Jamaat-e-Islami Pakistan | English |


تفصیل


منصوبہ عمل2013ء
جماعت اسلامی پاکستان

اِنَّ اللّٰہ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَومٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوا مَا بِاَنفُسِھِم
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل
دیتی۔[الرعد۳۱:۱۱]
2013ءانتخابات کاسا ل ہے جبکہ معاشی ابتری ، کرپشن ،بد امنی ،حکمرانوں کی نا اہلی ،امریکہ اور بین الاقوامی قوتوں کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث عوام کی پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہاہے۔ اس لیے ۳۱۰۲ءکے منصوبہ عمل کا محور خاص ایک بھرپور و مربوط اور موثر سیاسی و دعوتی حکمت عملی کے ذریعہ ان نکات پر مشتمل ہوگا۔
۔ دعوت الی اللہ کے کام میں مستعدی اور وسعت
۔ اقامت دین کے لیے پارلیمانی طاقت کا حصول
۔ امریکی غلامی سے آزادپاکستان
۔ عوام کے دکھوں میں کمی کرنے کی سعی اور
۔ پاکستان کو عالم اسلام میں بڑھتی ہوئی اسلامی انقلابی لہر سے جوڑنا
اہداف وسرگرمیاں:
۔ پورے ملک میں بالعموم اورموثر انتخابی حلقوں میں بالخصوص دعوتی و سیاسی سرگرمیوں اور رابطہ عوام کے کام کو تیز کیا جائے گا۔
۔ بڑے پیمانے پر موثر افراد کی جماعت اسلامی میں شمولیت کرائی جائے گی۔
۔ ووٹر لسٹ کے ذریعہ گھر گھر رابطے کے کئی دور مکمل کیے جائیںگے۔
۔ عوام میں احساس پیدا کیا جائے گاکہ ہمارے تمام مسائل کا حل اسلامی نظام میں ہے اور اہل افراد کو منتخب کرکے ملک کی قسمت تبدیل کرسکتے ہیں ۔
تنظیم:
۱۔ یونین کونسل کی سطح تک مقامی جماعتیں /نظم کی تشکیل مکمل کرلی جائے ۔
۲۔ پولنگ اسٹیشن تک نظم قائم کرنے کی کوشش تیز کی جائے ۔
۳۔ مرد وخواتین ارکان کے لیے اضافے کا ہدف
۴۔رکنیت سازی میں نصاب رکنیت اور دستور جماعت اسلامی پڑھانے پر توجہ رکھی جائے تاکہ فہم ، کردار اور معاملات کے اعتبار سے رکنیت کے معیار کو برقرار رکھا جاسکے۔
1۔ ارکان :20فیصد اضافہ۔
2۔ کارکنان: 50فیصد اضافہ
3۔ممبران: 50فیصد ۔
دعوتی کام :
جماعت اسلامی کے قیام کا مقصد اقامت دین (حکومت الٰہیہ یا اسلامی نظامِ زندگی کا قیام ) اور رضائے الٰہی و فلاح اُخروی کا حصول ہے، یوں جماعت اسلامی تمام انسانوں بالخصوص مسلمانوں کو حقیقی کامیابی کے راستے پر گامزن کرنا چاہتی ہے۔ تمام انسانوں کی حقیقی کامیابی بندگی رب ، اتباع رسول ،جنت کی طلب اور اقامتِ دین کی سعی میں ہی ہے۔ مستحسن بات یہ ہے کہ عمومی طور پر ہر مسلمان کی خواہش یہی ہے اور دلی جذبات بھی ان باتوں سے مطابقت رکھتے ہیں۔ البتہ اقامت دین کا ہمہ گیر تصور نہ عام ہے نہ ہی اقامتِ دین کے کاموں میں شرکت اس درجے میں موجود ہے جودین سے محبت کا تقاضا ہے ۔لیکن یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ ہرمسلمان کسی نہ کسی انداز میں قیامت و آخرت کی سختیوں سے بچنے اور جنت کے حصول کی کوشش کرتاہے۔ ان اوصاف کی موجودگی میں عام مسلمانوں کو ہمارا ہمنوابننا اور جماعت اسلامی سے قریب ہوناچاہیے تھا لیکن اب بھی ملک کی کثیر آبادی کو جماعت اسلامی سے متعارف کرانے اور جماعت کے حقیقی کام سے واقف کرانے کی ضرورت ہے۔ اس لیے دعوتی کام و سرگرمیوں کو بہت تیزی اور مستعدی سے کرنے کی ضرورت ہے۔ دعوتی کام جہاں لوگوں میں دین کا ہمہ گیر تصورمنتقل کرے ، اخلاق و کردار و معاملات کی درستی کا پیغام دے وہاں دعوتی کام ملک کی ترقی ،معاشرتی بہتری،قانون کی بالادستی ، حقوق کی فراہمی ، تعلیمی سہولیات کی دستیابی ، روزگار میں اضافہ جیسے تمام جائز امور پر توجہ رکھے۔ دعوتی کام میں وسعت کے لیے ضروری ہے کہ اسے اس طرح ترتیب دیا جائے کہ نوجوان طبقہ ، خواتین اور معاشرے کے بااثر افراد اپنے لیے کشش محسوس کریں ، دینی رجحانات میں اضافہ کے لیے قرآن و سنہ کے پیغام کو بڑے پیمانے پر عام کیا جائے۔ دعوتی کام او رمسائل دنیا کے درمیان ربط بھی پیداکیا جائے اور حل کی کوششوں میں عملی طور پر تنظیم کو بھی مستعد کیا جائے ۔ نچلی سطح پر عام لوگوں کو کام کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں ۔
٭۔ حسب ذیل نکات دعوتی اُمور میں کام کا مرکز ہوں:
۱۔ دعوت الی اللہ اور رضائے الٰہی کا حصول ہی ساری سرگرمیوں کی بنیاد ہو گی۔
۲۔ بڑے پیمانے پر لٹریچر تقسیم کیا جائے گا۔
۳۔پورے ملک میں بالعموم اور متعین انتخابی حلقوں میںتمام ووٹرز تک رسائی حاصل کی جائے گی۔
۴۔امیرجماعت کی شخصیت اور امیج کو توسیع دعوت اور انقلاب قیادت کے لیے موثر ذریعے کے طور پر ابھاراجائے گا۔
۵۔ امیرجماعت کے کئی شہروں میں بیک وقت خطابات کا اہتمام کیا جائے گا ۔ جس کا تفصیلی منصوبہ مرکزی نظم تیار کرلے گا۔
تربیت :
جماعت اسلامی پاکستان صرف کارکنوں ہی کی نہیں عامة الناس کی تربیت واصلاح کی ذمہ داربھی ہے ۔ اس لیے تربیت کے تصور اور دائرہ کو وسیع کرکے عوام کی سوچ، اخلاق و کردار کی اصلاح کی جائے اور ان کے تصور دین کو درست کیاجائے۔ اس کے لیے پروگرام کی نوعیت اور عنوانات میں بھی تبدیلی لانے کی ضرورت ہوگی۔ دوسری جانب شہر ہو یا گاﺅں عام لوگوں سے کام لینے اور کام انجام دینے کی تربیت میں اضافہ ہورہاہے۔ اس لیے ملک میں بڑھتے ہوئے اس رجحان یعنی کمیونٹی کی شرکت سے فائدہ اٹھانا چاہیے ۔ اسی طرح سماجی ترقی میں بھی کردار بڑھے گااور عام لوگوں کی اصلاح و تربیت کے مواقع بھی بڑھیں گے ۔ اسی طرح تربیت کے ذیل میں حقوق اللہ ، حقوق العباد، تربیت اولاد، خاندانوں کی یگانگت ، معاشرتی تعلقات ، سماجی بہبود و ترقی کو بھی موضوع بنایاجائے۔ان عنوانات کے تحت حلقہ جات میں اجتماعات عام کے پروگرام منعقد کیے جائیںگے۔ علاوہ ازیں
۱۔ مرکزی و صوبائی شعبہ تربیت مزید فعال کردار ادا کرے۔
۲۔ مرکزی تربیت گاہ میں کارکنان کو شریک کرنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی ۔
۳۔ شعبہ تربیت ارکان سازی کے ساتھ امیدواران رکنیت کی تربیت کا خصوصی اہتمام کرے گا۔
۴۔ مرکز جماعت کے تحت دوران سال ذمہ داران کے لیے خصوصی تربیت گاہ کا انعقاد کیا جائے گا۔
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس