Jamaat-e-Islami Pakistan | English |


تفصیل


سالانہ منصوبہ عمل 2019ء
جماعت اسلامی پاکستان


اسلامی پاکستان… خوشحال پاکستان
l    وژن:
۱۔    اسلامی پاکستان… خوشحال پاکستان… کرپشن فری پاکستان
۲۔    پاکستان کے عوام کودُنیاوآخرت میں کامیابی کیلئے اسلام کے نظام زندگی کی برکتوں سے آگہی دینا۔ (یعنی پاکستان کے موجودہ تمام مسائل کا حل صرف اسلامی نظام سے وابستہ ہے)
۳۔    نظریاتی جدوجہد کو آگے بڑھانا اورسیکولرازم، لبرل ازم اورسرمایہ دارانہ نظام کے فتنوں کو بے نقاب کرنا۔
l    اجتماعی اہداف:
۱۔    جماعت اسلامی پاکستان کے چار نکاتی لائحہ عمل کی طرف پیش رفت کے لیے عملی اقدامات کرنا(ہر نکتہ کے تقاضوں کی روشنی میں)
۲۔    جماعت اسلامی کے نام کو80%عوام تک پہنچانا۔
۳۔    جماعت کے کارکنان میں 25%اضافہ کرنا۔
۴۔    جماعت کے تنظیمی حلقہ جات میں 25%اضافہ کرنا۔
۵۔    بلدیاتی انتخابات میں بھرپور حصّہ لیاجائے گا۔ (صوبہ جات اِس کی تفصیلی پلاننگ کرکے مرکز کو آگاہ کریںگے)
1۔    دعوت:
lتوسیع دعوت:

۱۔    ہماری دعوت بندگی رب، پیروی رسول ؐ، اصلاح فرداورمعاشرہ اور اسلامی حکومت کے قیام کی جدوجہدہے۔ خیروفلاح کی دعوت کوعوام تک پہنچاناسب سے اہم کام اورجماعت سے وابستہ ہرفردکی بنیادی اور اولین ذمّہ داری ہے۔
۲۔    ملک بھرمیں نظریاتی جدوجہدکو آگے بڑھانے اورسیکولرزم اور لبرل ازم کے فتنے کو بے نقاب کرنے کے لیے30- روزہ رابطہ عوام مہم 20-فروری تا20- مارچ چلائی جائے گی۔ (مرکز جماعت مؤثرمہم کو ڈیزائن اور بجٹ کا اہتمام کرے گا)
۳۔    تمام ارکان روابط سازی کا لازمی اہتمام کریں گے۔ (ضلعی نظم ارکان کے روابط کی نگرانی کا نظام وضع کرے گا۔)
۴۔    بااثرافرادمیں توسیع دعوت اور نفوذ کے لیے ہر سطح کا نظم منصوبہ بنائے گا۔
۵۔    ترجمہ قرآن پاک کی تقسیم کے پراجیکٹ کاہدف ایک لاکھ نُسخے ہوگا۔
۶۔    ماہنامہ عالمی ترجمان القرآن کی تعدادمیں کم ازکم5000کااضافہ کیاجائے گا۔
lبچوں، طلبہ اوریوتھ میں کام:
۱۔    15سال تک کی عمر کے بچوںکی تعداد 5؍کروڑہے۔ اُن میں دعوتی کام کے لیے صوبہ جات اپنا اپنا منصوبہ بناکرکام کریںگے اور اپنے منصوبے سے مرکز کو بھی آگاہ کریںگے۔
۲۔    15سے 25سال کی عمر کے نوجوان 6؍کروڑ ہیں۔ اُن کوجماعت کی طرف راغب کرنے اور ذہن سازی کے لیے جامع پلان تیارکیاجائے گا۔
۳۔    بڑے پیمانے پر یوتھ ممبرسازی کااہتمام کیاجائے گا۔صوبوں کو اہداف دے کر 20سے 50فیصد یونین کونسلوں میں انٹراپارٹی الیکشن کروائے جائیںگے۔
۴۔    نوجوان نسل کی سمّت کی درستی اور تربیت کے لیے اِس سال مرکزی ماہانہ تربیت گاہ میں یوتھ کے 4پروگرامات ترتیب دئیے جائیںگے۔ (اس کا منصوبہ جے آئی یوتھ تیار کرے گا۔)
۵۔    سپورٹس اوراِسلامک کلچرل پروگرامات کا وسیع پیمانے پر انعقاد کے ذریعے عام نوجوانوں کی تلاش۔(بالخصوص ڈویژنل صدرمقامات اور بڑے شہروں میں)
۶۔    معاشرے میں پھیلی برائی، منشیات اور بے مقصدیت سے نوجوانوں کو محفوظ کرنے کے لیے مثبت اور صحت مندانہ سرگرمیوں کاانعقاد۔
۷۔    یوتھ کے مسائل کے حل ، ضروریات کی فراہمی اور ہنرمندی کے مواقع فراہم کرنے کے لیے آواز بلندکرنا۔
۸۔    بلدیاتی انتخابات میںنوجوانوں کو بھرپورنمائندگی دینے کی کوشش کی جائے گی۔
۹۔    تمام اضلاع میں یوتھ کنونشنزکااہتمام کیاجائے گا۔ جبکہ صوبائی سطح پر یوتھ ورکشاپس کی جائیں گی۔
۱۰۔    یوم آزادی (14؍اگست)کے موقع پر تمام ضلعی صدرمقامات پر یوتھ ریلیز کا انعقادکیاجائے گا۔
۱۱۔    سیّد مودودیؒ کی خدمات کو اجاگرکرنے کے لیے کم از کم لاہور میں بڑا پروگرام منعقد کیاجائے گا۔
۱۲۔    کوئٹہ اور کراچی میں یوتھ جرگہ/ عوامی عدالت کا اہتمام کیاجائے گا۔

lخواتین، لڑکیوں اورطالبات میں کام:
۱۔    سکولوں، کالجوں کی طالبات اور معاشرے کی عام لڑکیوں میں دعوت کاکام ترجیحاً کیاجائے گا۔
۲۔    فہم قرآن وسنت کلاسزمیں خواتین اور طالبات کی بھرپورشرکت کااہتمام اور فالواپ کیاجائے گا۔
۳۔    لڑکیوںکے لیے دِلچسپ اوراِسلامک کلچرل سرگرمیوں کااہتمام کیاجائے گا۔
۴۔    ضلعی سطح پرلڑکیوں کے لیے ’’یوتھ کیمپس (دختران اسلام کنونشنز)‘‘کااہتمام کیاجائے گا۔
۵۔    طالبات اور خواتین میں دعوتی کام کے لیے دروس قرآن کے ساتھ ساتھ خاندان کی کونسلنگ، بچیوں کی کِردارسازی اور گھریلو مسائل کو عنوان بناکرنفوذ کرنے کی کوشش کی جائے۔
۶۔    معاشرے میں مؤثر مقام کی حامل بالخصوص Phdsخواتین میں کام کیاجائے گا۔
۷۔    تحریکی ورکنگ ویمن کے ذریعے تعلیمی اداروں، میڈیکل ہیلتھ، فیکٹریز، لیبارٹریزاوردفاترمیں نفوذ اور روابط سازی کرنا۔
۸۔    عوامی سطح پرخواتین میں دعوت کی بڑے پیمانے پر توسیع کے لیے کم از کم 20فیصدافراد ( مقررات اور مدرسات )کی تیاری کاہدف ہوگا۔
lتعلیم(تعلیمی ادارے اور اساتذہ کرام میں کام):
۱۔    مرکزی تعلیمی کمیٹی، تنظیم اساتذہ، نافع اوردیگر اداروں کے ذریعے سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی اداروں میں نفوذ اور توسیع دعوت کا کام کیاجائے گا۔ 10؍لاکھ طلبہ ہدف ہوں گے۔ (صوبائی سطح پر نگرانی اورعمل درآمدکانظام بنایاجائے گا، عمل درآمد کی ذمّہ داری مقامی نظم کی ہوگی)
۲۔    انفرادی ملکیت کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان کے کنونشنز کم ازکم ایک مرتبہ بڑے شہروں کی سطح پرمنعقدکیے جائیںگے۔ صوبائی نظم اور نافع ان کے انعقادکی مشترکہ حکمت عملی وضع کریںگے۔
۳۔    جماعت اسلامی کے تحت اور اس کے وابستگان کے ذاتی تعلیمی اداروںکو جماعت اسلامی کے مقاصد سے ہم آہنگ کیاجائے گا اور اُن میں ایک ہی نصاب رائج کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ (کم از کم۔ اسلامیات، اُردو، انگلش اورسائنس کی کُتب)
۴۔    اساتذہ کرام اور زیرتعلیم طلبہ وطالبات کے لیے تصوراُمت، فہم قرآن وسنت، اقامت دین، تحریکی شعور، بنیادی انسانی واسلامی اخلاقیات کے لیے تحریکی لٹریچر کو فروغ دیاجائے گا۔
۵۔    تحریک سے وابستہ تعلیمی اداروں کے سلسلے (Chains)، تحریک اسلامی اور اسلامی پاکستان کے لیے مطلوب استاداور مطلوبہ طالب علم کے لیے ایک معیارپر متفق ہوکرذہن سازی وکردار سازی کریںگے۔
۶۔    مقامی / ضلعی نظم کے ذریعے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے مالکان اورپرنسپلزمیں کام کے لیے ملاقاتوں، لٹریچر، تحائف اوراستقبالیہ کنونشنزکااہتمام کیاجائے گا۔ اس سال ملک بھر میں000 5؍ ادارے ہدف ہوںگے۔
۷۔    عصرحاضر کے تقاضوں کے مطابق علوم کی اسلامی تشکیل نواورقومی زبان اُردو کی ترویج کی منظم کوشش کی جائے گی۔
lفہم قرآن وسنت:
۱۔    ’’فہم قرآن وسنت کلاسز‘‘ کے ذریعے عام لوگوں کی اسلامی تربیت کا وسیع اہتمام کیاجائے گا۔
۲۔    ماہ رمضان المبارک میں اعتکاف کے بڑھتے ہوئے رُجحان کے مطابق خصوصی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔
۳۔    صوبہ جات کے تحت شعبہ فہم دین کی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی جبکہ قرآن کلاسز کے لیے مدرسین کی تلاش اور ٹریننگ کی جائے گی۔
۴۔    ہرزون/ تحصیل میں سال میں ایک ’’قرآن کلاس‘‘ کاانعقادکیاجائے گا جس میں ترجیحاً خواتین اور نوجوانوں کو شریک کیاجائے گا اورکلاس کے شرکاء کوجماعت اسلامی میں شامل کرنے اورمتحرک کرنے کے لیے ان کا فالواپ کیاجائے گا۔
۵۔    حاضری کے اہداف :  خیبرپختونخواہ=10؍لاکھ، پنجاب شمالی= 5؍لاکھ، پنجاب وسطی= 5؍لاکھ، پنجاب جنوبی = 3؍لاکھ، سندھ= 5؍لاکھ، بلوچستان= 50؍ہزار
lمیڈیا:
۱۔    پاکستان کے نظریاتی ایشوزکواجاگرکرنے، فکری کام کی ترویج، مختلف امور پر جماعت کے مؤقف اور بیانیہ کے لیے مضامین تحریر کرنا، ان کو اخبارات اور رسائل وجرائد میں وسیع پیمانے پر شائع کروانا اور سیمینارز کے ذریعے سے ذہن سازی اور عوامی فضا بنانا۔
۲۔    مرکزی شعبہ نشرواشاوعت، صوبائی اور میڈیا سینٹرزکو تکنیکی اعتبار سے مضبوط بنانے، جدید خطوط پر استوارکرنے اور کپیسٹی بلڈنگ پروگرام کے تحت افرادکی پروفیشنل ٹریننگ کا اہتمام کیاجائے گا۔
۳۔    لاہور، کراچی، ملتان، کوئٹہ، حیدرآباد، پشاور اور اسلام آباد میں میڈیا مالکان سے مرکزی نظم جماعت کی ملاقاتوں کااہتمام کیاجائے گا۔
۴۔    ملک بھر کے تمام پریس کلبز کے انتخابات میں منتخب باڈی کے اعزاز میں ظہرانے، عشائیے اور دیگر تقریبات کسی ہوٹل، مرکز جماعت، صوبائی ہیڈکوارٹرز اور ضلعی ہیڈکوارٹرز پر منعقد کی جائیں جس میں مرکزی نظم جماعت شریک ہو۔
۵۔    اینکرپرسنز، پروڈیوسرز، ایڈیٹرزاور کالم نویسوں کے ساتھ اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور، ملتان میں امیرجماعت کی ملاقاتیں۔ عشائیہ، ظہرانہ، عصرانہ کی تقاریب ہوںگی۔
۶۔    جماعت کے ذمہ داران، علمائے کرام اور پروفیشنل حضرات وخواتین کو میڈیا میں متعارف کروانے کا اہتمام کیاجائے گا۔ ٹاک شوز کے لیے نئے افراد کی تیاری کے حوالے سے ورکشاپ کااہتمام کیاجائے گا۔
۷۔    سوشل میڈیا کے لیے پروفیشنل افراد سے مشاورت کرکے کام کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
۸۔    جماعت کی مہمات کے حوالے سے ایڈورٹائزمنٹ کے تمام جدید ذرائع کا منظم استعمال کیاجائے گا۔
lسمندرپارپاکستانیوں میں کام:
٭    سمندرپارپاکستانیوں کو ووٹ کاحق ملنے کے بعد اُن میں دعوتی وتنظیمی کام کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔ لہٰذا
۱۔     سمندرپارپاکستانیوں کوووٹ کا حق ملنے کے تناظر میں بیرون ملک سرگرمیوں کو مزید مؤثر ومفید بنانے کے لیے اُمور خارجہ کمیٹی مفصل سفارشات تیار کرے گی۔
۲۔    بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں دین کا حقیقی شعور پیدا کرنے اور انہیں تحریک اسلامی کا پشتیبان بنانے کے لیے عالمی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے مزید تنظیمی استحکام وتوسیع پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
۳۔    بیرون ملک مقیم خاندانوں بالخصوص ان کی آئندہ نسلوں کو اقامت دین کی جدوجہد کا حصہ بنانے کے لیے متعین اہداف پر عمل کیاجائے گا۔
۴۔    اسلامی تحریکات اور دیگر عالم شخصیات کے ذریعے کشمیر سمیت اُمت مسلمہ کے اہم مسائل کو عالمی سطح پر اُجاگر کرنے کا خصوصی اہتمام کیاجائے گا۔
2۔    تربیت :
۱۔    نئی، باصلاحیت، نوجوان، ویژنری، تعلیم یافتہ اورباہمت قیادت کی تیاری کا کام نہایت اہم اور فوری نوعیت کاہے۔ اِس مقصد کے لیے ایک ’’ٹریننگ اکیڈمی‘‘ کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور اس کے لیے ایک مربوط نظام کار تشکیل دیا جائے گا۔
۲۔    قیادت کی تیاری کے لیے خصوصی نصاب تربیت کی تشکیل اور تربیت کرنے کی مہارت اور تجربہ رکھنے والے افراد کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔
۳۔    ہر سطح کی شوراؤںکے ارکان کو چاہیے کہ وہ مرکزی شوریٰ کی رودادوںکامطالعہ کریں۔
۴۔    صوبائی، ضلعی، زونل اور مقامی ذمّہ داران کے لیے تین روزہ ’’لیڈرشپ تربیتی کنونشن‘‘ منعقدکیے جائیں گے۔ (صوبہ جات پہلی سہ ماہی میں اِن کا اہتمام کریںگے)
۵۔    ہررکن ’’گھریونٹ‘‘ قائم کرے گا۔ ہررکن اپنے گھر(یااُس کے قریب)درس قرآن کااہتمام کرے گا۔ اہل خانہ کا اجتماع باقاعدگی سے منظم کرے گاجس میں کتاب آداب زندگی کا مطالعہ کیاجائے گا۔ نیز پورے خاندان کو تحریک سے وابستہ کرنے کی ترجیحی کوشش کرے گا۔
۶۔    ہرضلع ارکان وامیدواران رکنیت کیلئے سٹڈی سرکلزکا اہتمام کرے گا۔
۷۔    ہراُمیدواررکنیت کو رکنیت کی منظوری سے پہلے مرکزی تربیت گاہ میں شریک کروانے کی کوشش کی جائے گی۔
۸۔    ارکان جماعت سال 2019ء میں مندرجہ ذیل کتب کامطالعہ کریں گے۔
lآداب زندگی، تحریک اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل، تحریک اور کارکن، تنقیہات اورتحریک اسلامی کامیابی کی شرائط
۹۔    ماہانہ مرکزی تربیت گاہ منصورہ کے  اہداف مندرجہ ذیل ہوںگے۔خیبرپختونخواہ=8000، پنجاب شمالی=4000،پنجاب وسطی=5000
    پنجاب جنوبی=2000، سندھ=2500، بلوچستان=1000
3۔  تنظیم:
۱۔    منصوبہ کی روشنی میں اہداف پر عمل درآمد ہی اصل ترجیح اور فوکس ہوگا۔ مرکز، صوبائی جائزے کے لیے اہداف (Indicators)پہلے ماہ سے طے کرلے گا۔
۲۔    ہفتہ وار اجتماع کو باقاعدہ انعقاداور اس کو مؤثراور مفید بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
۳۔    سالانہ منصوبہ عمل پر عمل درآمد، فالواپ اور جائزہ کے لیے ایک نظام تشکیل دیاجائے گا۔ جس کی ایک عرصہ سے ضرورت محسوس کی جارہی ہے۔
lافرادی قوت (کارکن/ ارکان سازی):
۱۔    مؤرخہ31؍ جنوری کو حلقہ / زون/ ضلع کارکنان کی فہرست مرتب کرے گا اور اِس میں 25%سالانہ اضافہ کیاجائے گا۔
۲۔     رکنیت سازی کے لیے سٹڈی سرکلز، اجتماعات امیدواران رکنیت اور ماہانہ مرکزی تربیت گاہ منصورہ میں شرکت کو یقینی بنایاجائے گا۔
۳۔    مختلف کمیٹیوں کی سفارش کی روشنی میں ماہ مئی کے بعد تجدیدرکنیت کا نظام بنایاجائے گا۔
lشعبہ جات:
۱۔    مرکزی، صوبائی اور ضلعی سطح پرتمام شعبہ جات اور اداروں کے سالانہ منصوبے بنائے جائیں گے اور اُن کے لیے متعلقہ صلاحیت کے حامل افرادکا تقرراور ضروری بجٹ کی فراہمی کو یقینی بنایاجائے گا۔
۲۔    ہرشعبہ سالانہ منصوبہ عمل کی روشنی میں ماہانہ تحریری رپورٹ مرتب کرکے نظم کو فراہم کرے گا۔
۳۔    ہر شعبہ کا پرفارمنس آڈٹ کروایا جائے گا۔
lمالیات، زکوٰۃ، عُشر:
۱)    ہر سطح پر مالی وسائل کی مستقل اور بھرپوردستیابی کے لیے بہترین پلاننگ کی جائے گی اورہر سطح پرمؤثراورمستحکم مالیاتی کمیٹی کاقیام عمل میں لایا جائے گا اورملکی وبین الاقوامی صورتحال میں اعانتوں کی وصولی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ڈونرز کی فہرستوں کی تیاری اور ان سے وصولی اور زکوٰۃ اور عشرکی وصولی کامؤثرانتظام کیاجائے گا۔
4۔    معاشرے میں نفوذ:
lجماعت کی شناخت(Image Building) کے لیے اقدامات:
۱۔    جماعت کی 71؍سالہ تاریخ میں کامیابیوں، بہترین دعوت، بہترین جمہوری پارٹی۔ امانت ودیانت۔ باصلاحیت اورکرپشن فری قیادت۔ قوم کی دردمندانہ اورپُرخلوص راہنمائی، اِصلاح معاشرہ کی سنجیدہ کوششیں۔ جان ومال کی قربانیاں۔ ملک کے نظریے اور جغرافیے کے خلاف سازشوں کا بھرپوردفاع اور شاندار پارلیمانی جدوجہدکے حوالے سے جماعت کاخوشگوار، سافٹ، پرکشش، صلح جُو، دیانت دار، منظم، باصلاحیت، امیج/ تشخص قائم کرنے کی کوشش کرنا۔
۲۔     اس مقصد کے لیے جاندار لٹریچرتیار کرنا، اسے ہرکارکن کے ذریعے عوام تک پہنچانا اور اسے تقاریرکاموضوع بنانا۔
۳۔    تصویری نمائشیں ، دستاویزی فلم اور ویڈیوکلپس کی تیاری اور پھیلاؤ کا اہتمام
۴۔    عوامی، میڈیااور تھنکرزکی سطح پرگروپ ڈسکشنز، مذاکروں، سیمینارز، سمپوزیم کااہتمام
۵۔    شعبہ تحقیق وتجزیہ سے معاشرے کے رویوں، رجحانات اور مزاج پر ریسرچ اور اُس کی روشنی میں اقدامات تجویز کرنا۔
lعلماء کرام، مشائخ عظام اور سجادہ نشین حضرات میں کام :
۱۔    مقاصد، ترجیحات، طریق کاراور حدودکارکاتعین کیاجائے گااور اُن سے روابط سازی اورتسلسل سے کام کا منصوبہ بنایاجائے گا۔
۲۔    مرکزی سطح پر علماء ومشائخ کاکنونشن منعقدکیاجائے گا۔
۳۔    ہر صوبے میںبھی ایک مشائخ کنونشن منعقدہوگا۔
۴۔    لاہوراورکراچی میں دوسیرت کانفرنسیں منعقدکی جائیںگی۔
lمساجد اور مدارس میں کام:
۔    ملک بھر سے مساجد اور مدارس کے اعدادوشمار جمع کرکے اُن سے روابط میں مزیداستحکام کی کوشش کی جائے گی۔
۔    1000خُطبا وآئمہ کرام کی تیاری کا اہتمام کیاجائے گااورجو اہم موضوعات پر پُراثر اور جامع خطاب فرماسکیں۔
lپاکستانی برادری (اقلیتوں)میں کام:
۔    پاکستانی برادری میں نفوذ، روابط سازی، ضرورت مندوں کی امداد، مسائل کے حل اور انہیں جماعت اسلامی کے ووٹر بنانے کے لیے سرگرمیاں کی جائیں گی۔
lسروے کااہتمام:
۔    قومی، علاقائی، طبقاتی (خواتین، نوجوان، سٹوڈنٹس) اورہنگامی ایشوزکے موقع پرسروے کاوقتاًفوقتاً اہتمام کیاجائے گا اوراسلام، پاکستان اور جماعت کے حوالے سے اثرپذیری کو جانچنے کااہتمام کیاجائے گا اورجماعت کے کام کو بڑھانے کے لیے ان سرویز سے مددلی جائے گی۔
5    خدمت خلق:
۱۔    الخدمت کے کام کوجماعت کے سیاسی تشخص کی بہتری کے لیے مربوط کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
۲۔    الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان نے سال 2019ء میں ملک بھر میں اپنے سٹاف اور رضا کاروں کی دینی اور اخلاقی تربیت اور انہیں تحریک سے جوڑنے کے لئے خصوصی پروگرام بنایا ہے۔ اس سلسلے میں تمام اداروں میں باقاعدہ درس قرآن وحدیث کے نظام کو مزید مؤثر بنایاجائے گا۔ جبکہ مختلف دینی اسلامی موضوعات پر لیکچرز، گروپ ڈسکشن وغیرہ کا بھی اہتمام کیاجائے گا۔
۳۔    الخدمت کے تمام اداروں (خصوصاً ہسپتالوں) میں ایسا ماحول پیدا کیاجائے گا جس سے اداروں میں تحریکی چھاپ نمایاں ہو۔ اس حوالے سے حکمت کے ساتھ مختلف زاویوں پر کام کیا جائے گا۔
۴۔    الخدمت کے اداروں اور پروگرامات میں جماعت کے ذمہ داران کو تسلسل سے بلایا جائے گا تاکہ وہ سٹاف، رضا کاروں اور عام لوگوں کو جماعت کی دعوت سے روشناس کرائے۔
۵۔    الخدمت کا کفالت یتامیٰ ہمارا میگا پراجیکٹ پروگرام ہے اور ہم نے اسے پہلی ترجیح میں رکھا ہے۔ مری میں بننے والا آغوش کا ادارہ ملک بھر میں الخدمت کی پہچان کے طور پر روشناس کرایا جائے گا۔

6۔    نظام حکومت کی تبدیلی:
lکرپشن کے خلاف ملک گیر، سائینٹیفک اور مسلسل مہم:
۱۔    کرپشن فری پاکستان۔ کرپشن فری قیادت، احتساب سب کا
۲۔    ملک کو کرپشن فری بنانے اور ترقی کی منازل طے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی کی کارکردگی شفاف ہو، بلاتفریق سب کااحتساب ہو۔ بااصول عدلیہ کام کرے۔ قوانین کو سختی سے نافذ کیا جائے۔ انٹی کرپشن کے تمام سرکاری ادارے اپناکرداراداکریں۔
۳۔    ریسرچ اور تجزیے کے ذریعے عوام کو حقائق سے آگہی دینا، اداروںکی کارکردگی پر نظررکھنا اور کرپشن کے Casesکو ہائی لائٹ کرنا۔
lسیاسی میدان میں حکمت عملی، وژن، اقدامات، رفتارکار، حدودکار:
۱۔    مرکزی، صوبائی اور ضلعی سطح پر شعبہ انتخاب کو منظم کیاجائے گا۔
۲۔    سیاسی میدان میںخوش اسلوبی اوربا وقاراندازمیںاخلاقی اقدارکی ترویج کے ذریعے مؤثرسیاسی شخصیات سے روابط سازی کی جائے، باہمی تعلقات کو فروغ دیاجائے اور نفرتوں کو ختم کرکے قربتوں کو رواج دیاجائے۔
۳۔    مرکزی شوریٰ کے فیصلوں کی روشنی میں اپنے نام، نشان، پرچم اور قیادت کوآگے بڑھایاجائے گا۔
lبلدیاتی انتخابات(2019ء):
۱۔    بلدیاتی انتخابات 2019؁ء میں جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے حصہ لیاجائے گااورنچلی سطح پرنوجوان، بااخلاق، تجربہ کار، جرأت مند، دیانت دار، خدمت گزاراور متحرک لیڈرشپ کو کامیاب کروانے کی بھرپور جدوجہد کی جائے گی۔
۲۔    ہر ضلع اپنا ہدف خود طے کرے گا۔ صلاحیت، وسائل اور مواقع کے مطابق شہروںاور UCکو فوکس کیاجائے گا۔ گروپ لیڈرکی شناخت اور تربیت دے کر میدان میں اتاراجائے گااور لوکل حلقہ کی سائنسی معرفت حاصل کی جائے گی۔
۳۔    الیکشن اُمیدواروںکاابھی سے تعین کیاجائے گا، اُن میں حوصلہ، اعتماداورصلاحیت پیداکرنے کے لیے تربیتی ورکشاپس کااہتمام کیاجائے گا اوراُن کے کنونشن بُلاکرکام کاہدف دیاجائے گا۔
7۔    مرکز جماعت:
۱۔    مرکز کے تحت قومی ہیلتھ کانفرنس، قومی تعلیمی کانفرنس، قومی زرعی کانفرنس اور قومی بلدیاتی کانفرنس کااہتمام کیاجائے گا۔
۲۔    تھنک ٹینک کے قیام کے ذریعے آئندہ لائحہ عمل طے کرنے میں مدد لی جائے گی۔
۳۔    Phdحضرات میں کام کی توسیع اور اُن کے مختلف شعبوں میں سٹڈی گروپس تشکیل دے کر اُن سے سائنٹیفک استفادہ کیاجائے گا۔
۴۔    مجلس شوریٰ کی قائمہ ودیگر کمیٹیوں کو مؤثربنانے اور نتیجہ خیز کام کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
۵۔    محترم امیرجماعت کے ایڈوائزرکے کام کو منظم کیاجائے گا۔ مرکزکی طرزپرامرائے صوبہ اپنے بھی ایڈوائزرمقررکریںگے۔
۶۔    امیرجماعت اور مرکزی نظم جماعت، اضلاع کے منظم دورے کرے گا اور ضلعی اجتماعات ارکان میں شرکت کرے گا۔
۷۔    ذمہ داران جماعت کو عربی بول چال سکھانے کا میکنزم بنایاجائے گا۔
۸۔    طویل المیعادمنصوبہ مؤرخہ 31؍اگست تک تیار کرلیاجائے گا۔
۹۔    جماعت کاپرفارمنس آڈٹ کیاجائے گا۔
8۔    ایام ومہمات:
    oہفتہ یکجہتی کشمیر(5؍فروری)        o     یوم خواتین (8؍مارچ)    oماہ رمضان المبارک کے خصوصی پروگرامات       (ماہ مئی)
    oیوم آزادی ( 14؍اگست)        o           یوم تاسیس (26؍اگست)          o                            یوم حجاب (4؍ستمبر)      
    oیوم تحفظ ختم نبوت (07؍ستمبر)         o              عشرہ سیرت النبیؐ(10نومبر2018)    
٭٭٭٭٭
 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں



سوشل میڈیا لنکس