Jamaat-e-Islami Pakistan | English |


تفصیل


بِسْمِ اللہ الرحمن الرحیم

وَمَنْ اَحسَنُ قَوْلًا مِمَّنْ دَعَا اِلٰی اللہ وَعَمل صَالِحًا وَقَالَ اِنَّنِی مِنَ الْمُسلِمیْنَ (حم السجدۃ:33)
”اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بلایا اور نیک عمل کیا اور کہاکہ میں مسلمان ہوں۔“
یٰٓاَیُّہَا المُدَّثِّرقُم فَاَنذِر وَرَبَّکَ فَکَبِّر وَثِیَابَکَ فَطَہِّر وَالرُّجزَ فَاہجُر وَلاَ تَمنُن تَستَکثِرُ وَلِرَبِّکَ فَاصبِر(سورة المدثر:۱تا۷)

”اے اوڑھ لپیٹ کر لیٹنے والے ،اُٹھو اور خبردار کرو ، اور اپنے رب کی بڑائی کااعلان کرو، اور اپنے کپڑے پاک رکھو، اور گندگی سے دور رہو اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے اوراپنے رب کی خاطر صبر کرو۔“


ہدف 2014ء:
تنظیم کے استحکام ، فعالیت ،رابطہ عوام اور تربیت کا سال ۔
تنظیم :
l جماعت اسلامی کے ہمہ پہلو کاموں میں اس کی تنظیم سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ دعوت وتربیت، خدمت و سیاست کے تمام تر اہداف تنظیم کی وساطت سے ہدف تک پہنچتے ہیں گویا مضبوط اور موثر تنظیم پر ہی ہماری کامیابی کا انحصارہے۔ مو ¿ثر تنظیم اُسی اجتماعیت کو کہیں گے جہاں ”تحریک سے وابستہ ہر فرد مقصد کے حصول کے لیے از خود درست طریقے سے کام کرنے کی استعداد رکھتاہو۔ وہ کسی خارجی دباﺅ ، بالائی ہدایت اور احتساب کا منتظر نہ ہو ۔“ مقاصد سے ہم آہنگی اوریکسوئی ، باہمی محبت ،اعتماد ،ٹیم ورک ، مستقل مشاورت ،مضبوط فیصلے، سمع و طاعت ،پیہم جدوجہد اور انفاق فی سبیل اللہ ایسے اُمور ہیں جن پر مو ¿ثر تنظیم کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ اللہ کی رضا، جنت کے حصول اور اقامت دین کی خاطر یک رنگ اور یک جان ہوئے بغیر نہ تو دعوتی مقاصد حاصل کیے جاسکتے ہیںنہ ہی سیاست کا معرکہ جیتا جاسکتاہے۔ سال ۴۱۰۲ءکے وژن میں ہم نے ”تنظیم کے استحکام “کو اولیّت دی ہے۔ نظم جماعت کی ہر صف میں کارکنان کی اہمیت ، احساس شراکت ،ان کی اچھائیوں اور بھلائیوں کااعتراف کرتے ہوئے صلاحیتوں اور مزاج کے مطابق ان سے اقامت دین کے مختلف محاذوں پر کام لینا ....یہ وہ بنیادی کام ہیں،جن پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس حوالے سے درج ذیل امور کو2014ءمیں مدنظر رکھاجائے گا۔
۱۔ ووٹرز ،کارکنان اور ارکان جماعت میں بھرپور اضافہ ،اُن کی صف بندی، تربیت کامربوط نظام اور شرکت کا احساس ۔
۲۔ باہمی تعلقات کا فروغ ،غیر فعال افراد کا تحرک اور تنظیمی مسائل کا موثرحل
۳۔ ہر سطح پر خواتین اور نوجوانوں میں کام کو وسیع اور منظم کرنے کے لیے نگرانی اور رابطہ کانظام اور اس کامسلسل جائزہ ۔
۴۔ نئے حلقہ جات ( یونین کونسلز /وارڈز)میں توسیع و استحکام ۔
۵۔ ٹیم ورک کے کلچر کو فروغ دینااور ہر سطح پر قیادت کی تیاری کے لیے اقدامات ۔
۶۔ پولنگ اسٹیشن کی سطح پر رابطہ/خدمت کمیٹیوں کا قیام، عہدیداران کاتقر ر ،دفاتر کا اہتمام ۔
۷۔ مقامی جماعتیں اپناسالانہ منصوبہ بنائیں (کیفیت اورکمیت دونوں کو پیش نظر رکھا جائے )۔
۸۔ جماعت کی مجموعی افرادی قوت میں 20فیصد اضافہ کیاجائے۔
۹۔ ہر یونین کونسل کی سطح پر جماعت کی تنظیم قائم کی جائے۔
دعوت :
l جماعت اسلامی اول وآخر دعوتی جماعت ہے انسان سازی سے لے کر سیاسی تبدیلی تک کا انحصار دعوتی عمل کے بہتر فروغ پر منحصر ہے۔ دعوت کی تمام تر اہمیت کے باوجود ابھی بھی انفرادی و تنظیمی طور پر دعوت کے ابلاغ کے لیے گہرے سوچ بچاراور عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ تنظیم جماعت میں ہر سطح پر یہ بات باور کروانے کی ضرورت ہے کہ دعوتی لگن اورداعیانہ اسلوب کے بغیر معاشرے میں نفوذ کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ اس کام کو قیادت اور کارکن کی سطح پرپہلی ترجیح ہونا چاہیے۔ صوبہ جات اضلاع میں اس کو مانیٹر کرنے کانظام وضع کریں ۔اس سلسلہ میں سالِ رواں کے دوران درج ذیل کام کیے جائیں گے۔
i توسیع دعوت کا آغاز ہر کارکن اپنے گھراورخاندان سے کرے ۔
ii۔ دعوتی لٹریچر کی دستیابی ، تفہیم اور مطالعہ کے کلچر کا فروغ ۔
iii۔ گلی ، محلہ اور گھروں میں دعوت کے لیے انتخابی فہرستوں کو بنیاد بنایا جائے گا۔
iv۔ ہر رکن/کارکن کو دعوتی حلقہ الاٹ کیا جائے ۔
v۔ ہر تنظیمی پروگرام میں ارکان وکارکنان کی دعوتی سرگرمیوں کا جائزہ اور قابل عمل اقدامات ۔
vi۔ صوبہ جات کے تحت ارکان جماعت کی دعوتی تربیت کے لیے خصوصی ورکشاپس کا اہتمام ۔
vii۔ ہر یونین کونسل /مقامی جماعت کے تحت 5روزہ فہم قرآن کلاس کا اہتمام۔
viii ماہ اپریل میں مہنگائی ،بے روزگاری اور دیگر عوامی ایشوز پر مہم چلائی جائے گی۔
ix۔ عالمی ترجمان القرآن ، ایشیا ،بتول کی اشاعت بڑھانے کی خصوصی کوششیں۔
x۔اکتوبر /نومبر2014ءمیں کل پاکستان اجتماع عام کا انعقاد ۔
xi۔ اجتماع عام سے قبل ملک گیر دعوتی مہم /ممبر سازی کے ذریعے زیادہ سے زیادہ افراد اور گھروں تک رابطہ ۔اسلامی نظام کو تمام مسائل کے حل کے طور پر بحیثیت نظام زندگی پیش کرنا۔
بلدیاتی انتخابات :
l جماعت اسلامی کے پیش نظر نظام اور معاشرے کی تبدیلی کے دستیا ب ذرائع میں انتخابات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستانی معاشرہ،ہم عصر مسلمان ممالک سے اس لحاظ سے منفرد ہے کہ یہاں بہت حد تک اظہار رائے ،اجتماع ،جماعت سازی اور رابطہ عوام کے راستے موجود اور کشادہ ہیں۔ بلاشبہ متعدد داخلی اور خارجی اسباب کی بناءپر تبدیلی قیادت کے یہ تجربات مکمل جمہوری اور اسلامی انقلاب میں ظاہر نہیں ہوسکے ۔تاہم ان ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے ایک اسلامی فلاحی معاشرے کی طرف جدوجہد کو آگے بڑھانے پر ہمیں پوری یکسوئی ہونی چاہیے۔ انتخابات ۳۱۰۲ءکے جائزے میں سب سے مثبت بات یہ سامنے آئی کہ اپنے نام اور نشان سے قومی انتخابات لڑنے پر کارکنان میں مکمل یکسوئی پائی گئی ہے ہمیں کم سے کم مشترکہ نکات پر بعض مقامی گروپوں اور ہم خیال افراد کے ساتھ ملنے اور دوسروں کو اپنے ساتھ ملانے میں کبھی بخل سے کام نہیں لینا چاہیے تاکہ معاشرے کی اصلاح اور تبدیلی کے سفر میں بتدریج اپنی قوت کو مستحکم کیا جاتارہے اور تحریک اسلامی ایک عوامی قوت کی صورت میں لوگوں کی آرزوﺅں اور اُمنگوں کی ترجمانی کرسکے۔ سال ۴۱۰۲ءبلدیاتی انتخابات کا سال ہے۔ اس سال درج ذیل کاموں کو اہمیت اور اہتمام سے کرنے کی ضرورت ہے۔
l زمینی حقائق کی بنیاد پراپنی قوت کاٹھیک اندازہ ،ہم خیال افراداورجماعتوں سے مفاہمت ایڈجسٹمنٹ کے ذریعہ کامیابی کو یقینی بنانے کی کوشش۔
l بلدیاتی انتخابات میں ان حلقوں کو ترجیح دی جائے جو قومی و صوبائی انتخابات کے لیے ہماری ترجیح ہیں۔
l موثر افراد کو مقامی سطح پرتنظیم میں سمویا جاسکتاہے۔ ان انتخابات میں یہ تجربہ کیاجاسکتاہے۔
l نوجوانوں اور خواتین کی معاشرے میں بڑھتی ہوئی تعداد اور اہمیت کے پیش نظران انتخابات میں ان کی شرکت اور نمائندگی کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
تربیت :
l کسی بھی اجتماعیت کے لیے انسانوں کی اہمیت کسی دلیل کی محتاج نہیں ۔ہماری دعوت کا مخاطب ہر انسان ہے۔کسی بھی معاشرے اور تنظیم کے لیے اصل وسیلہ یہی انسان ہیں۔ مال، جگہ، وسائل کی تلافی ہوسکتی ہے مگر انسان کا متبادل کوئی نہیں نہ ہی اس خلا کو کوئی پُر کرسکتاہے۔ ایک باشعور اجتماعیت اپنے فرض سے اُسی وقت سبکدوش ہوسکتی ہے جبکہ وہ تمام انسانوں کی شمولیت، قیام اور ان کی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے متفکر ہو۔ گوناگوں داخلی اور خارجی چیلنجز کے باوجود جماعت اسلامی پاکستان کی سب سے مضبوط کڑی اس سے منسلک افرادی قوت ہے مگر بیک وقت یہ ہر نظم کے لیے جوابدہی اور آزمائش بھی ہے کہ انسانوں کی اتنی بڑی تعداد کو ہم اصلاح نفس ، تعمیرِ ملت اور تبدیلی قیادت کے لیے کس طور استعمال کررہے ہیں؟ چند مخصوص تربیتی سرگرمیوں کو کردینے سے کبھی بھی جامع تربیت کا فریضہ ادا نہیں ہوسکتا۔دین کے مکمل اور جامع تصور سے شروع ہو کر بہترین صلاحیتوں کو اللہ کی راہ میں لگانے کے عمل تک ہر کام تربیت کا عمل قرار دیا جائے گا۔متفرق اور منفرد انسانوں کو اسی نوعیت کی تربیت کی ضرور ت ہوگی۔ الحمدللہ جماعت اسلامی کی تنظیم میں ہر مزاج اور مہارت رکھنے والے فرد کو سمونے کی گنجائش موجود ہے ۔ سال رواں کے دوران کوشش کی جائے گی کہ معروف اور روایتی تربیت کے ذرائع کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ کچھ نئے اور متنوع تجربات بھی کیے جائیں ۔ لہٰذا درج ذیل امور کااہتمام کیا جائے گا۔
l ارکان کی تربیت گاہیں جن میں مطالعہ دستور ، تنظیمی اصطلاحات کا شعور،تصوّرِ دین اور معاشرے کی تفہیم کو فوکس کیاجائے گا۔
l تربیت گاہوں کے نصاب اور تفصیل مرکزی تربیتی کمیٹی طے کرے گی ۔
l صوبوں کے تحت مالیات، میڈیا ،شعبہ تربیت ،تعلقات عامہ اوراہتمام دفتر کے ذمہ داران کی تربیت گاہیں منعقد کی جائیں گی۔
l مقامی جماعتوں کے امراءکی تربیت کے لیے اضلاع نظام بنائیں گے۔
l ضلعی اورزونل سطح پر ارکان و کارکنان کے انفرادی معاملات کو رپورٹ کی صورت میں مرتب اور مانیٹر کرنے کا اہتمام کیا جائے گا۔
l مطالعہ کے کلچرکو فروغ دینے کے لیے ترغیب اور اقدامات دونوں کااہتمام کیاجائے گا۔
l سیاسی تربیت کو عمومی تربیت گاہوں کا حصہ بنایا جائے جبکہ صوبہ جات سیاسی اُمور پر علیحدہ سے بھی تربیت گاہوں کا اہتمام کریں ۔
l مرکزی تربیت گاہ میں ہر مقام سے کارکنان کو شریک کرنے کا اہتمام کرنا۔
فہم قرآن و سنت :
۱۔ گذشتہ سالوں میں شروع کیا جانے والافہم قرآن و سنت پروگرام ، جماعت کا ایک اچھا تجربہ ہے ۔ اس حوالہ سے ہونے والے پروگراموں میں بڑے پیمانے پر مردوزن شریک ہوتے ہیں۔ جس سے معاشرے میں دینی رجحان پیدا ہو رہاہے۔ اس پروگرام کو مزید کامیاب و بہتر بنانے کی جانب توجہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ فہم قرآن وسنت پروگرام کے ذریعے عامة الناس میں اقامت دین کا عام فہم تصور پیدا کیاجائے اوررائے عامہ کی تبدیلی اور انتخابات کے ذریعے صالح قیادت کی اہمیت بھی اُجاگر کی جائے۔
۲۔ قرآن کی تعلیم اور درس و تدریس کے زیادہ سے زیادہ حلقے قائم کیے جائیں۔
۳۔ فہم قرآن و سنت کلاس کے شرکاءکو تنظیم جماعت کا حصہ بنانے کی کوشش کی جائے۔
۴۔ 30لاکھ مرد و خواتین کو شریک کرانے کی کوشش کی جائے ۔ صوبوں کے لیے اہداف یہ ہوںگے ۔ صوبہ جات اس ہدف کو اضلاع میں تقسیم کریں گے۔
صوبہ بلوچستان: ایک لاکھ صوبہ سندھ :5لاکھ صوبہ خیبر پختونخوا :10لاکھ صوبہ پنجاب :14لاکھ
خواتین میں کام :
ہمیں یہ حقیقت تسلیم کرنی چاہیے کہ آبادی کا لگ بھگ نصف ہونے کے باوجود تنظیمی دائرے میں ان کی شرکت بہت محدود ہے ۔ مختلف سماجی، معاشی اور ابلاغی تناظر میں خواتین کا کردار گھر کے ساتھ ساتھ معاشرے میں بڑھتاجارہاہے ۔ دعوتی اور سیاسی اہداف کے حصول کے لیے اس سارے کام کو مردانہ نظم اور خواتین نظم کے باہم کوآرڈنیشن کے ذریعے بہتر کرنے کی کوشش کی جائے۔ نظم جماعت اس کی مکمل ذمہ داری اٹھائے اور اہل خانہ میں موجود خواتین سے لے کر عام خواتین کو تحریک کے دائرے میں لانے کے لیے مربوط حکمت عملی بنائی جانی چاہیے ۔
l خواتین میں کام کے اہداف کو مردانہ نظم کی باہمی مشاورت سے طے کیاجائے گا۔
l خواتین نظم اور مردانہ نظم کے مابین بہتر رابطہ ،سہولت اور ابلاغ کے لیے ذمہ دارکے تعین اور مستقل رابطہ کانظام وضع کیاجائے گا۔
l صوبہ جات کچھ بڑے اور اہم شہروں کو اس کام کے لیے سال رواں میں ٹارگٹ کریں گے۔
الخدمت :
مرکزجماعت کے رہنما خطوط کے ساتھ الخدمت فاﺅنڈیشن ایک وژن کے مطابق آگے بڑھ رہی ہے ۔ الخدمت فاﺅنڈیشن نے گذشتہ چند سالوں میں خدمت کے دائرے کو غیر معمولی وسعت دی ہے ۔ جس کا اعتراف ملک کے اندر اور باہر ہر جگہ کیاجارہاہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ الخدمت فاﺅنڈیشن کے اس کام کو جماعت اسلامی کی دعوت اور سیاست کے ساتھ مربوط کیاجائے۔ الخدمت کے ذمہ داران اپنی ہر سرگرمی میں دعوتی شعور کو فوکس کریں اس لیے کہ خدمت کا وہی کام دیرپا اور دُور رس ہوگا جس میں تعلق باللہ ،انسانیت سے محبت اور اُن کی اصلاح کی تڑپ پائی جائے ۔اسی طرح جماعت اسلامی کے ذمہ داران کو بھی حکمت کے ساتھ اس سارے رفاہی وسماجی کام کو اپنی سیاسی حکمت عملی اور عوامی لیڈرشپ کی پشت پر لانا چاہیے۔ اور یہ سارے کام مستقل وژن ، افہام وتفہیم اور اچھی مشاورت کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہوگی ۔
l الخدمت کے کام کاوژن ،حکمت عملی اور سکوپ کاادراک اور سالانہ اہداف ۔
l تنظیم جماعت کی ہر سطح پر باقاعدگی کے ساتھ الخدمت فاﺅنڈیشن سے رابطہ رکھنے والی کمیٹی کا اجلاس۔
l ٹارگٹ انتخابی حلقوں( مقامی حکومت ، صوبائی /قومی )میں رفاہی کاموں پر فوکس ۔
l مقامی و ضلعی سطح پر ایک فرد کا تقرر جو الخدمت کی سرگرمیوں کو دعوت اور تنظیم سے جوڑنے کا ذمہ دار ہو۔
برادرتنظیمات اور ادارے:
ہم عصر سیاسی اور دعوتی جماعتوں میں تحریک اسلامی کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ زندگی کے لگ بھگ سبھی دائروں میںاس کی فعال تنظیمات اور ادارے موجود ہیں۔ اگر محض سرگرمیوں کے انعقاد اور تنظیمی بقاءکے بجائے افراد سازی اور قائدانہ کردار کو متعلقہ دائرے میں ملحوظ خاطر رکھاجائے تویہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میںتحریک کی دعوت کے نفوذ کاایک اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ جماعت اسلامی اور ان تنظیمات کے مابین رسمی اور غیر رسمی روابط موجود ہیں مگر ان کو بامعنی اور نتیجہ خیز بنانے کی ضرورت ہے۔زون سے مرکز تک ہمارے یہ اہم ادارے اور تنظیمات درج ذیل پیمانوں پر اپنی کارکردگی کو جانچ سکتے ہیں۔
l مخصوص فیلڈ میں ان کے کام کا تناسب ،ایشو ز پر ترجمانی ۔
l متعلقہ دائرہ اور شعبہ کے حوالے سے جماعت اسلامی کو معلومات کی فراہمی اور فیڈبیک۔
l افرادی قوت ،وسائل اور پیشہ وارانہ خدمات کی تحریکِ اسلامی کو فراہمی
l متعلقہ دائرے میں قومی وژن ،حکمت عملی بنانے میں جماعت اسلامی کی معاونت اور مشاورت ۔
l مذکورہ بالا مقاصد کے حصول کے لیے مرکز ، صوبہ اور ضلع /حلقہ کی سطح پر جماعت اور ان تنظیمات کے مابین مشترکہ تبادلہ خیال کے فورم کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
l جماعت اسلامی کے منصوبہ عمل کے ساتھ اپنے منصوبے کو ہم آہنگ بنا کر بہتر نتیجہ کے حصول کی کوشش کرنا۔
نوجوانوں میں کام :
پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کاتناسب 60فیصدسے زائد ہے۔ معلومات تک رسائی ، انتخابات میں فعال شمولیت اور مستقبل کے حوالے سے پُر امیدی نے معاشرے میں ان کی اہمیت کو اور بڑھا دیاہے۔ معاشرے کی صورت گری میں نوجوانوں کی قوت کو اہمیت اور وزن دیے بغیر ہم اپنے مقاصد کو حاصل نہیں کرسکتے، اس لیےتنظیم جماعت کی ہر سطح پر معاشرے کے عام نوجوانوں کو مخاطب کرنے اور انہیں جماعت میں شامل کرنے کے لیے خصوصی کوششیں کرناہوںگی ۔
l جماعت کے دائرے میں موجود نوجوانوں کی تنظیموں سے خصوصی رابطہ اور ان سے فارغ ہونے والوں کو تنظیم میں بر وقت شامل کرنے کا اہتمام ۔
l جماعت کی تنظیم کے تحت بھی نوجوانوں کے لیے خصوصی سرگرمیوں کا اہتمام ۔
l بے روزگاری کے حوالے سے نوجوانوں کو منظم کرنااور ان کی رہنمائی کرنا۔
شعبہ جات :
٭ اہداف کے حصول اور بہتر تقسیم کار کے لیے تنظیم کی ہر سطح پر شعبہ جات کا قیام تنظیم جماعت کی طے شدہ اور متعین حکمت عملی ہے۔ ہر مقام پران شعبہ جات میں نہ صرف اہل اور موزوںافراد کاتعین کیاجاتاہے بلکہ ممکنہ حد تک وسائل بھی فراہم کئے جاتے ہیں ۔ وقت گزرنے کے ساتھ زندگی کے سبھی دائروں میں حسن و کمال دین کاتقاضا ہے اور انتظامی ضرورت بھی ۔ مگر دیکھاگیا ہے کہ یہ ساراکام ایک ہی طرز پر کیاجارہاہے ۔ شعبہ کا وژن ،تخلیقی اپروچ ،جدید سہولیات سے استفادہ وہ اُمور ہیں جن کو آج کی دنیا میں بہت کامیابی کے ساتھ مختلف تحاریک ہائے اسلامی استعمال کررہی ہیں۔ ہمارے ان اہم شعبہ جات میں دفتر، مالیات ،میڈیا ،تربیت ،آئی ٹی /کمپیوٹر ، انتخابات اور تعلقات عامہ شامل ہیں۔ مختلف اضلاع اور شہر اپنی مقامی ضروریات کے تحت کچھ نئے شعبہ جات کااضافہ بھی کرسکتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے ہر شعبہ کی مخصوص ضروریات کے پیش نظر موزوں فردکے انتخاب کے ساتھ ساتھ انہیں مناسب تربیت دیتے رہنے کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر صوبہ جات اور اضلاع اپنے اپنے مقام پر اس کااہتمام کریں گے ۔ اسی طرح ضلعی /علاقائی سطح پر یونین کونسل کے امراء، مقامی حکومت ، انتخابی اُمیدواران ،الخدمت کے رضا کاروں کے لیے بھی مخصوص تربیتی ورکشاپس کا اہتمام کیاجاسکتاہے۔
متفرق اُمور :
l تربیت گاہوں ،کے موضوعات میں توسیع دعوت ،حقوق العباد ،تعلقات و معاملات ، اہل خانہ اور بچوں کی تربیت کوخصوصی موضوع بنایا جائے۔
l خاندان کی اجتماعی تقاریب کو دعوت کے فروغ کے لیے شعوری طور پر استعمال کیاجائے ۔ کارکنان جماعت ان تقاریب میں دینی اور تحریکی کلچر کویقینی بنائیں۔
l تحریک سے وابستہ تعلیمی ادارے اور ان کے منتظمین اسلامی شعائر ،قومی وقار اور تصوردین کو نمایاں بنانے کے لیے عملی پروگرام وضع کریں۔
l برادرتنظیمات اور ادارے اپنی پلاننگ میں جماعت اسلامی کے منصوبہ عمل کو سمونے کالازمی اہتمام کریں ۔
l کارکنان جماعت کو نماز با جماعت ، ذکر و نوافل ،اہل محلہ کے معاملات میں شرکت ، تحریک کے لیے وقت ومال کا ایثار اور اولاد کی تربیت کی طرف مستقل متوجہ رکھنے کی ضرورت ہے۔
مرکز کے تحت ایام ومہمات:
l عشرہ سیرت النبی (ماہ جنوری(
l 5 فروری ........یوم یکجہتی کشمیر
l 8مارچ ............یوم خواتین
l 26اگست ........یوم تاسیس جماعت
l 14اگست............یوم آزادی
l 4ستمبر................یوم حجاب
l 16دسمبر............یوم سقوط ڈھاکہ
٭....٭....٭

 

 

 


 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس