Jamaat-e-Islami Pakistan | English |


تفصیل


 ۷۔نوجوانوں میں کام:
٭ یوتھ بورڈجماعت اسلامی پاکستان کا اجلاس مورخہ 2۔اگست 2016ء کو صدربورڈ جناب سراج الحق صاحب امیرجماعت اسلامی پاکستان کی زیرصدارت منعقد ہوا۔جس کی سفارشات کی مرکزی منصوبہ کمیٹی نے مورخہ14نومبر 2016ء کے اجلاس میں منظوری دی ۔
۱۔ ’’یوتھ بورڈ‘‘ عام نوجوانوں میں کام کے لیے رہنمائی، عمل درآمداورنگرانی کا فریضہ سرانجام دے گا۔
درج ذیل تین کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی ۔
۱۔پالیسی اینڈ پلاننگ کمیٹی ۲۔میڈیا کمیٹی ۳۔ عمل درآمد کمیٹی
۲۔ مرکزی شعبہ ’’تحقیق و تجزیہ ‘‘یوتھ پالیسی اور ایجنڈے پرکام کرے گا ۔ اور لانگ ٹرم (2028ء ) اور شارٹ ٹرم (2018ء )تک کے لیے پالیسی تشکیل دے گا ۔یوتھ پالیسی کی تیاری کے لیے سروے کروایا جائے گاتاکہ یوتھ کی دلچسپیوں اور ٹرینڈز کو مدنظر رکھا جاسکے ۔ اس پالیسی کی منتقلی کے لیے یوتھ کی کور ٹیم کو ورکشاپ سے گزارا جائے گا۔
۳۔ نوجوانوں کی نظریاتی اور عملی تربیت کا اہتمام کیا جائے گا۔ اور اسلامی تہذیب کے احیاء کی کوشش کی جائے گی۔
۴۔ جے آئی یوتھ کے پلیٹ فارم کو عام نوجوانوں کے لیے اوپن رکھاجائے گا ۔ سپورٹس اور کلچرل سرگرمیوں کو بھرپور انداز میں منعقد کیاجائے گا ۔
۵۔ پورے ملک میں یوتھ ممبر سازی مہم جاری رہے گی ۔
۶۔ لاہور میں یوتھ کا بڑا پروگرام منعقد کیاجائے گا۔ جبکہ تمام ٹارگٹ انتخابی حلقوں میں بڑے ’’یوتھ کنونشنز‘‘ منعقد ہوں گے۔(صوبائی جماعتیں اضلاع کو ہدف دیں گی۔)
۷۔ سابقین اور تحریکی گھرانوں کی یوتھ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
۸۔ یوتھ کے کام کے حوالے سے صوبائی ، ڈویژنل ہیڈکوارٹرز اور ٹارگٹ حلقوں پرخصوصی توجہ دی جائے گی۔
۹۔ یوتھ سے امیرجماعت کو براہ راست مخاطب کروانے کے لیے پرائیویٹ اور پبلک تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر سوال و جواب کی نشستیں منعقد کرائی جائیں گی۔ صوبائی ہیڈکوارٹرزپر یوتھ جرگہ کی طرز پر پروگرام منعقد کیے جائیں گے اور میڈیا کی بھرپور کوریج کابندوبست کیاجائے گا۔
۱۰۔ انتخابات 2018ء کو خصوصی ہدف بنا کر ’’ون بوتھ ٹین یوتھ ‘‘ کے نعرے کے تحت تمام انتخابی حلقوں کے بنیادی یونٹس تک نظم قائم کیاجائے گا۔ بنیادی حلقوں کی سطح پر الخدمت کی مدد سے یوتھ کے لیے فلاحی سرگرمیاں ترتیب دی جائیں گی ۔ مثلاً روز گار سکیم ، منشیات کے خلاف مہم وغیرہ۔
۱۱۔ یوتھ کے لیے میڈیا پالیسی بنائی جائے گی ، جس کے مطابق افراد کو ٹریننگ دی جائے گی ، الیکٹرانک میڈیا پر یوتھ کے لیے پروگرامات کامنعقد کرائے جائیں گے ، سوشل میڈیا کے بہترین استعمال کے لیے بہتر منصوبہ بندی ، ٹریننگ کا اہتمام اور تحریک کے تمام شعبوں کے درمیان کوآرڈی نیشن کو بہتر بنایاجائے گا۔
۸۔خواتین میں کام:
۱۔ خواتین یوتھ بورڈ قائم کیاجائے گا اور خواتین میں کام کو خصوصی اہمیت دی جائے گی ۔ امیرجماعت ان کے کام کی خود نگرانی کریں گے ۔
۲۔ خواتین نظم سے رابطہ اور بھرپور معاونت کے لیے ہر سطح پر مردانہ ذمہ داران کا تقرر اور خواتین کا نظم قائم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
۳۔ خواتین کے کام میں پیش رفت کے لیے اضلاع کو ہدف دیاجائے گا۔ (تفصیلات حلقہ خواتین طے کرے گا۔)
۴۔ خواتین ارکان ،کارکنان اور ووٹرز کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ سال رواں کا ہدف ہوگا۔
۵۔ فہم قرآن و سنت کلاسوں میں بھرپور شرکت اور ان کو ووٹر بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
۶۔ اسلامی تہذیب کے احیاء اور خاندانی استحکام کے لیے اقدامات اور ناخواندہ خواتین میں ترجیحاً کام بھی اہم ہدف ہوگا۔
۷۔ ٹارگٹ انتخابی حلقوں میں کام پر فوکس کیاجائے گااور پولنگ اسٹیشن تک 100%نظم کے قیام کو یقینی بنایا جائے گا۔
۸۔ خواتین کی تمام برادر و ذیلی تنظیمات، شعبہ جات اور تعلیمی اداروں کی سرگرمیوں میں الیکشن 2018 ء پر ہی فوکس رہے گا۔
۹۔ بلدیات میں منتخب خواتین اور دیگر مؤثر خواتین کو ووٹر سازی کے لیے متحرک کیاجائے گا۔
۱۰۔ ملکی تناظر اور حلقہ جات میں عوامی خدمت بالخصوص خواتین کے لیے منصوبوں اور کاموں کی تشہیر کا مناسب اہتمام کیاجائے گا۔
۱۱۔ نئی ووٹر سازی کرنا اور ۱۸سال کی عمر کو پہنچنے والی خواتین کے ووٹوں کا اندراج کروایاجائے گا۔

۹۔مینارٹیز:
۱۔ ’’اقلیتی ونگ‘‘ کے لیے مرکز، صوبوں، اضلاع اورٹارگٹ انتخابی حلقے کی سطح پر ناظمین شعبہ کا تقرراور انہیں متحرک کیاجائے گا۔
۲۔ اقلیتی برادری کو جماعت اسلامی کا ووٹربنانے کی کوشش کی جائے گی اور بااثرافراد کے ساتھ خصوصاً قریبی تعلقات قائم کیے جائیں گے۔
۳۔ اقلیتی برادری کو جماعت اسلامی کے قریب لانے کے لیے بڑے شہروں اورٹارگٹ انتخابی حلقوں میں خصوصی اقدامات کیے جائیں گے اور اُن کی آبادیوں میں فلاحی کام کیے جائیںگے۔
۱۰۔قومی اُمور/سیاسی اُمور/انتخابات:
۱۔ انتخابی نظام میں اصلاحات کے لیے 23مارچ سے بڑی عوامی تحریک (رابطہ عوام مہم )چلائی جائے گی اور دیگر مؤثر ذرائع اختیار کیے جائیں گے۔
۲۔ یکم تا 15مارچ ملک گیر ’’خوشحال پاکستان فنڈ‘‘ مہم چلائی جائے گی۔نیز مرکزی، صوبائی، ضلعی اور انتخابی حلقہ جات کی سطح پر ’’الیکشن فنڈ‘‘قائم کیا جائے گا۔
۳۔ حکومت 15۔ مارچ سے ملک میں مردم شماری کا آغا ز کررہی ہے ۔ جماعت اسلامی کے کارکنوں کو اس کی شفافیت کے لیے بھرپور ادا کردار ادا کرنا ہوگا۔
۴۔ ’’100ووٹرزفی کارکن‘‘ کے ہدف کے حصول کو یقینی بنایاجائے گا، ان شاء اللہ۔
۵۔ ’’اسلامی پاکستان… خوشحال پاکستان‘‘ کے فلاحی ایجنڈا کو عوام تک پہنچانے کے لیے تقریر، تحریر اور میڈیا کا بھرپوراستعمال کیاجائے گا۔
۶۔ مرکز، صوبہ اور اضلاع کی سطح پر الیکشن سیل قائم کیاجائے گا۔اور گروپ لیڈرز کے چناؤ اور ان کی تربیت کے لیے مستقل پروگرام وضع کیاجائے گا۔
۷۔ اتحاد اُمت اور خیر و بھلائی کی قوتوں سے مضبوط روابط استوار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
۸۔ ٹارگٹ حلقہ جات کو دعوتی، تنظیمی، تربیتی ،فلاحی اور سیاسی سرگرمیوں کا مرکز بنانے ، اُن کے ماہانہ جائزے کا مربوط نظام تشکیل دینے اور منظم دورے کرنے کا اہتمام کیا جائے گا۔(تفصیلات صوبہ جات طے کریں گے۔ )
۹۔ ٹارگٹ انتخابی حلقوں میں کارکنوں کے لیے’’ Capacity Building Programmes‘‘کااہتمام کیاجائے گا۔
۱۰۔ منتخب گروپ لیڈرز کے لیے ’’Capacity Building Programmes‘‘منعقد کیے جائیں گے۔
۱۱۔ جماعت اسلامی ہر سطح پر اپنی تمام سرگرمیوں کواس طرح ترتیب دے کہ اس کے گروپ لیڈرزحقیقی حلقہ جاتی لیڈرشپ کے طور پر نمایاں ہوں۔
۱۲۔ بڑے شہروں اور ٹارگٹ انتخابی حلقوں میں عوامی سوچ اور جماعت اسلامی کی سیاسی پذیرائی کو جاننے کے لیے (Surveys) کااہتمام کیاجائے گا۔
۱۳۔ جماعت اسلامی کے گروپ لیڈرزاورنمائندگان کے سامنے مستقل ایجنڈے کے طور پر درج ذیل اُمور پیش نظر رہنے چاہئیں۔
(i)۔ہرانتخابی حلقے میںعوام کے اہم مسائل کا مکمل ادراک اور عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے خواتین اور نوجوانوں کے مسائل، ظلم، کرپشن ، منشیات اور شہریوں کے استحصال کے خلاف مؤثرجدوجہدجاری رکھی جائے ۔
(ii)۔تھانہ، یونین کونسل اور تحصیل(زون) کی سطح پر عوام کی خدمت کے لیے اہل افراد کی تقرری اور مستقل موجودگییقینی بنائی جائے ۔
(iii)۔عوامی مسائل کے حل کے لیے ہرٹارگٹ انتخابی حلقہ میں’’پبلک سیکرٹریٹ/عوامی مرکز‘‘ کاقیام عمل میں لایا جائے ۔
(iv)۔نئے ووٹوں کے اندراج، انتخابی فہرستوں کی درستی اور پولنگ سٹیشن کی سطح پر تنظیم کے قیام کا کام مسلسل جاری رکھاجائے۔
۱۱۔میڈیا:
۱۔ تنظیم کی ہر سطح پر ناظم نشرواشاعت کا تقرر، اس کی معاونت کے لیے مؤثر افراد پر مشتمل کمیٹی کی تشکیل ۔
۲۔ سوشل میڈیا کا ذوق رکھنے والے نوجوانوں کی تلاش اور ان کی صلاحیتوں سے استفادہ۔
۳۔ ہر ٹارگٹ حلقہ میں ۲۰۰ نوجوانوں کو سوشل میڈیا کے ساتھ متحرک کیاجائے گا۔(صوبائی و ضلعی نظم تفصیلات طے کرے گا۔ )
۴۔ 2018ء کے انتخابات کے تناظر میں شعبہ کی تشکیل نوخصوصی اقدامات اور ضرورت کے مطابق تکنیکی آلات اور خصوصی بجٹ کی فراہمی۔
۵۔ ضلعی وزونل ناظمین شعبہ کے لیے صوبائی تربیتی ورکشاپس کا اہتمام ۔
۶۔ اخبارات اور ٹی وی چینلز سے بھرپورروابط اور جماعت کی سرگرمیوں کی کوریج بڑھانے کے لیے مستقل کوشش۔
۷۔ میڈیا پرنمائندگی اور ٹاک شوز میں شرکت کے لئے ٹیم میں اضافہ، ٹریننگ اور مانیٹرنگ کا اہتمام۔
۱۲۔مرکز جماعت:
۱۔ ’’ شعبہ تجزیہ وتحقیق ‘‘جماعت اسلامی کے کام کو وسیع ، منظم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے کام کرے گا۔
۲۔ مرکزی شوریٰ کی قائمہ ودیگر کمیٹیوں کی ورکنگ کو بہتر کرتے ہوئے نتیجہ خیز کام کی کوشش کی جائے گی۔
۳۔ مرکز جماعت کے شعبہ جات او راداروں کی کارکردگی کو وژن، واضح اہداف اور سالانہ پلاننگ کے ذریعے بہتر بنایاجائے گا۔
۴۔ محترم امیرجماعت کے مشیر/جماعت اسلامی کے ترجمان(Spokesperson) اپنے شعبے میں متحرک کرداراداکریں گے۔
۵۔ مرکزی نظم جماعت ٹارگٹ حلقہ جات اور اضلاع کے مربوط دورے کا اہتمام کرے گا۔
۶۔ بیرون ملک پاکستانیوں میں دعوت اور انتخابات 2018ء کو پیش نظر رکھ کر کام میں توسیع اور استحکام کے لیے مربوط کوششیں کی جائیں گی۔
۷۔ جماعت کے وفد کے دورہ ترکی کے حوالے سے منصوبہ کمیٹی کی منظور شدہ رپورٹ منصوبہ عمل کا حصہ ہوگی۔
۱۳۔تعلیم اور تعلیمی ادارے:
۱۔ نظام تعلیم کی اصلاح اور اسے قرآن و سنت اور نظریہ پاکستان پر استوار کرنے کے لیے اقدامات طے کیے جائیں گے۔تاکہ جماعت کی دعوت کے نفوذ ہو، سپورٹ اور ووٹوں میں اضافہ ہو۔
۲۔ ان اداروں میں طلبہ و طالبات کی تربیت اس طریقے سے کی جائے مثبت اور نظریاتی کہ وہ اسلام کاآفاقی پیغام والدین اور عوام تک بنانے کاذریعہ بنیں ۔
۳۔ جماعتی نظم کے تحت چلنے والے اداروں کو افراد سازی اور عمومی ماحول پر مثبت اور نظریاتی اثرات مرتب کرنے کے اہداف دیے جائیں گے۔
۴۔ تحریکی اداروں میں اساتذہ کرام کی نظریاتی تربیت کے ذریعے انہیں تحریک کی فکر سے قریب کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔
۵۔ مرکزی تعلیمی کمیٹی ان اُمور پر عملی منصوبہ بنا کر نظم جماعت کو فراہم کرے گی اور اُن کو منصوبہ عمل کاحصہ بنایاجائے گا۔
۱۴۔خدمت خلق:
۱۔ عوامی بہبود کے منصوبوں کو پھیلانے کی بجائے نمایاں اور معیاری ماڈلزترتیب دئیے جائیںگے اور ٹارگٹ انتخابی حلقوں کو فوکس کیا جائے گا۔
۲۔ الخدمت کے ذمہ داران رفاہی سرگرمیاں انجام دیتے ہوئے بھی اپنے دعوتی مقام کاادراک رکھیں تاکہ یہ ساراکام تعلق باللہ، انسانیت سے محبت اور ان کی اصلاح کی طلب کا عنوان بن جائے۔
۳۔ جماعت اسلامی اور الخدمت کے ذمہ داران مشترکہ وژن، بہتر مشاورت اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ ان سرگرمیوں کو اس طرح ڈیزائن کریںکہ جماعت اسلامی کے ووٹوں میں اضافہ ہوتا نظر آئے۔
۱۵۔برادرتنظیمات/ شعبہ جات:
۱۔ برادرتنظیمات، شعبہ جات اور ادارے، جماعت اسلامی کے سالانہ منصوبہ 2017ء کو اس طرح اپنی سرگرمیوں او راہداف میں شامل کریں کہ مجموعی طور پر نتائج جماعت اسلامی کے اہداف سے ہم آہنگ ہوسکیں اورجماعت اسلامی کے ووٹوں میں اضافہ کا باعث بن سکیں۔
۲۔ کسانوں ،مزدوروں اور ماہی گیروں میں دعوت کو توسیع دینے اور منظم کرنے کے لیے عوامی نوعیت کی سرگرمیاں ترتیب دی جائیں۔
۳۔ برادرتنظیمات کے تیار کردہ افراد کو جماعت اسلامی میں سمونے اور متحرک کرنے کا منظم اہتمام کیاجائے ۔
۴۔ برادرتنظیمات کے ساتھ مرکزی اور صوبائی سطح پر 2جبکہ اضلاع میں 3اجلاس ہوںگے۔
۱۶۔مساجد و مدارس :
۱۔ ملک بھر کی مساجد ومدارس کے اعداد وشماراکٹھے کیے جائیں گے اور منبر و محراب کو ہم نوابنانے کی کوشش کی جائے گی۔
۲۔ خطباء ،ائمہ مساجد کی تیاری اور تربیت اورتحریکی مقاصد کے لئے مدرسین تیار کیے جائیں گے۔(صوبہ جات اس کامنصوبہ بنائیں گے۔ )
۳۔ مہتممین و ناظمین مدارس کے لیے سہ روزہ تربیتی کورس کا اہتمام کیاجائے گا۔
۴۔ جماعت کے زیر انتظام چلنے والے مدارس و مساجد کے انتظام وانصرام کو مثالی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
۱۷۔قومی وملی ایام:
۱۔عشرہ سیرت النبیؐ: یکم تا۱۲ربیع الاول ۱۴۳۸ھ (دسمبر۲۰۱۶ء)۔۲۔یوم یکجہتی کشمیر: ۵؍فروری ۳۔یوم خواتین: ۸؍مارچ
۴۔یوم باب الاسلام: ۱۰؍رمضان المبارک ۵۔نوجوانوں کا عالمی دن: ۱۲؍اگست ۶۔یوم آزادی: ۱۴؍اگست
۷۔یوم حجاب: ۴؍ستمبر ۸۔یوم تاسیس جماعت :۲۶؍اگست ۹۔یوم اقبالؒ: ۹؍نومبر
۱۰۔یوم سقوط ڈھاکہ: ۱۶؍دسمبر
۔ درج بالاایام (7تا10)صوبوں کے تحت اس طرح منائے جائیں کہ ضلع میں پروگراموں کے ساتھ ساتھ صوبائی اور ڈویژنل صدر مقامات پر اس دن کے حوالے سے کم از کم ایک نمایاں سرگرمی ضرور منعقد ہو۔
۱۸۔انفرادی اہداف:
۱۔نمازباجماعت اور مطالعہ قرآن کا روزانہ اہتمام۔ ۲۔جھوٹ اور غیبت سے اجتناب۔ ۳۔والدین کا احترام اور اہل خانہ کی تربیت۔
۴۔کمزوراور ضرورت مند کی امداد۔ ۵۔رزقِ حلال کے کلچرکی ترویج ۶۔ہر کارکن کی طرف سے 100ووٹرز کااضافہ۔
٭ صوبہ جات ہرکارکن تک ان اہداف کو پہنچانے کا میکنزم بنائیں گے۔

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں









سوشل میڈیا لنکس