Jamaat-e-Islami Pakistan | English |


تفصیل


اسلامی پاکستان…خوشحال پاکستان
۱۔مرکزی خیال(وژن) 2018ء:
٭ ۱۔’’اسلامی پاکستان، خوشحال پاکستان‘‘ کے تصوراورجذبے کو بیدار کرنااور عوام کو نظام کی تبدیلی کے لیے تیار کرنا۔
٭ ۲۔’’کرپشن فری پاکستان‘‘ کو عوامی مطالبہ بنانا۔
٭ ۳۔جماعت اسلامی کو بڑی عوامی اور مؤثر پارلیمانی قوت بنانا ۔
۲۔اجتماعی اہداف:
۱۔ تعلق باللہ میں اضافہ، معاشرتی رویّوں میں بہتری اور جماعت اسلامی کے حلقہ اثر میں وسعت پیدا کرنا۔
۲۔ 2018ء انتخابات کاسال ہے تاہم امکان ہے کہ انتخابات 2017ء میں ہی منعقد ہوجائیں۔ اس لیے 2017ء میں انتخابات کی تیاری اور
ایک قابل قدر انتخابی کامیابی ہدف ہوگا ۔لہٰذا تمام سرگرمیوں کو انتخابات پر فوکس کرنا۔
۳۔ ملک بھر میں کارکنان جماعت کی تعدادکا تعین کرنااورسالانہ 33%اضافہ کا ہدف حاصل کرنا۔
۴۔ پولنگ سٹیشن تک نظم کا قیام یقینی بنانا۔
۵۔ دعوت، تنظیم، تربیت، خدمت اور سیاسی جدوجہد سمیت تمام دائروں میں طویل المیعاد منصوبہ (وژن2028ء) کی تیاری۔
۳۔دعوت:
۱۔ 23مارچ سے ایک مؤثر ’’رابطہ عوام مہم‘‘ چلائی جائے گی ۔ مہم کا محور’’اسلامی پاکستان …خوشحال پاکستان …کرپشن فری پاکستان‘‘ ہوگا۔مالی اور اخلاقی کے علاوہ انتخابی کرپشن بھی ہدف ہو گا۔ (تفصیلات الگ سے فراہم کی جائیں گی۔)
۲۔ کارکنان ذاتی دعوتی حلقہ قائم کرکے بتدریج گھر، مسجد اور پولنگ سٹیشن کی سطح پر کام کو ترجیح دیںاور 100ووٹرز بنانے کا ہدف پورا کریں۔
۳۔ مؤثر طبقات میں مرد و خواتین کو خصوصی ہدف بنا کر کام کیاجائے گا۔ (شعبہ تعلقات عامہ تفصیلات ارسال کرے گا۔)
۴۔ صوبائی حلقوں کی سطح پر نظم خواتین کے تعاون سے ’’فیملی پروگرام‘‘ میں کارکنان اور عام افراد کو بمعہ اہل خانہ شریککیاجائے گااور اسے مسلسل رواج دیاجائے۔
۵۔ ترجمہقرآن ، ترجمان القرآن، ایشیا، بتول اور تحریکی لٹریچرکی وسیع پیمانے پر اشاعت وتقسیم اور تعداد میں اضافہ کا اہتمام کیا جائے گا۔ اِس مقصد کے لیے ضلعی، زونل اور مقامی سطح پر ذمّہ داران کا تقررکیاجائے گا اور سالانہ بجٹ میں خاطر خواہ رقم مختص کی جائے گی۔
۶۔ اس سال مولانا مودودیؒ کا تحریرکردہ کتابچہ ’’سلامتی کا راستہ ‘‘ عوام الناس میں بڑے پیمانے پر تقسیم کیاجائے گا۔ ہدف کم ازکم 10لاکھ ہوگا۔
۴۔استحکام تنظیم:
۱۔ ٹارگٹ حلقہ جات میں پولنگ اسٹیشن کی سطح تک تنظیم کا100فیصد قیام یقینی بنایاجائے گا۔
۲۔ مرکز میں منصوبہ عمل 2017ء پر عمل درآمدکے لیے مرکزی قائمہ کمیٹی برائے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ مؤثر میکنزم تشکیل دے گی۔
۳۔ ہر سطح پر جماعتی سرگرمیوں اوران کے نتائج کا طے شدہ اہداف کی روشنی میں سہ ماہی جائزہ لیاجائے گا۔
۴۔ بہتر تقسیم کار اور متحرک ٹیم کے ذریعے اہداف کے حصول کو یقینی بنایاجائے گانیز متبادل قیادت کی تیاری کا اہتمام کیا جائے گا۔
۵۔ ارکان کی تربیت، باہمی تعلقات کے فروغ، تنظیمی مسائل کی بروقت اصلاح اور جوابدہی کے تصور کو فروغ دیاجائے گا۔
۵۔فہم قرآن وسنت :
۱۔ مرکز اور صوبہ جات کے زیر اہتمام ’’ شعبہ فہم دین کی ورکشاپس ‘‘منعقد کی جائیں گی۔
۲۔ اہم زون/ ٹارگٹ انتخابی حلقوں میں ہر مقامی جماعت، کم از کم ایک فہم قرآن کلاس منعقد کرے گی(اس تعداد میں اضافہ کی کوشش کی جائے )۔ موضوعات میں انتخابات کی اہمیت اور حرمت سود کو شامل کیاجائے گا۔
۳۔ ان کلاسزکے ذریعے اس سال 25لاکھ افراد تک پہنچا جائے گا۔اور انہیں ووٹر بنانے کی منظم کوشش کی جائے گی۔
پنجاب:10لاکھ خیبرپختونخوا:10لاکھ سندھ:5لاکھ بلوچستان:50ہزار
۶۔تربیت وتزکیہ:
۱۔ داعیانہ تڑپ، ذاتی زندگی، عبادات، اخلاق وکردار، معاملات اور رجحانات کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کے لیے ارکان وکارکنان سے انفرادی ملاقاتوں، ہفتہ وار/ ماہانہ رپورٹس اورزون کی سطح پر مستقل تربیتی پروگرامز کااہتمام کیاجائے گا۔
۲۔ تربیتی کمیٹی کی سفارش کے تحت ذمہ داروں کی تربیت اور تذکیر کے لیے خط جاری کیاجائے گا۔
۳۔ مرکز کے تحت صوبائی وضلعی ذمّہ داروں کے لیے تین روزہ ’’لیڈرشپ ٹریننگ ورکشاپ‘‘ 10تا12فروری کو منعقدکی جائے گی۔
۴۔ تربیتی نظام میں موضوعاتی تربیت اور شعبہ جاتی تربیت خصوصاً مالیات کا اضافہ کیاجائے گا۔ تربیتی نظام کی اثر پذیری جانچنے کا نظام بنایاجائے گا۔
۵۔ قیادت کی تربیت کے لیے مرکز میں مستقل تربیتی ادارے کا قیام عمل میں لایاجائے گا۔
۶۔ ماہانہ مرکزی تربیت گاہ کو مقاصد اور موضوعات کے اعتبار سے مزید مؤثر بنانے کے لیے مانیٹرنگ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ جس کی سفارشات کی روشنی میں اقدامات کیے جائیں گے۔ اِس سال شرکاء میں مزید اضافہ کی کوشش کی جائے گی۔ (صوبہ جات اضلاع کے لیے اہداف طے کریں گے۔(

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں

سوشل میڈیا لنکس