Jamaat-e-Islami Pakistan | English |

دعوت

·       ہماری دعوت کیاہے؟
ہماری دعوت کے متعلق عام طور پر جوبات کہی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم حکومت الٰہیہ کے قیام کی دعوت دیتے ہیں۔حکومت الٰہیہ کالفظ کچھ تو خود غلط فہمی پیدا کرتا ہے اور کچھ اسے غلط فہمی پیدا کرنے کا ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ لوگ یہ سمجھتے  ہیں اور انہیں ایسا سمجھایا بھی جاتا ہے کہ حکومت الٰہیہ سے مراد محض ایک سیاسی نظام ہے اور ہماری غرض اس کے سوااور کچھ نہیں ہے کہ موجودہ نظام کی جگہ وہ مخصوص سیاسی نظام قائم ہو۔ پھرچونکہ اس سیاسی نظام کے چلانے والے لامحالہ ہی مسلمان ہوں گے جو اس کے قیام کی تحریک میں حصہ لے رہے ہوں ، اس لیے خود بخود اس تصورمیں سے یہ معنی نکل آتے ہیں یا ہوشیاری سے نکال لیے جاتے ہیں کہ ہم محض حکومت چاہتے ہیں۔ اس کے بعد ایک دین دار وعظ ہوتا ہے اور ہم سے کہا جاتا ہے کہ تمہارے پیش نظر محض دنیا ہے۔ حالانکہ مسلمان کے پیش نظر دین اور آخرت ہونی چاہیئے اوریہ کہ حکومت طلب کرنے کی چیز نہیں ہے بلکہ ایک انعام ہے جو دین دار زندگی کے صلے میں اللہ کی طرف سے مل جاتا ہے ۔ یہ باتیں کہیں تو نافہمی کے ساتھ کی جاتی ہیں اور کہیں نہایت ہوشمندی کے ساتھ اس غرض کے لیے کہ اگر ہمیں نہیں تو کم سے کم خلق خدا کے ایک بڑے حصے کو بدگمانیوں اور غلط فہمیوں میں مبتلا کیاجائے، حالانکہ اگر کوئی شخص ہمارے لٹریچر کو کھلے دل کے ساتھ پڑھے تو اس پر باآسانی یہ بات کھل سکتی ہے کہ ہمارے پیش نظر صرف ایک سیاسی نظام کا قیام نہیں ہے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ پوری انسانی زندگی....انفرادی اور اجتماعی زندگی....میں وہ ہمہ گیر انقلاب رونما ہوجو اسلام رونما کرناچاہتا ہے، جس کے لیے اللہ نے اپنے انبیاءکو مبعوث کیا تھا اور جس کی دعوت دینے اور جدوجہد کرنے کے لیے ہمیشہ انبیاءعلیھم السلام کی امامت و رہنمائی میں امت مسلمہ کے نام سے ایک گروہ بنتا رہا ہے۔
دعوت اسلامی کے تین نکات

اگرہم اپنی اس دعوت کو مختصر طور پر صاف اورسیدھے الفاظ میں بیان کرنا چاہیں تو یہ تین نکات(Points)پر مشتمل ہوگی
(1)
یہ کہ ہم بندگان خداکو بالعموم اور جوپہلے سے مسلمان ہیں،ان کو بالخصوص اللہ کی بندگی کی دعوت دیتے ہیں۔
(2)
یہ کہ جو شخص بھی اسلام قبول کرنے یا اس کوماننے کادعویٰ یااظہار کرلے، اس کوہم دعوت دیتے ہیں کہ وہ اپنی زندگی سے منافقت اور تناقض کو خارج کر دے اور جب وہ مسلمان ہے ، یا بنا ہے تو مخلص مسلمان بنے،اوراسلام کے رنگ میں رنگ کر یک رنگ ہوجائے۔
(3)
یہ کہ زندگی کانظام جوآج باطل پرستوں اور فساق و فجار کی رہنمائی اور قیادت و فرمانروائی میں چل رہاہے اور معاملات دنیا کے نظام کی زمام کار جو خدا کے باغیوں کے ہاتھ میں آگئی ہے،ہم یہ دعوت دیتے ہیں کہ اسے بدلا جائے اور رہنمائی و امامت نظری و عملی دونوں حیثیتوں سے مومنین وصالحین کے ہاتھ میں ہو۔
یہ تینوں نکات اگرچہ اپنی جگہ بالکل صاف ہیں، لیکن ایک مدت دراز سے ان پر غفلتوں اورغلط فہمیوں کے پردے پڑے ہوئے ہیں۔اس لیے بدقسمتی سے آج غیر مسلموں کے سامنے ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کے سامنے بھی ان کی تشریح کی ضرورت پیش آگئی ہے۔
ہماری دعوت

   
مسلمانوں کو ہم جس چیز کی طرف بلاتے ہیںوہ یہ ہے کہ وہ ان ذمہ داریوں کوسمجھیں اور ادا کریں جو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ان پر عائد ہوتی ہیں ۔ وہ ذمہ داریاں کیا ہیں؟وہ صرف یہی نہیں ہیں کہ آپ نکاح ،طلاق،وراثت وغیرہ کے معاملات میں اسلام کے مقرر کیے ہوئے ضابطے پر عمل کریں۔بلکہ ان سب کے علاوہ ایک بڑی اور بہت بھاری ذمہ داری آپ پر یہ بھی عائد ہوتی ہے کہ آپ تمام دنیا کے سامنے اس حق کے گواہ بن کر کھڑے ہوں جس پر آپ ایمان لائے ہیں۔مسلمان کے نام سے آپ کو ایک مستقل امت بنانے کی واحد غرض جو قرآن میں بیان کی گئی ہے کہ وہ یہی ہے کہ آپ تمام بندگان خدا پرشہادت حق کی حجت قائم کریں۔
     
اسی شہادت کے لیے انبیاءعلیھم السلام دنیا  میں بھیجے گئے تھے اور اس کا ادا کرنا ان پر فرض تھا۔پھر یہی شہادت تمام انبیا ءکے بعد ان کی امتوں پر فرض ہوتی رہی اور اب خاتم النبیینﷺ کے بعد یہ فرض اب امت مسلمہ پر بحثیت مجموعی اسی طرح عائد ہوتا ہے جس طرح حضورﷺ پر آپ زندگی میں شخصی حیثیت سے عائد ہوا تھا۔حق کی یہی وہ ذمہ داری ہے جس کے لیے جماعت اسلامی قائم ہوئی۔انفرادی طور پر افراد اور مختصر سے دائرے کے اندرادارے پہلے بھی نیکی اور اصلاح کا کام کررہے ہیں، لیکن جماعت کی دعوت یہ ہے یہ کام محدودسے دائرے میں نہیں بلکہ زندگی کے وسیع میدانوں میں اجتماعی طور پر پوری امت ادا کرے۔اور اپنے قول وعمل سے شہادت حق کی ذمہ داری کو پورا کرے جو اس کو خاتم النبیینﷺ کی طرف سے سونپی گئی ہے۔ یہ قولی و عملی شہادت اس وقت مکمل ہوسکتی ہے جب کہ ایک اسٹیٹ انہی اصولوں پر قائم ہوجائے اور وہ پورے دین کو عمل میں لاکر اپنے عدل اورانصاف سے اپنے اصلاحی پروگرام سے، اپنے حسن انتظام سے، اپنے امن سے ،اپنے باشندوں کے فلاح و بہبودسے، اپنے حکمرانوں کی نیک سیرت سے، اپنی صالح داخلی سیاست سے ، اپنی راست بازانہ خارجہ پالیسی ، اپنی شریفانہ جنگ سے اور اپنی وفادارانہ صلح سے ساری دنیا کے سامنے اس بات کی شہادت دے کہ جس دین نے اس اسٹیٹ کو یہ سب کچھ دیا ہے وہ درحقیقت انسانی فلاح کا ضامن ہے اور اسی کی پیروی میں نوع انسانی کی بھلائی ہے۔
   
یہ ہے وہ حکومت الٰہیہ جسے جماعت اسلامی نے اپنا نصب العین بنایااورشہادت حق کا وہ فریضہ جس کی ادائیگی کی طرف مسلمانوں کو دعوت دے رہی ہے ۔ یہی دعوت انبیاءکرام لے کر آئے تھے ، اسی کی شہادت نبی ﷺ نے حجة الوداع کے موقع پر مجتمع امتیوں سے لی تھی اور پوچھا تھا کہ کیا میں نےحق کا پیغام آپ لوگوں تک پہنچا دیا ہے“ ۔ اور جب انہوں نے جواب دیا کہپہنچا دیا ہے۔           
       
تو آپ نے فرمایا"اے اللہ گواہ رہنا"۔
جماعت اسلامی کی دعوت کے بنیادی نکات

   
اس مقصد اور نصب العین تک پہنچنے کے لیے جماعت اسلامی مسلمانوں کو جو دعوت دیتی ہے وہ تین امور پر مبنی ہے۔
اول یہ کہ بندگان خدا بالخصوص مسلمان اللہ کی بندگی اختیار کریں۔
 
دوسرا یہ کہ اسلام قبول کرنے اور اس کو ماننے کا دعویٰ کرنے و الے اپنی زندگیوں کو تناقض ،تضادات اور منافقت سے پاک کریں اور مخلص مسلمان بن کر اسلام کے رنگ میں یک رنگ ہوجائیں۔
تیسرا یہ کہ زندگی کے باطل نظام کو جو باطل پرستوں اور فساق و فجار کی قیاد ت میں چل رہا ہے اورمعاملات کی زمامِ کارجو خدا کے باغیوں کے ہاتھ میں آگئی ہے اسے بدلا جائے اور رہنمائی اور امامت ،نظری اورعلمی دونوں حیثیتوں سے مومنین صالحین کے ہاتھ میں منتقل ہوجائے۔یہ تیسرا اور آخری کام اسی وقت انجام دیا جاسکتا ہے جب اہل اسلام کا ایک ایسا گروہ منظم کیاجائے جو نہ صرف اپنے اپنے ایمان میں پختہ اور نہ صرف اپنے اسلام میں مخلص اور یک رنگ اور نہ صرف اپنے اخلاق میں صالح و پاکیزہ ہوبلکہ اس کے ساتھ ان تمام اوصاف اور قابلیتوں سے بھی آراستہ ہو جو دنیا کی کارگاہِ حیات کو بہترین طریقے پر چلانے کے لیے ضروری ہیں،صرف آراستہ ہی نہ ہوبلکہ موجودہ کارفرماؤں اورکارکنوں سے ان اوصاف اور قابلیتوں میں اپنے آپ کو فائق ثابت کردے
جماعت اسلامی مستقل طریقہ کار

۱۔وہ کسی امر کا فیصلہ کرنے یا کوئی قدم اٹھانے سے پہلے یہ دیکھے گی کہ خدا اور رسول ﷺ کی ہدائت کیا ہے۔دوسری ساری باتوں کو ثانوی حیثیت سے صرف اس حد تک پیش نظر رکھے گی جہاں تک اسلام میں اس کی گنجائش موجود ہو۔
۲۔اپنے مقصد اور نصب العین کے حصول کے لےے جماعت کبھی ایسے ذرائع اور طریقوں کواستعمال نہیں کرے گی جو صداقت اور دیانت کے خلاف ہوں، یا جن سے فساد فی الارض رونما ہونے کا اندیشہ ہو۔
۳۔جماعت اپنے پیش نظر اصلاح اور انقلاب کے لیے جمہوری اور آئینی طریقوں سے کام کرے گی۔یعنی یہ کہ تبلیغ و تلقین اور اشاعت افکار کے ذریعے سے ذہنوں اور سیرتوں کی اصلاح کی جائے اور رائے عامہ کو ان تغیرات کے لیے ہموارکیاجائے جوجماعت کے پیش نظر ہیں۔
۴۔جماعت اپنے نصب العین کے حصول کے لیے جدوجہد خفیہ تحریکوں کی طرز پر نہیں کرے گی،بلکہ کھلم کھلا اور اعلانیہ کرے گی۔

 

 
 
 
 
     ^واپس اوپر جائیں







سوشل میڈیا لنکس