Jamaat-e-Islami Pakistan | English |


تفصیل


انتخابی اُمور :
مرکزی مجلس شوریٰ کے فیصلے کی روشنی میں جماعت اپنے نشان (ترازو) پر الیکشن میں حصہ لے گی ۔ اس لیے انتخابی مہم کو تیز تر کرتے ہوئے اپنے پرچم ، اپنے منشور، اپنے نشان اور اپنی قیادت کو بھرپور طریقے سے استعمال کیاجائے گا۔ علاوہ ازیں تمام محب وطن ، فرض شناس اور دیانتدار افراد کو ایک قومی ایجنڈا پر متفق کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ایسے افراد معاشرے کے تمام ہی طبقات میں موجود ہیں جو اسلام اور ملک کے لیے اپنی قوت اور صلاحیت لگانے کے لیے تیار ہوںگے ۔ ایسے لوگوں کے تعاون سے جماعت اپنا بے لوث کردار مزید اجاگر کرے گی اور سیاسی ہم آہنگی کی فضا بھی بہتر ہوگی۔
انتخابات کی تیاری کے لیے حسب ذیل اقدامات کیے جائیںگے۔ مرکزی نظم ان اُمور کی نگرانی جاری رکھے گا۔
1۔ الیکشن فنڈ قائم کیا جائے گا(تفصیلات نظم جماعت ارسال کرے گا)
2۔ووٹر لسٹ کے مطابق رابطے کیے جائیںگے ۔
3۔ پولنگ ایجنٹس اوردیگر معاون ٹیم کی تربیت کا کام شروع کیا جائے۔
4۔بڑے پیمانے پر پرچم لگانے اور منشور کے اہم نکات کو عام کیا جائے گا۔
5۔ہر سطح کا مردانہ نظم خواتین نظم کو الیکشن کے حوالے سے تمام تر معلومات اور متعین کاموں سے آگاہ کرے گا۔
حلقہ خواتین :
۱۔ سال۳۱۰۲ءمیںانتخابات کے پیش نظر حلقہ خواتین ایک فعال تنظیم کے طور پر کام جاری رکھے گا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی خواتین میں اخلاقی بگاڑ اور بے راہ روی پھیلانے کی منظم کوششیں بھی بڑے پیمانے پر کی جارہی ہیں۔تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کوششوںکے باوجود خواتین کی دینی وابستگی کے لحاظ سے پاکستانی معاشرہ بہت سی خوبیوں کا حامل ہے۔اس مجموعی تناظر میں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ عام خواتین تک وسیع پیمانے پر رسائی حاصل کی جائے۔ گھر گھر رابطہ اور ملاقاتوں کاوسیع تر سلسلہ شروع کیا جائے ۔افرادی قوت میں اضافہ کے لیے دیئے گئے اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کی جا ئے۔یہ حقیقت پیش نظر رکھی جائے کہ بظاہر عام سی نظر آنے والی خواتین دینی اقدار کی حامل بھی ہوتی ہیںاور اسلام سے محبت بھی رکھتی ہیں۔ یہ اوصاف انہیں اپنے ساتھ جوڑنے میںممدومعاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ معاشرے کی ان عام خواتین کو اپنی تنظیم میںزیادہ سے زیادہ سمونے اور ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے ۔
شباب ملی :
جماعت کے ہر سطح کے نظم اور شباب ملی کے ذمہ داران کی ہم آہنگی اور بھرپور رابطے کے نتیجہ میں شباب ملی نے گذشتہ عرصے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیاہے اور اپنے کنونشنوں اور سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں کی ایک اچھی اور متحرک ٹیم بھی تیار کی ہے۔ تاہم آنے والے چیلنجز، بالخصوص انتخابات میں نوجوانوں کو مزید فعال و منظم کرکے کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ پاکستان میں 50فیصد ووٹر زنوجوان ہیں اس تناظر میں شباب ملی کا کردارخصوصاً آنے والے دنوں میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔
فہم قرآن و سنت :
۱۔ گذشتہ سالوں کے دوران میں شروع کیا جانے والافہم قرآن و سنت پروگرام ، جماعت کا ایک اچھا تجربہ ہے ۔ اس حوالہ سے ہونے والے پروگراموں میں بڑے پیمانے پر مردوزن شریک ہوتے ہیں۔ جس سے معاشرے میں دینی رجحان پیدا ہو رہاہے۔ اس پروگرام کو مزید کامیاب و بہتر بنانے کی جانب توجہ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ فہم قرآن وسنت پروگرام کے ذریعے عامة الناس میں اقامت دین کا عام فہم تصور پیدا کیاجائے اوررائے عامہ کی تبدیلی اور انتخابات کے ذریعے صالح قیادت کی اہمیت بھی اُجاگر کی جائے۔
۲۔ قرآن کی تعلیم اور درس و تدریس کے زیادہ سے زیادہ حلقے قائم کیے جائیں۔
۳۔30لاکھ مرد و خواتین کو شریک کرانے کی کوشش کی جائے ۔ صوبوں کے لیے اہداف یہ ہوںگے ۔
صوبہ بلوچستان : ایک لاکھ صوبہ سندھ :5لاکھ صوبہ خیبر پختونخوا :10لاکھ صوبہ پنجاب :14لاکھ
الخدمت :
پاکستان کا سب سے فعال اور قابل اعتماد ادارہ بنانے کے ساتھ ملک بھر میں فلاحی منصوبوں کے ذریعہ لوگوں کو قریب لایا جائے۔الخدمت کے کام کو توسیع دعوت کا ذریعہ بنایا جائے ۔
علماءو مدارس :
مدارس کی سرپرستی کی جائے گی ، علماءوائمہ سے رابطے مستحکم کئے جائیں گے ،دین کا درد رکھنے والے افراد کے ذریعہ نئے مدارس قائم کرنے کی جانب بھی توجہ دی جائے گی۔نئے قائم ہونے والے مدارس کارابطة المدارس الاسلامیہ کے ذمہ داران سے رابطہ قائم کرایا جائے گا۔
تعلیم :
تحریک اور تحریکی احباب کے اداروں میں موجود لاکھوںزیر تعلیم طلباءاور ہزاروں اساتذہ ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں ۔ اساتذہ و طلباءاور ان کے خاندانوں کو دین اور جماعت سے قریب لانا ہمیشہ ہمارے بنیادی اہداف میں شامل رہنا چاہیے ۔ اسلامی نظامت تعلیم اس ہدف کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے روابط اور جائز ے کے کام کومزید موثر بنائے ۔
برادرتنظیمات :
۱۔ محور خاص کی روشنی میں اپنے منصوبے اس طرح تیار کریںگی کہ جماعت اسلامی کے دعوتی و سیاسی مقاصد کے حصول میں بھرپور معاونت حاصل ہو ۔
۲۔ برادرتنظیمات اپنی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے کی کوشش کریں گی ۔
ہر سطح پربرادرتنظیموں کے درمیان مزید موثر کوآرڈی نیشن کے لیے اجلاس منعقد کیے جائیں۔سال میں کم ازکم 2اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔
مالیات:
الیکشن فنڈ جمع کرنے کی خصوصی مہمات شروع کی جائیں۔ مرکزی ، صوبائی اور ضلعی بیت المال کو مستحکم کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ اس لئے مقامی سطح کی اعانتوں میں 20% اضافے کی کوشش کی جائے اور دیہی علاقوں میں عُشر جمع کرنے کی طرف توجہ دی جائے ۔
نشرواشاعت اور میڈیا :
میڈیا میں جماعت کی موجودگی میں اضافہ کیا جائے گا۔ ٹی و ی چینلز میں قائدین کی شرکت کا مربوط نظام بنایا جائے، پروگرامات میں شرکت کرنے والے ذمہ داران کے لیے خصوصی کورسز کا اہتمام کیا جائے۔ میڈیا گروپس کے مالکان اور اہم صحافی حضرات پر خصوصی توجہ دی جائے۔سوشل میڈیا کے استعمال میں مزید اضافہ کیا جائے۔
اہم ایام:
ملّی و قومی اہمیت کے ایام کی منصوبہ بندی صوبائی نظم کریں۔ ان مواقع پر تمام اضلاع میں پروگرام منعقد کیے جائیںگے ۔
1۔۵ فروری:یوم یکجہتی کشمیر 2۔ماہ ربیع الاول:عشرہ سیرت النبی
3۔استقبال رمضان المبارک ،افطار یاں 4۔۴۱ اگست: یوم آزادی
5۔۶۲ اگست:یوم تاسیس جماعت اسلامی پاکستان 6۔۴ستمبر:عالمی یوم حجاب
7۔۵۱مئی :عالمی یومِ فلسطین
قائمہ کمیٹیاں ودیگر اُمور:
۔ 2010ءمیں مرکزی مجلس شوریٰ کی قائمہ کمیٹیوں کے حوالہ سے بعض اہم نکات کا تعین کیاگیاتھا۔ اس حوالہ سے عمل درآمد میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ نئی مجلس شوریٰ کی نو تشکیل شدہ قائمہ کمیٹیوں کے لیے راہنما نکات علیحدہ سے انہیں دیئے جارہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے ترجمان کی تقرری کے تجربہ کے بعد تعلیم ’زراعت ، صنعت و تجارت‘ کے دائروں میں بھی ترجمان کی تقرری ہوچکی ہے۔ اس ضمن میں دیگر شعبوں اور دائروں میں بھی ترجمان کی تقرری کے ساتھ اس پورے عمل کو زیادہ موثر طور پر آگے بڑھانے کا اہتمام کیا جائے ۔
۔ رائے عامہ کو جاننے اور اس کی بنیاد پر کام کی منصوبہ بندی اور جائزہ کے لیے محض سیاسی ہی نہیں دعوتی اور تعلیمی و تربیتی دائرے میں بھی سروے کی ضرورت ہے ۔ منتخب انتخابی حلقوں میں سروے کے ساتھ ساتھ سال میں دوسرے ملک گیر بنیادوں پر منعقد کرائے جائیں گے۔ سروے کے نتائج کی بنیاد پرجائزہ اور تجزیہ کو منصوبہ بندی اور کام کی حکمت عملی اور اقدامات سے مربوط بنایا جائے گا۔
۔ مجلس علمی کی سال 2012ءمیں دو نشستیں منعقد ہوئی ہیں۔ بحیثیت مجموعی اپنے مقاصد و اہداف کی روشنی میں اسے ایک مفید عمل کا آغاز قرار دیا جاسکتاہے۔ سال 2013ءمیں بھی مجلس علمی کی کم ازکم دو نشستیں منعقد کی جائیں گی۔
نوٹ:”محور خاص“صوبوں ، برادرتنظیمات اور شعبہ جات کے منصوبوں میں شامل کیا جائے ۔
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس