فلاحی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنایا جائے گا، اور اس کے ماہانہ جائزے کا مربوط نظام تشکیل دیا جائے گا۔

٭۔     جماعت اسلامی کے گروپ لیڈرز اور نمائندگان کے سامنے مستقل ایجنڈے کے طور پر درج ذیل اُمور پیش نظر رہنے چاہئیں ۔

          (i)۔نوجوانوں کے مسائل ،ظلم ،کرپشن اور شہریوں کے استحصال کے خلاف موثر جدوجہد ۔

          (ii)۔انتخابی حلقے کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے مقامی مسائل کو نمایاں کرنا ۔

          (iii)۔تھانہ ، یونین کونسل اور تحصیل (زون )کی سطح پر عوام کی خدمت کے لیے اہل افراد کی تقرری اور مستقل موجودگی ۔

٭۔     شعبہ سیاسی اُمور /انتخابات اُمیدواروں کے چناﺅاور ا ن کی تربیت کے لیے مستقل پروگرام وضع کرے گا۔

٭۔     ٹارگٹ انتخابی حلقوں میں عوامی سوچ اور جماعت اسلامی کی سیاسی پذیرائی کو جاننے کے لیے درج ذیل شہروں میں رائے عامہ کے جائزوں (Surveys) کا اہتمام کیا جائے گا۔کراچی،لاہور،راولپنڈی ،اسلام آباد،پشاور،فیصل آباد،ملتان،کوئٹہ۔

٭۔     عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ٹارگٹ انتخابی حلقہ میں ”پبلک سیکرٹریٹ /عوامی مرکز“کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔

٭۔     جماعت اسلامی اپنی دعوتی ،رفاہی اور سماجی سرگرمیوں کو اس طرح ترتیب دے کہ اس کے نمائندے /گروپ لیڈر حقیقی حلقہ جاتی اور مقامی لیڈرشپ کے طور پر نمایاں ہوں۔ گروپ لیڈرز کی نامزدگی میں بھی ان امور کو پیش نظر رکھا جائے گا۔

٭۔     نئے ووٹوں کے اندراج، انتخابی فہرستوں کی درستگی اور پولنگ اسٹیشن کی سطح پر تنظیم کو مستقل ہدف رکھاجائے گا۔

مینارٹیز:

۔        ”اقلیتی ونگ “ کے لیے مرکز ، صوبوں اور اضلاع کی سطح پر نگران شعبہ کا تقرر کیاجائے گا۔

۔        اقلیتی برادری کو جماعت اسلامی کے قریب لانے کے لیے بڑے شہروں اور مخصوص حلقوں میں خصوصی اقدامات کیے جائیں گے۔

۔        اقلیتی برادری کو جماعت اسلامی کاووٹر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔

۔        اقلیتی برادری کی آبادیوں میں فلاحی کام کیے جائیں گے۔

۔        اقلیتی برادری کے بااثر افراد کے ساتھ خصوصاً قریبی تعلقات قائم کیے جائیں گے۔

میڈیا:

۔        تنظیم کی ہر سطح پر ناظمین نشرواشاعت کا تقرر اور اس کی معاونت کے لیے موثر کمیٹی کی تشکیل ۔

۔        سوشل میڈیا کا ذوق رکھنے والے نوجوانوں کی تلاش اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ ۔

۔        شعبہ کی ضرورت کے مطابق تکنیکی آلات اور خصوصی بجٹ کی فراہمی۔

۔        اخبارات اور ٹی وی چینلزسے بھرپور روابط اور جماعت کی سرگرمیوں کی کوریج بڑھانے کے لیے مستقل کوشش۔

۔        میڈیا پر نمائندگی اور ٹاک شوز میں شرکت کے لئے ٹیم میں اضافہ ،تیاری اور مانیٹرنگ کا اہتمام ۔

خدمت خلق :

۔        عوامی بہبودکے منصوبوں کو پھیلانے کی بجائے نمایاں اور معیاری ماڈلز ترتیب دیئے جائیں جن میں ٹارگٹ انتخابی حلقوں پر فوکس کیاجائے گا۔

          الخدمت کے ذمہ داران رفاہی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے بھی اپنے دعوتی مقام کا ادراک رکھیں تاکہ یہ سارا کام تعلق باللہ ، انسانیت سے محبت اور ان کی اصلاح کی طلب کاعنوان بن جائے۔ جماعت اسلامی اور الخدمت فاﺅنڈیشن کے ذمہ داران مشترکہ وژن ،بہتر مشاورت اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ ان سرگرمیوں کو ڈیزائن کریں۔

برادرتنظیمات /شعبہ جات:

۔        تمام برادرتنظیمات ، شعبہ جات اور ادارے،جماعت اسلامی کے سالانہ منصوبہ کو اس طرح اپنی سرگرمیوں اور اہداف میں شامل کریں کہ مجموعی طور پر نتائج جماعت اسلامی کے 2016ءکے اہداف سے ہم آہنگ ہوسکیںاور تحریک کی قوت میں اضافہ کاباعث بن سکے ۔

۔         مزدوروں ، کسانوںاورماہی گیروں میں دعوت کو توسیع دینے اور منظم کرنے کے لیے عوامی نوعیت کی سرگرمیاں ترتیب دی جائیں گی۔

۔         برادر تنظیمات کے تیار کردہ افراد کو جماعت اسلامی میں سمونے اور متحرک کرنے کا منظم اہتمام کیا جائے گا۔

۔        برادر تنظیمات کے ساتھ مرکزی اور صوبائی سطح پر سالانہ 2 جبکہ اضلاع میں 3اجلاس ہوں گے۔

مرکز جماعت :

۱۔       معاشرے کے بدلتے رجحانات کی تفہیم ،جائزے اور سفارشات مرتب کرنے کے لیے مرکز جماعت میں شعبہ تجزیہ و تحقیق قائم کیاجائے گا۔

۲۔       قائمہ و دیگر کمیٹیوں کی ورکنگ کو بہتر کرتے ہوئے نتیجہ خیز کام کی کوشش کی جائے گی۔

۳۔      مرکز جماعت کے شعبہ جات اور اداروں کی کارکردگی کو وژن، واضح اہداف اور سالانہ پلاننگ کے ذریعے بہتر بنایا جائے گا۔

۴۔      مرکزی نظم جماعت ٹارگٹ حلقہ جات اور اضلاع کے مربوط دورے کا اہتمام کرے گا۔

۵۔        مرکز میں” خوشحال پاکستان فنڈ “کے حوالے سے منظم اور مربوط سرگرمیوں کا اہتمام کیا جائے گا۔

۶۔        مختلف شعبہ جات میں محترم امیر جماعت کے مشیر/ جماعت اسلامی کے ترجمان( Spokesperson )کا تقرر کیا جائے گا۔

۷۔       بیرون ملک پاکستانیوں میں دعوتی کام کو وسیع اور مستحکم کیا جائے گا۔

۸۔      مرکز جماعت اور صوبائی دفاتر ویڈیو کانفرنسز کے لیے آلات کی تنصیب کا اہتمام کریں گے۔

تعلیمی اداروں میں کام :

۔        تحریکی اداروں میں اساتذہ کرام کی نظریاتی تربیت کے ذریعے انہیں تحریک کی فکر سے قریب کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔

۔        جماعتی نظم کے تحت چلنے والے اداروں کو افراد سازی اور عمومی ماحول پر اثرات مرتب کرنے کے اہداف دیے جائیں گے۔

۔        نظام تعلیم کی اصلاح اور اسے نظریہ پاکستان پر استوار کرنے کے لیے اقدامات طے کیے جائیں گے۔

قومی و ملی ایام:

          مندرجہ ذیل ایام کو قومی سطح پر منایاجائے گا۔

(1) عشرہ سیرت النبی     یکم تا 12ربیع الاول 1437ھ       (2)۔یوم یکجہتی کشمیر                     ۵ فروری

(3)۔    یوم خواتین                8مارچ                              (4)۔یوم آزادی                        14۔اگست

(5)۔یوم حجاب               4ستمبر                                 (6)۔ یوم تاسیس                        26اگست

(7)۔یوم باب الاسلام          10رمضان المبارک                    (8)۔یوم اقبالؒ                          ۹ نومبر

(9)۔یوم سقوط ڈھاکہ          16دسمبر                              

 

۔        درج بالا ایام (7تا9)صوبوں کے تحت اس طرح منائے جائیں کہ ضلع میں پروگراموں کے ساتھ ساتھ صوبائی اور ڈویژنل صدر مقامات پر اس دن کے حوالے سے کم ازکم ایک نمایاں سرگرمی ضرور منعقد ہو۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس